برطانوی سفارتکار کوہٹادیاگیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں برطانوی ہائی کمیشن نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ برطانوی سفارتخانے کے ملٹری اتاشی کو ان کے خراب چال چلن کی وجہ سے ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ برطانوی سفارتخانے کے ترجمان سائمن سمارٹ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بریگیڈیئر اینڈریو ڈرکنز کو اس سال ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا کیونکہ ان کے چال چلن کے بارے میں انکوائری کے بعد وہ ہائی کمیشن کا اعتماد کھو بیٹھے تھے۔انہوں نے اس بارے میں مزید تفصیلات بتانے سے انکار کیا اور کہا کہ نئے برطانوی ملٹری اتاشی نے برطانوی سفارتخانے میں اپنی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔ ترجمان سے جب یہ پوچھا گیا کہ یہ واقعہ کس مہینے یا کس تاریخ کو ہوا ہے تو انھوں نے اس بارے میں کچھ بھی کہنے سے گریز کیا۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کے یوروپین ڈیسک کے سربراہ محسن رضی کے مطابق اس واقعے کے بارے میں برطانیہ نے پاکستانی حکومت کو کوئی اطلاع نہیں دی تھی۔ برطانوی سفارتخانے کی تصدیق برطانیہ کے ایک اخبار سن میں چھپنے والی رپورٹ کے بعد آئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ برطانوی ڈیفینس اتاشی کو ایک پاکستانی خاتون انڈر کور ایجنٹ سے تعلق کے بعد ان کے عہدے سے ہٹایا گیا ہے۔ تاہم برطانوی ہائی کمیشن کے پریس کونسلر نے کہا ہے کہ وہ اس بات پر تبصرہ نہیں کر سکتے۔ برطانوی اخبار سن کے مطابق برطانوی ملٹری اتاشی کو پاکستانی خاتون جن کا نام نہیں بتایا گیا ہے، نے اپنے جال میں پھنسایا۔ تاہم اخبار کے مطابق ابھی تک یہ ثابت نہیں ہو سکا ہے کہ مذکورہ خاتون نے کوئی خفیہ معلومات حاصل کی تھیں یا نہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||