پاکستانی نژاد برطانوی گرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ سے فرار ہونے والے تین پاکستانی نژاد برطانوی بھائیوں کو پنجاب کے دو شہروں سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ برطانوی حکومت کو ان کی گرفتاری سے آگاہ کر دیا گیا ہے اور امکان ہے کہ انہیں جلد برطانیہ کے حوالے کر دیا جائے گا۔ لاہور کے سنیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس آپریشن عامر ذوالفقار نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ان کی گرفتاری کی تصدیق کی اور کہا کہ یہ تینوں ملزمان برطانوی حکومت کو مطلوب تھے انہوں نے کہا کہ یہ ملزمان برطانیہ میں قتل اور دیگر سنگین مقدمات میں ملوث ہیں اور چند مہینے پہلے گلاسکو میں قتل کے بعد برطانیہ سے فرار ہو کرپاکستان آگئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ملزمان یہاں لاہور اور ٹوبہ ٹیک سنگھ میں روپوش تھے جب انہیں گرفتار کیا گیا۔ لاہور پولیس کے آپریشن ونگ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے چھاپہ مار ٹیموں کی صرف مدد کی ہے اور لاہور پولیس کو اس کیس کے بارے کچھ زیادہ معلومات نہیں ہیں۔ تینوں بھائی برطانوی شہریت رکھتے ہیں اور بتایا گیا ہے کہ ان کی پیدائش بھی برطانیہ میں ہوئی تھی تاہم ان کے والدین کا تعلق پاکستان سے ہے جو اندرون لاہور کے رہائشی تھے۔ یہ ملزمان برطانیہ سے فرار ہونے کے بعد کئی مہینے تک لاہور کے اندرون شہر میں روپوش رہے اور نام بدل کر زندگی بسر کرتے رہے۔ لاہور کے ایک مقامی اردواخبارنے کوئی ایک ہفتہ پہلے تین افراد کی گرفتاری کی خبر شائع کی تھی جس کے مطابق ان میں سے ایک کو لاہور کے علاقے شادمان سے گرفتار کیا گیا جبکہ اس کی نشاندہی پر دیگر دو کو ٹوبہ ٹیک سنگھ سے حراست میں لیا گیا۔ اخبار کے مطابق انہیں پاکستان کی ایک خفیہ سیکیورٹی ایجنسی کے اہلکاروں نے حراست میں لیا۔ لاہور پولیس کے ایک افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ چوتھا ملزم دو روز پہلے ہی لاہور سے گرفتار ہوا ہے لیکن اس کی گرفتاری کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ ملزمان پر سائبر کرائم اور مختلف قسم کی دھوکہ دہی کے الزامات بھی ہیں اس کے علاوہ وہ سفید فام مخالف نسلی کارروائیوں میں ملوث بھی بتائے جاتے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||