پاکستانی نژاد برطانیوں کو مشورہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ میں پاکستان کی ہائی کمشنر ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے پاکستانی نژاد برطانوی شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ اگر وہ اپنا اثرو رسوخ بڑھانا چاہتے ہیں تو ان کو تعلیم کے حصول پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کو چاہیے کہ وہ برطانوی معاشرے میں زم ہونے کی کوشش کریں کیونکہ اپنے آپ کو علیحدہ رکھ کر وہ کچھ بھی حاصل نہیں کر پائیں گے۔ ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا کہ جس معاشرے میں آپ رہ رہے ہوں اس سے علیحدگی کوئی مثبت عمل نہیں ہے اور پھر کوئی اس وقت تک ان کی بات نہیں سنے گا جب تک وہ اس معاشرہ میں داخل نہیں ہو جاتے۔ یاکشائر پوسٹ کوا یک انٹرویو میں پاکستان کی ہائی کمشمنر نے کہا کہ کوئی بھی پاکستانی نژاد برطانیوں کو یہ نہیں کہہ رہا کہ وہ اپنا مذہب، اپنی ثقافت اور اپنی روایات کو چھوڑ دیں۔ یاکشائر کے شہر بریڈفورڈ پاکستانی نژاد برطانوی شہریوں کا گڑھ سمجھا جاتا ہے اور یاکشائر پوسٹ وہاں کا سب سے موقر اخبار مانا جاتا ہے۔ برطانیہ میں سات لاکھ پچاس ہزار پاکستانی نژاد باشندے ہیں جو برطانیہ کی کل آبادی کا ایک اعشاریہ پچیس فیصد ہیں۔ ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا کہ اگر پاکستانی نژاد برطانوی شہری یہ چاہتے ہیں کہ برطانیہ میں ان کی بات سنی جائے تو اس کے لیے ان کو برطانوی معاشرے میں شمولیت اختیار کرنی پڑے گی اور اپنے آپکو الگ تھلگ کرنے سے مسائل حل نہیں بلکہ بڑھتے رہیں گے۔ ّڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا پاکستانی نژاد برطانوی شہریوں کو تعلیم کے حصول پر مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے اور وہ صرف اور صرف تعلیم کے ذریعے برطانوی معاشرے میں اپنا اثرو رسوخ بڑھانے میں کامیاب ہو سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم انسان کو شعور اور اعتماد میہا کرتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انگریزی زبان سے واقفیت کا ہرگز مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ حاصل کرنے کے لیے اپنی زبان پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||