BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 08 August, 2005, 23:41 GMT 04:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ملزموں کے تبادلہ کا معاہدہ تیار‘

News image
ملزموں کے تبادلے کا معاہدہ کا لندن بم حملوں سے کوئی براہ راست تعلق نہیں ہے
پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق پاکستان اور برطانیہ کے مابین ایک دوسرے کو مطلوب ملزموں کے تبادلے کے معاہدے کو حتمی شکل دے جا رہی ہے۔

اسلام آباد میں ہفتہ وار اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر نعیم خان نے کہا کہ مطلوب ملزموں کے تبادلے کے معاہدے پر بات چیت پاکستان کی کوششوں سے شروع ہوئی تھی۔

پاکستان اور برطانیہ کے مابین مطلوب ملزموں کے تبادلے کے اتفاق رائے ان خبروں کے بعد سامنے آیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ سات جولائی کو لندن میں ہونے والے بم حملوں کے چار میں تین ملزم پاکستانی نژاد تھے اور انہوں نے پاکستان میں قائم مدرسوں کا دورہ کیا تھا۔

نعیم خان کے مطابق ملزموں کے تبادلے کے معاہدے سے برطانیہ سے پاکستانی نژاد افراد کی ملک بدری میں کمی آئے گی اور برطانیہ جانے کے خواہشمند پاکستانیوں، خصوصی طور پر سٹوڈنٹس کی ویزہ درخواستیں نپٹانے میں تیزی آئے گی۔

مسٹر نعیم خان نے یہ بھی اعلان کیا کہ پاکستان اور بھارت نے پیر کو لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی جاری رکھنے اور ایل او سی پر کوئی نئی چیک پوسٹ یا دفاعی تعمیرات نہ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

نعیم خان نے صحافیوں کو بتایا کہ دونوں ممالک کے حکام نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں روایتی ہتھیاروں کے بارے میں بات چیت کے دوران فیصلہ کیا کہ دونوں ممالک کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کے درمیان ہاٹ لائن کو اپ گریڈ کیا جائے گا اور کارگل، اڑی، نوشہرہ اور جموں میں ماہانہ فلیگ میٹنگ منعقد کی جائے گی۔

دونوں ملکوں کے حکام نے ایک دوسرے کی فضائی حدود کی خلاف ورزیاں نہ کرنے کے ایک پرانے معاہدے کی بھی توثیق کی۔

اس کے علاوہ دونوں ممالک نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ دونوں جانب سے لائن آف کنٹرول غلطی سے عبور کرنے والے افراد کو واپس کرنے کے عمل کو تیز کیا جائے گا اور اس بارے میں ایک تفصیلی لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔

دونوں ممالک کے حکام اعتماد بڑھانے کے اقدامات کا وقتاً فوقتاً جائزہ لینے پر بھی متفق ہو گئے ہیں۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے اس بات چیت کو انتہائی مفید قرار دیا اور کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف اور بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ کے درمیان گزشتہ ماہ کے آخر میں ہونے والی بات چیت میں بھی اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے رہنما اشتعال انگیز بیانات دینے سے گریز کریں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد