برطانوی سفارتکار کا مدرسے کا دورہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی میں برطانیہ کے ڈپٹی ہائی کمشنر نے ایک پاکستانی مدرسے کا دورہ کیا ہے۔ سات جولائی کے لندن میں حملوں کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے کہ کوئی مغربی سفارتکار کسی مدرسے میں گئے ہیں۔ کراچی کی جامعہ اسلامیہ نے برطانوی سفارتکار کو مدرسے میں آنے کی دعوت دی ہے اور کہا ہے کہ وہ ’خود ہی آ کے دیکھیں کہ مذہبی مدرسوں میں علم حاصل کرنے کی فضا کیسی ہے‘۔ ایسا لگتا ہے پاکستان کے مدرسے صدر مشرف کے مدرسوں کے متعلق اعلان کے بعد مغربی کی حمایت کے متمنی ہیں۔ یہ سب کچھ ان اطلاعات کے بعد ہو رہا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ لندن پر حملے کرنے والے مشتبہ بمباروں میں سے ایک پاکستان کے ایک مدرسے میں تعلیم حاصل کر چکے تھے۔ جامعہ اسلامیہ کے وائس چئرمین مفتی ابو ہریرا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہمیش ڈینیئل کا دورہ مغربی دنیا سے روابط بڑھانے کے عمل کا آغاز ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ نے مسٹر ڈینیئل کو لندن حملوں کے بعد ایک تعزیتی خط میں مدرسے میں آنے کی دعوت دی تھی۔ اب جامعہ نے ایک ایسے سیمینار کا منصوبہ بنایا ہے جس میں انتظامیہ ملک میں موجود ہر غیر ملکی سفارتکار کو بلانا چاہتی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||