BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 31 July, 2008, 01:57 GMT 06:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پولیس کا تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ

پولیس اہلکار(فائل فوٹو)
ملک بھر میں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو مختلف تنظیموں کی طرف سے حملوں کا سامنا ہے
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں بدھ کو پولیس اہلکار بھی سڑکوں پر نکل آئے اور انہوں نے حکومت سے پولیس کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نےگزشتہ روز شہر میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ٹریفک پولیس کے ایک اہلکار کی ہلاکت کے خلاف فرائض سرانجام دینے سے بھی انکار کر دیا۔

ٹریفک پولیس اہلکاروں کی بڑی تعداد نے جلوس نکال کر منان چوک پر احتجاجی مظاہرہ کیا اورمطالبہ کیا کہ ٹریفک پولیس اہلکاروں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے جبکہ قاتل ابھی تک گرفتار نہیں ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی جانیں غیر محفوظ ہوگئی ہیں لیکن اس کے باوجود وہ سرکاری ڈیوٹی انجام دیتے ہیں۔ ان کے مطابق پولیس اہلکاروں کو باقاعدہ ایک منصوبے کے تحت قتل کیا جارہا ہے۔

کلاشنکوفیں
 حال ہی میں صوبائی حکومت نے کوئٹہ شہرمیں ٹریفک پولیس کو کلاشنکوفیں فراہم کی ہیں تا کہ وہ اپنی حفاظت خو د کر سکیں لیکن ٹریفک کے ساتھ ساتھ کلاشنکوف سنبھالنے سے ٹریفک پولیس کی ذمہ داریاں بڑھ تو گئی ہیں مگر ان پر حملوں میں کمی واقع نہیں ہو ئی ہے
انہوں نے خبردار کیا کہ جب تک حکومت پولیس کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی نہیں بناتی اس وقت تک کوئی بھی ٹریفک پولیس اہلکار ڈیوٹی انجام نہیں دے گا۔ ٹریفک پولیس اہلکاروں کی جانب سے بدھ کے روز ڈیوٹیاں سرانجام نہ دینے اور احتجاجی جلوس نکالنے کے باعث شہر میں ٹریفک کا نظام مکمل طور پر درہم برہم ہو گیا۔

پرنس روڈ، سرکی روڈ، میزان چوک، جناح روڈ، مسجد روڈ، زرغون روڈ اور دیگر شاہراہوں پر ٹریفک کا نظام بری طرح متاثر ہوا اور لوگوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم سڑکوں پر گاڑیوں، رکشوں اور موٹر سائیکلوں کے رش کو لوگوں نے خود ہی کنٹرول کیا۔

بعد ازاں ٹریفک پولیس اور انتظامیہ کے دیگر اعلیٰ حکام نے احتجاج کرنے والے ٹریفک پولیس کے اہلکاروں کو یقین دلایا کہ قاتلوں کو جلد گرفتار کیا جائے گا جس کے بعد احتجاج کرنے والے ٹریفک پولیس کے اہلکار پر امن طور پر منتشر ہو کر ڈیوٹی پر واپس آ گئے۔

ڈی آئی جی کوئٹہ وزیر خان ناصر نے بی بی سی کو بتایا کہ ملزما ن کی تلاش جاری ہے اور کوئٹہ شہر کی ناکہ بندی سخت کردی گئی ہے، تاہم ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔

دوسری جانب بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان بیبرگ بلوچ نے کل رات پرنس روڈ پر ٹریفک پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے پولیس پر حملے جاری رکھنے کا دعویٰ کیا ہے۔

واضع رہے کہ حال ہی میں صوبائی حکومت نے کوئٹہ شہرمیں ٹریفک پولیس کو کلاشنکوفیں فراہم کی ہیں تا کہ وہ اپنی حفاظت خو د کر سکیں لیکن ٹریفک کے ساتھ ساتھ کلاشنکوف سنبھالنے سے ٹریفک پولیس کی ذمہ داریاں بڑھ تو گئی ہیں مگر ان پر حملوں میں کمی واقع نہیں ہو ئی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد