’پولیس والوں کے چیخنے کی آوازیں آرہی تھیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میلوڈی کے رہائشی علاقے کے قریب ہونے والے اس بم دھماکے کے بعد پولیس کے اہلکار اردگرد کی رہائشی عمارتوں سے انسانی اعضا سمیٹتے رہے۔ دھماکے کی جگہ سے چند سو گز پر واقع ایک گھر کے باہر ایک ضعیف خاتون نے بی بی سی کو بتایا کہ دھماکے کے وقت وہ گھر کے اندر تھیں۔ دھماکے کی آواز سے گھر کے اندر برتن گر گئے اور جب وہ باہر نکلیں تو انہوں نے اس جگہ جہاں تھوڑی دیر پہلے پولیس اہلکار ٹولیوں کی شکل میں کھڑے دیکھے تھے، قیامت کا مناظر دیکھے۔ پولیس والوں کے جسم کے ٹکڑے بکھرے پڑے تھے اور ہر طرف خون تھا۔ انسانی دھڑ الگ اور ٹانگیں دور پڑی نظر آ رہی تھیں۔ اسی کے ساتھ والے گھر کی ایک خاتون نوشین نے بتایا کہ انکے گھر کے شیشے ٹوٹ گئے ہیں اور گھر کی چھت سے پولیں والے ایک انسانی کان اور ایک بازو پلاسٹک کے بیگ میں ڈال کر لے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دھماکے کے بعد وہ گھر سے باہر نکلیں تو انکا ملازم زخمی پڑا تھا جبکہ چوک کے بیچوں بیچ لاشیں اور انسانی اعضار بکھرے پڑے تھے۔
ریحان نامی نوجوان نے بتایا کہ انکی گاڑی کے شیشے ٹوٹ گئے اور جب وہ باہر نکلے تو انہوں نے پولیس وردی میں ملبوس لاشیں دیکھیں جن میں سے بعض کے اعضا انکی گلی کے نکڑ تک پڑے ہوئے تھے۔ جہانزیب کی قریب ہی دوکان ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دھماکے کے فوراً بعد وہ جائے وقوعہ پہنچے تو ہر طرف خون ہی خون تھا۔ انسانی اعضا کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے بہت دور تک پھیلے ہوئے تھے اور پولیس اہلکاروں کے چیخنے کی آوازیں | اسی بارے میں باڑہ میں دھماکہ، سات ہلاک30 June, 2008 | پاکستان اسلام آباد میں سخت سکیورٹی10 June, 2008 | پاکستان اسلام آباد: کرنل کی بیوی، بچے قتل18 May, 2008 | پاکستان اسلام آباد دھماکہ، سینکڑوں گرفتار16 March, 2008 | پاکستان اسلام آباد دھماکہ: تُرک خاتون ہلاک15 March, 2008 | پاکستان اسلام آباد میں طالبان کے آثار17 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||