BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 06 July, 2008, 15:40 GMT 20:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پولیس والوں کے چیخنے کی آوازیں آرہی تھیں‘

اسلام آباد دھماکہ
دھماکے میں مرنے والے تمام افراد پولیس اہلکار تھے
میلوڈی کے رہائشی علاقے کے قریب ہونے والے اس بم دھماکے کے بعد پولیس کے اہلکار اردگرد کی رہائشی عمارتوں سے انسانی اعضا سمیٹتے رہے۔

دھماکے کی جگہ سے چند سو گز پر واقع ایک گھر کے باہر ایک ضعیف خاتون نے بی بی سی کو بتایا کہ دھماکے کے وقت وہ گھر کے اندر تھیں۔ دھماکے کی آواز سے گھر کے اندر برتن گر گئے اور جب وہ باہر نکلیں تو انہوں نے اس جگہ جہاں تھوڑی دیر پہلے پولیس اہلکار ٹولیوں کی شکل میں کھڑے دیکھے تھے، قیامت کا مناظر دیکھے۔

پولیس والوں کے جسم کے ٹکڑے بکھرے پڑے تھے اور ہر طرف خون تھا۔ انسانی دھڑ الگ اور ٹانگیں دور پڑی نظر آ رہی تھیں۔

اسی کے ساتھ والے گھر کی ایک خاتون نوشین نے بتایا کہ انکے گھر کے شیشے ٹوٹ گئے ہیں اور گھر کی چھت سے پولیں والے ایک انسانی کان اور ایک بازو پلاسٹک کے بیگ میں ڈال کر لے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دھماکے کے بعد وہ گھر سے باہر نکلیں تو انکا ملازم زخمی پڑا تھا جبکہ چوک کے بیچوں بیچ لاشیں اور انسانی اعضار بکھرے پڑے تھے۔

چالیس افراد زخمی ہوئے ہیں

ریحان نامی نوجوان نے بتایا کہ انکی گاڑی کے شیشے ٹوٹ گئے اور جب وہ باہر نکلے تو انہوں نے پولیس وردی میں ملبوس لاشیں دیکھیں جن میں سے بعض کے اعضا انکی گلی کے نکڑ تک پڑے ہوئے تھے۔

جہانزیب کی قریب ہی دوکان ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دھماکے کے فوراً بعد وہ جائے وقوعہ پہنچے تو ہر طرف خون ہی خون تھا۔ انسانی اعضا کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے بہت دور تک پھیلے ہوئے تھے اور پولیس اہلکاروں کے چیخنے کی آوازیں
آرہی تھیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد