BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 17 September, 2008, 04:58 GMT 09:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ڈی آئی خان دھماکہ، ایک ہلاک

ڈیرہ اسماعیل خان میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات ہوتے رہے ہیں
صوبہ سرحد کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں نامعلوم افراد نے اہل تشیع سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے گھر پر حملہ کیا ہے جس کے نتیجہ میں ایک خاتون ہلاک جبکہ سات افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

زخمیوں میں دو خواتین ایک بچہ اور چار مرد شامل ہیں۔زخمیوں کو ڈیرہ اسماعیل ڈسٹرک ہسپتال میں داخل کردیا ہے۔

ڈیرہ اسماعیل پولیس کے ایک اہلکار عبدالرشید نے بی بی سی کو بتایا کہ نامعلوم افراد نے گزشتہ رات ڈیرہ شہر میں گومل میڈیکل کالج کے پیچھے نوبل ٹاؤن میں شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے غلام عباس کے گھر کے دروازے میں بارود سے بھری سائیکل ریڑہ کو کھڑا کیا تھا۔ جو بدھ کو صبح دوبجے ایک زوردار دھماکے کے ساتھ پھٹ گیا جس کے نتیجہ میں ایک خاتون ہلاک جبکہ سات افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

زخمیوں میں دوخواتین ایک بچہ اور چار مرد شامل ہیں۔ جن کو ڈیرہ ڈسٹرک ہسپتال میں داخل کردیا ہے اور دو کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکے سے غلام عباس کے گھر کے علاوہ آٹھ مزید گھروں کو نقصان پہنچا ہے۔ لیکن دوسرے گھروں میں کوئی ہلاک یا زخمی نہیں ہوا ہے۔ پولیس کے مطابق سائیکل ریڑہ میں تیس سے چالیس کلو بارود رکھا تھا۔ دھماکے سے سائیکل ریڑہ بھی مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ بھی ڈیرہ اسماعیل خان میں جاری فرقہ وارنہ فسادت کی کڑی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ پولیس نے ڈیرہ شہر میں جگہ جگہ تلاشی کا عمل شروع کیا ہے لیکن ابھی تک کسی قسم کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

ڈیرہ شہر میں پہلے سے پولیس کے ایک درجن سے زیادہ ناکے موجود ہیں۔اور معمول کے مطابق پولیس گشت بھی کرتی ہے۔

یاد رہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان فرقہ وارانہ فسادت کے لحاظ سے انتہائی حساس ہے۔ انیس اگست دو ہزار آٹھ کو ڈیرہ ڈسٹرک ہسپتال کے اندر شبعہ حادثات کے سامنے اس وقت ایک خودکش دھماکہ ہوا تھا اور اس دھمماکہ سے کچھ دیر قبل نامعلوم افراد نے شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کوہلاک کیا تھا اور اہل تشیع کے لوگ ہسپتال کے باہر جمع تھے۔ اس دھماکہ میں بتیس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اس دھماکے کے اہل تشیع کے اہلکاروں کے مطالبہ پر آئی جی سرحد نے ڈیرہ اسماعیل سے چالیس پولیس افسروں کو بنوں، لکی مروت اور کرک تبدیل کیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد