BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 20 September, 2008, 23:07 GMT 04:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حملہ القاعدہ کے خطرے کا مظہر:بش
ان واقعات سے ظاہر ہے کہ دہشتگردی کی کوئی سرحد نہیں:جارج بش
اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل سمیت متعدد عالمی رہنماؤں نے اسلام آباد میں میریئٹ ہوٹل پر ہونے والے خودکش ٹرک بم دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس دہشتگردی کی گھناؤنی کارروائی قرار دیا ہے۔

امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکہ اسلام آباد بم حملے کے ذمہ دار افراد کو کیفرِ کردار تک پہنچانے میں پاکستان کی مدد کرے گا۔

صدر بش کا کہنا تھا کہ اس واقعے سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ پاکستان اور امریکہ کو دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

اگرچہ کسی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے تاہم پھر بھی صدر بش نے کہا کہ یہ حملہ امریکہ، پاکستان اور اقوامِ عالم کی سکیورٹی کو القاعدہ اور اس کے حامیوں سے درپیش خطرے کا مظہر ہے۔

یمن میں امریکی سفارتخانے پر حملے کو پاکستان میں ہونے والے حملے سے جوڑتے ہوئے صدر بش نے کہا کہ ان واقعات سے ظاہر ہے کہ دہشتگردی کی کوئی سرحد نہیں ہے۔

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان کے دفتر سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ سیکرٹری جنرل بان کی مون دہشتگردی کی اس گھناؤنی حرکت کی مذمت کرتے ہیں۔ بیان کے مطابق شہریوں کو بلاامتیاز نشانہ بنانے کی کوئی توجیح نہیں دی جا سکتی۔

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور امریکی صدر کے علاوہ برطانوی دفترِ خارجہ نے بھی اسلام آباد دھماکے کی مذمت کی ہے اور برطانوی وزیرِ خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے کہا ہے کہ اسلام آباد حملہ ایک شرمناک عمل ہے اور برطانیہ دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

برطانوی دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق ڈیوڈ ملی بینڈ کا کہنا تھا کہ ’اسلام آباد میں بم دھماکے کا تازہ ترین واقعہ ایک اور ایسا قبیح اور شرمناک عمل ہے جس کی کوئی توجیح پیش نہیں کی جا سکتی۔ اس بربریت کی عالمی سطح پر مذمت کی جانی چاہیے‘۔

انہوں نے کہا کہ وہ اس دھماکے سے متاثر ہونے والے افراد کے غم میں شریک ہیں اور برطانیہ’ ان شدت پسندوں کے خلاف حکومتِ پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑا ہے جو صرف انتشار پھیلانا اور موت بانٹنا جانتے ہیں‘۔

قیامت خیز مناظر
عینی شاہدین نے ہوٹل کے باہر کیا دیکھا
اسلام آباد دھماکہاسلام آباد دھماکہ
’جمہوریت تو آگئی لیکن امن نہیں آیا‘
خود کش حملہمیریئٹ نشانے پر
اسلام آباد میں دسواں خود کش حملہ
پولیس اہلکارآبپارہ خودکش حملہ
اسلام آباد دھماکے کے بعد تفتیش: تصاویر میں
اسی بارے میں
’پانچ دن میں 117 طالبان ہلاک‘
15 September, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد