میریئٹ ہوٹل خود کش حملہ، اکتالیس ہلاک، قریباً ڈھائی سو زخمی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں پولیس نے میریئٹ ہوٹل پر ہونے والے خود کش بم حملے میں اب تک اکتالیس افراد کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔ اس حملے میں ڈھائی سو کے قریب افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ پاکستان کے صدر آصف زرداری نے دھماکے کے بعد رات گئے قوم سے مختصر خطاب میں خودکش حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ قوم اپنے درد کو طاقت بنائے اور مل کر انتہا پسندی اور شدت پسندی کا مقابلہ کر کے اس کینسر کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے۔ تاحال کسی گروپ کی جانب سے دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق دھماکے کی تحقیقات کے لیے ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے طارق پرویز کی سربراہی میں ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے جبکہ حکومتِ پاکستان نے دھماکے کے ذمہ دار افراد کے بارے میں اطلاع دینے والے کے لیے ایک کروڑ روپے کے انعام کا اعلان بھی کیا ہے۔ شہزاد ملک کے مطابق یہ دھماکہ اس وقت ہوا جب سنیچر کی شام ہوٹل کے سکیورٹی بیریئر سے بارود سے بھرا ٹرک آ ٹکرایا۔ دھماکہ اس قدر خوفناک تھا کہ اس کی آواز دور دور تک سنی گئی اور ہوٹل کی گیس پائپ لائن پھٹنے سے عمارت میں آگ لگ گئی جس نے دیکھتے ہی پورے ہوٹل کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اسلام آباد کے تھانہ سیکرٹیریٹ کے ڈی ایس پی شیخ زبیر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد اکتالیس تک پہنچ گئی ہے تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ہلاک شدگان میں سے کتنے غیر ملکی ہیں۔ اس سے قبل دھماکے کے کچھ دیر بعد داخلی سکیورٹی امور کے لیے وزیراعظم کے مشیر رحمان ملک نے چونتیس ہلاکتوں کی تصدیق کی تھی۔
ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں غیر ملکی باشندے بھی شامل ہیں۔ نامہ نگار ذیشان ظفر کے مطابق پمزہسپتال میں ہلاک ہونے والوں کی جو فہرست لگائی گئی ہے اس میں ایک امریکی شہری روڈ لوف کا نام بھی شامل ہے جس کی لاش امریکی سفارتخانے کے حکام لے گئے ہیں۔ دوسری طرف ایک زخمی جرمن باشندے کو پاکستان نیوی کے اہلکار نیول ہسپتال لے گئے ہیں۔ نامہ نگاروں کے مطابق دھماکے کے بعد تیئیس لاشیں اور ایک سو پانچ زخمیوں کو پمز لایا گیا۔ جن افراد کی لاشیں پمز لائی گئیں ان میں ایک امریکی شہری اور ایف سی کے تین اہلکار بھی شامل ہیں جبکہ زخمیوں میں بھی چار جرمن اور ایک سعودی شہری ہیں۔ پمز کے ڈاکٹر وسیم خواجہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان زخمیوں میں سے تیس کی حالت نازک ہے۔ پولی کلینک اسلام آباد میں پانچ مقامی باشندوں کی لاشیں اور ایک سو گیارہ زخمیوں کو لایا گیا۔تاہم اس وقت وہاں زخمیوں کی تعداد انہتر ہے جن میں جرمنی، مراکش اور شام سے تعلق رکھنے والے تین باشندے بھی شامل ہیں۔ سی ڈی اے ہسپتال اسلام آباد میں کے شعبۂ حادثات کے میڈیکل آفیسر ڈاکٹر ظہور کے مطابق ان کے پاس چھ لاشیں اور بائیس زخمی لائے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ مرنے والوں میں سے پانچ افراد کی شناخت ہو چکی ہے جبکہ ایک شخص جو حلیے سے سکیورٹی گارڈ معلوم ہوتا ہے کی شناخت ابھی تک نہیں ہو سکی۔ سی ڈی اے ہسپتال میں لائے جانے والے زخمیوں میں بھی دو غیر ملکی شامل ہیں جن کا تعلق امریکہ اور لبنان سے ہے۔ ان دونوں زخمیوں کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
امریکی سفارت خانے کے ترجمان لو ٹفنر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تمام امریکی سفارتکار محفوظ ہیں۔ جبکہ برطانوی ہائی کمیشن کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ ان کے تین اہلکار اور ان کے دو رشتہ دار زخمی ہو گئے ہیں۔ اسلام آباد میں سعودی سفیر عواض العسیری نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ ان کے ’سولہ افراد اس علاقے میں موجود تھے جن میں چار سے چھ افراد لاپتہ ہیں‘۔ پاکستان کے سیکریٹری داخلہ کمال شاہ نے جائے وقوع کا معائنہ کرنے کے بعد کہا ہے کہ یہ دھماکہ خود کش حملہ تھا۔ جس جگہ دھماکہ ہوا وہاں تیس فِٹ گہرا گڑھا بن گیا۔ مشیر داخلہ رحمان ملک نے بتایا کہ انہوں نے جائے وقوع کا دورہ کرنے کے بعد اندازہ لگایا ہے کہ دھماکے لیے تقرباً ایک ہزار کلو گرام دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا ہے۔ پاکستان آرمی نے ہوٹل کو گھیرے میں لے کر دھماکے سے بنے گڑھے سے نمونے اکٹھے کیے ہیں جبکہ رینجرز نے متاثرہ علاقے میں حصار بنایا ہوا ہے۔ سنیچر کو رات گئے میریئٹ ہوٹل کے سکیورٹی افسر میجر امتیاز ڈار کی مدعیت میں انسدادِ دہشتگردی اور ایکسپلوسو ایکٹ کے تحت نامعلوم افراد کے خلاف دھماکے کا مقدمہ بھی درج کر لیا گیا ہے۔ سنیچر کو رات گئے تباہ شدہ میریئٹ ہوٹل کے باہر موجود بی بی سی کے نامہ نگار رضا ہمدانی کے مطابق دھماکے کے کئی گھنٹے بعد بھی ہوٹل میں لگنے والی آگ مکمل طور پر نہیں بجھائی جا سکی ہے اور چوتھی اور پانچویں منزل پر تاحال آگ بھڑک رہی ہے اور شہری دفاع اور فائربریگیڈ حکام کا کہنا ہے کہ یہ آگ جلد بجھنے والی نہیں ہے۔آگ بجھانے کے لیے آرمی، ائر فورس، نیوی، سول ڈیفنس، سول ایوی ایشن کے علاوہ مری اور واہ کینٹ سے بھی فائر بریگیڈ بلائے گئے ہیں۔ دھماکے کے وقت ہوٹل میں موجود افراد کے بارے میں متضاد اطلاعات مل رہی ہیں اور شہری دفاع کے اہلکاروں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ دھماکے کے بعد انہوں نے عمارت کی پہلی دو منزلوں کی تلاشی لی تھی تاہم وہاں سے تمام افراد نکل چکے تھے لیکن اوپر کی تین منزلوں کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ وہاں کتنے لوگ پھنسے ہوئے تھے۔
امدادی کوششوں میں مصروف فضائیہ کے سکواڈرن لیڈر ادریس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اندر کا درجہ حرارت اتنا زیادہ ہے کہ آگ نہیں بجھ سکتی اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب اندر کا درجہ حرارت کم ہو۔ ان کے مطابق پہلے تو کچھ افراد ہوٹل کے اندر کھڑکیوں میں نظر آ رہے تھے تاہم اب نظر نہیں آرہے۔ سکواڈرن لیڈر ادریس کا کہنا ہے کہ اندر کے درجہ حرارت کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ خدشہ ہے کہ وہ اندر ہی ہلاک ہو گئے ہیں۔ ہوٹل کے ایک ملازم ذاکر نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے دھماکے کے بعد دیگر ملازمین کی مدد سے عمارت کی اوپری منزل پر پھنسے چھ زخمی افراد کو نکالا تھا۔ میریئٹ ہوٹل کے ہی ایک ملازم سلطان نے ہمارے نامہ نگار کو بتایا تھا کہ ہوٹل میں کل تین سو پندرہ کمرے ہیں جن میں سے نوے غیرملکیوں کے پاس ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ہوٹل کے اندر غیر ملکی پھنسے ہوئے ہیں اور ان کو نکالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جب یہ دھماکہ ہوا اس وقت افطاری کا وقت تھا اور کافی لوگ ہوٹل میں موجود تھے۔ اطلاعات کے مطابق دھماکے کے وقت تقریباً 300 کے قریب افراد ہوٹل میں افطاری کر رہے تھے۔ دھماکے کے بعد میریئٹ ہوٹل کے مالک صدر الدین ہاشوانی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہوٹل کے اندر موجود لوگوں کو پچھلے دروازے سے نکال لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہوٹل بڑا مضبوط ہے لیکن دھماکہ بہت زور دار تھا۔
|
اسی بارے میں ’پانچ دن میں 117 طالبان ہلاک‘15 September, 2008 | پاکستان باجوڑ آپریشن میں 19 طالبان ہلاک17 September, 2008 | پاکستان پیپلز پارٹی کو سخت چیلنجز کا سامنا12 July, 2008 | پاکستان کراچی حملہ: ملزم کو سزائے موت 05 March, 2008 | پاکستان میریئٹ ہوٹل پر ٹرک بم دھماکہ، چالیس ہلاک اور سو سے زائد زخمی20 September, 2008 | پاکستان سوات مزید آٹھ پولیس اہلکار رہا18 September, 2008 | پاکستان دہشت گرد کے خلاف جنگ: سرحد کی دہلیز پر10 September, 2008 | پاکستان بینظیرقتل کیس، سارک سے مدد17 April, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||