’قوم درد کو طاقت میں بدل دے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر آصف زرداری نے اسلام آباد میں میریئٹ ہوٹل پر ہونے والے خودکش حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ قوم اپنے درد کو طاقت بنائے اور مل کر انتہا پسندی اور شدت پسندی کا مقابلہ کر کے اس کینسر کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے۔ سنیچر کو رات گئے قوم سے اپنے مختصر خطاب میں صدرِ پاکستان نے کہا کہ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں سے کہا کہ وہ حکومت کے ساتھ مل کر ملک سے ان انتہا پسندوں کا خاتمہ کریں۔صدر نے خودکش حملے میں ہلاک ہونے والوں سے ہمدردی کا اظہار کیا جبکہ زخمیوں کے بارے میں صدر کا کہنا تھا کہ حکومت اُن کا خیال رکھے گی۔ ادھر میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے پاکستان کے وزیرِ دفاع احمد مختار نے کہا ہے دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں اسی طرح کا ردعمل سامنے آسکتا ہے جس طرح میریٹ کے باہر خودکش حملہ ہوا ہے۔ جائے حادثہ کے دورے کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات میں ملوث افراد کو پیسہ افغانستان سے منشیات کے سمگلر فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں سالانہ 50 ملین ڈالر منشیات کی تجارت ہو رہی ہے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ باجوڑ میں 850 شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔ جب اُن سے پوچھا گیا کہ کیا اس واقعہ میں کوئی غیر ملکی ہاتھ ملوث ہیں تو انہوں نے کہا کہ جب تک اس کی تحقیقات نہیں ہوتیں اُس وقت تک اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ اسلام آباد میں بی بی سی کی نخبت ملک کے مطابق پاکستان کے مشیر داخلہ رحمان ملک نے میریئٹ دھماکے کو پاکستان کا نائن الیون قرار دیا ہے ـ ان کا کہنا تھا کہ دھماکے کی شدت سے ہونے والے نقصان کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا بالکل درست ہے کہ یہ واقعہ پاکستان کا نائن الیون ہے۔ وزیر قانون فاروق نائیک نے بھی میریئٹ دھماکے کی مذمت کی ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حملے کے ذمہ دار افراد کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا۔ |
اسی بارے میں میریئٹ ہوٹل پر ٹرک بم دھماکہ، چالیس ہلاک اور سو سے زائد زخمی20 September, 2008 | پاکستان ’پانچ دن میں 117 طالبان ہلاک‘15 September, 2008 | پاکستان باجوڑ آپریشن میں 19 طالبان ہلاک17 September, 2008 | پاکستان پیپلز پارٹی کو سخت چیلنجز کا سامنا12 July, 2008 | پاکستان کراچی حملہ: ملزم کو سزائے موت 05 March, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||