میریئٹ: آگ پر قابو، ہلاکتیں اکتالیس، سکیورٹی سخت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں پولیس نے میریئٹ ہوٹل پر ہونے والے خود کش بم حملے میں اب تک اکتالیس افراد کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔ اس حملے میں ڈھائی سو کے قریب افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ دھماکے کے بعد ملک بھر اور خصوصاً اسلام آباد میں سکیورٹی انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے متعلقہ حکام کو اس واقعے کی فوری تحقیقات کرنے اور 12 گھنٹے کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق دھماکے کی تحقیقات کے لیے ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے طارق پرویز کی سربراہی میں ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے جس نے کام شروع کر دیا ہے تاہم ابھی تک کسی گرفتاری کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔
پاکستان کے صدر آصف زرداری نے دھماکے کے بعد رات گئے قوم سے مختصر خطاب میں خودکش حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ قوم اپنے درد کو طاقت بنائے اور مل کر انتہا پسندی اور شدت پسندی کا مقابلہ کر کے اس کینسر کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے۔ امریکہ اور برطانیہ نے بھی اسلام آباد حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ اسلام آباد کے تھانہ سیکرٹیریٹ کے ڈی ایس پی شیخ زبیر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد اکتالیس تک پہنچ گئی ہے تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ہلاک شدگان میں سے کتنے غیرملکی ہیں۔
دھماکے کے وقت ہوٹل میں موجود افراد کے بارے میں متضاد اطلاعات مل رہی ہیں اور شہری دفاع کے اہلکاروں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ دھماکے کے بعد انہوں نے عمارت کی پہلی دو منزلوں کی تلاشی لی تھی تاہم وہاں سے تمام افراد نکل چکے تھے لیکن اوپر کی تین منزلوں کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ وہاں کتنے لوگ پھنسے ہوئے تھے۔ اس دھماکے میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں غیرملکی باشندے بھی شامل ہیں۔ ہمارے نامہ نگار ذیشان ظفر کے مطابق پمزہسپتال میں ہلاک ہونے والوں کی جو فہرست لگائی گئی ہے اس میں ایک امریکی شہری روڈ لوف کا نام بھی شامل ہے جس کی لاش امریکی سفارتخانے کے حکام لے گئے ہیں۔ دوسری طرف ایک زخمی جرمن باشندے کو پاکستان نیوی کے اہلکار نیول ہسپتال لے گئے ہیں۔
پولی کلینک اسلام آباد میں پانچ مقامی باشندوں کی لاشیں اور ایک سو گیارہ زخمیوں کو لایا گیا۔ تاہم اس وقت وہاں زخمیوں کی تعداد انہتر ہے جن میں جرمنی، مراکش اور شام سے تعلق رکھنے والے تین باشندے بھی شامل ہیں۔ سی ڈی اے ہسپتال اسلام آباد میں کے شعبۂ حادثات کے میڈیکل آفیسر ڈاکٹر ظہور کے مطابق ان کے پاس چھ لاشیں اور بائیس زخمی لائے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ مرنے والوں میں سے پانچ افراد کی شناخت ہو چکی ہے جبکہ ایک شخص کی جو حلیے سے سکیورٹی گارڈ معلوم ہوتا ہے شناخت ابھی تک نہیں ہو سکی۔ سی ڈی اے ہسپتال میں لائے جانے والے زخمیوں میں بھی دو غیرملکی شامل ہیں جن کا تعلق امریکہ اور لبنان سے ہے۔ ان دونوں زخمیوں کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ امریکی سفارت خانے کے ترجمان لو ٹفنر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تمام امریکی سفارتکار محفوظ ہیں۔ جبکہ برطانوی ہائی کمیشن کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ ان کے تین اہلکار اور ان کے دو رشتہ دار زخمی ہوگئے ہیں۔ اسلام آباد میں سعودی سفیر عواض العسیری نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ ان کے ’سولہ افراد اس علاقے میں موجود تھے جن میں چار سے چھ افراد لاپتہ ہیں‘۔ پاکستان کے سیکریٹری داخلہ کمال شاہ نے جائے وقوع کا معائنہ کرنے کے بعد کہا ہے کہ یہ دھماکہ خود کش حملہ تھا۔ جس جگہ دھماکہ ہوا وہاں تیس فِٹ گہرا گڑھا بن گیا۔ مشیر داخلہ رحمان ملک نے بتایا کہ انہوں نے جائے وقوع کا دورہ کرنے کے بعد اندازہ لگایا ہے کہ دھماکے لیے تقرباً ایک ہزار کلو گرام دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا ہے۔ پاکستان آرمی نے ہوٹل کو گھیرے میں لے کر دھماکے سے بنے گڑھے سے نمونے اکٹھے کیے ہیں جبکہ رینجرز نے متاثرہ علاقے میں حصار بنایا ہوا ہے۔ سنیچر کو رات گئے میریئٹ ہوٹل کے سکیورٹی افسر میجر امتیاز ڈار کی مدعیت میں انسدادِ دہشتگردی اور ایکسپلوسو ایکٹ کے تحت نامعلوم افراد کے خلاف دھماکے کا مقدمہ بھی درج کر لیا گیا ہے۔
ہوٹل کے ایک ملازم ذاکر نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے دھماکے کے بعد دیگر ملازمین کی مدد سے عمارت کی اوپری منزل پر پھنسے چھ زخمی افراد کو نکالا تھا۔ میریئٹ ہوٹل کے ہی ایک ملازم سلطان نے ہمارے نامہ نگار کو بتایا تھا کہ ہوٹل میں کل تین سو پندرہ کمرے ہیں جن میں سے نوے غیرملکیوں کے پاس ہیں۔ جب یہ دھماکہ ہوا اس وقت افطاری کا وقت تھا اور کافی لوگ ہوٹل میں موجود تھے۔ اطلاعات کے مطابق دھماکے کے وقت تقریباً 300 کے قریب افراد ہوٹل میں افطاری کر رہے تھے۔ دھماکے کے بعد میریئٹ ہوٹل کے مالک صدر الدین ہاشوانی نے میڈیا کو بتایا تھا کہ ہوٹل کے اندر موجود لوگوں کو پچھلے دروازے سے نکال لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہوٹل بڑا مضبوط ہے لیکن دھماکہ بہت زوردار تھا۔ اسلام آباد کے ریڈ سکیورٹی زون میں واقع اس میریئٹ ہوٹل پر حالیہ برسوں میں حملے کا یہ تیسرا واقعہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس سے قبل چھبیس جنوری دو ہزار سات کو ہوٹل کے باہر خودکش حملے میں حملہ آور اور سکیورٹی گارڈ ہلاک ہوا جبکہ پانچ لوگ زخمی ہوئے تھے اور سنہ دو ہزار چار میں جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے جنگجو عبداللہ محسود نے ہوٹل میں ہوئے ایک پراسرار دھماکے کی ذمہ داری قبول کی تھی جو اس وقت کی حکومت کے مطابق شارٹ سرکٹ کی وجہ سے ہوا تھا۔
|
اسی بارے میں ’پانچ دن میں 117 طالبان ہلاک‘15 September, 2008 | پاکستان باجوڑ آپریشن میں 19 طالبان ہلاک17 September, 2008 | پاکستان پیپلز پارٹی کو سخت چیلنجز کا سامنا12 July, 2008 | پاکستان کراچی حملہ: ملزم کو سزائے موت 05 March, 2008 | پاکستان میریئٹ ہوٹل پر ٹرک بم دھماکہ، چالیس ہلاک اور سو سے زائد زخمی20 September, 2008 | پاکستان سوات مزید آٹھ پولیس اہلکار رہا18 September, 2008 | پاکستان دہشت گرد کے خلاف جنگ: سرحد کی دہلیز پر10 September, 2008 | پاکستان بینظیرقتل کیس، سارک سے مدد17 April, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||