’بارود فوجی نوعیت کا استعمال ہوا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مشیر داخلہ رحمان ملک نے اسلام آباد میں میریئٹ ہوٹل پر ہوئے خودکش حملے کو پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا واقع قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں چھ سو کلوگرام فوجی نوعیت کا دھماکہ خیز مواد استعمال ہوا ہے۔ اسلام آباد میں خودکش حملے کے اکیس گھنٹوں بعد اس کی ابتدائی تحقیقات کے نتائج سے صحافیوں کو آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے ہلاک ہونے والوں کی تعداد ترپن جبکہ دو سو چھیاسٹھ زخمی بتائے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں دو امریکیوں سمیت چار غیر ملکی شامل ہیں۔ چیک سفیر اور ان کی ویت نام سے تعلق رکھنے والی دوست بھی ہلاک ہونے والے غیر ملکیوں میں شامل ہیں۔ رحمان ملک نے بتایا کہ ابتدائی اندازے کے مطابق ریت بجری لیجانے والے ٹرک کے ذریعے کیے جانے والے اس حملے میں ماضی کے برعکس اعلٰی معیار کا آر ڈی ایکس اور ٹی این ٹی استعمال کیا گیا ہے۔ اس مرتبہ حملہ آوروں نے دھماکہ خیز مواد کے علاوہ مارٹر بم، آرٹلری راؤنڈز اور پہلی مرتبہ الیومینیئم پاوڈر بھی استعمال کیا جس کی وجہ سے آگ پر بعد میں قابو پانا مشکل ہو رہا تھا۔ صحافیوں کو اس دھماکے کے آخری لمحات کی ویڈیو فلم بھی دکھائی گئی۔ تقریباً سات بجکر پچاس منٹ پر ایک بھرا ٹرک آکر ہوٹل کے مین گیٹ پر لگی رکاوٹ سے ٹکرایا جس کے چند منٹ بعد اس میں آگ بھڑک اٹھی اور پھر زوردار دھماکہ ہوا۔
وہاں تعینات ایک سکیورٹی اہلکار نے دھماکے سے چند سیکنڈ قبل ٹرک میں لگی آگ بھجانے کی کوشش بھی کی۔ ہوٹل میں تیس سے زائد ہلاکتوں کے علاوہ سڑک پار فرنٹیئر ہاؤس میں مسجد کے قریب چھ لوگ جبکہ بغل میں ایویکیو ٹرسٹ بلڈنگ میں دو افراد ہلاک ہوئے۔ مشیر داخلہ رحمان ملک نے بتایا کہ ڈی جی ایف آئی اے کی سربراہی میں قائم تحقیقاتی ٹیم کل اپنی رپورٹ پیش کرے گی تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ان تمام حملوں کے تانے بانے قبائلی علاقوں سے ملتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ابھی اس واقعے میں کسی شخص کو گرفتار نہیں کیا گیا ہے تاہم انہوں نے وعدہ کیا کہ آئندہ چند روز میں مشتبہ خودکش حملہ آور میڈیا کے سامنے بھی پیش کریں گے۔ انہوں نے تحقیقات میں مدد کی غیر ملکی پیشکش یہ کہتے ہوئے مسترد کر دی کہ ملکی ادارے ایسی تفتیش کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے ذرائع ابلاغ سے دوبارہ اپیل کی کہ وہ شدت پسندوں کو ہیرو کے طور پر پیش نہ کریں۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہ وہ بیت اللہ محسود یا منگل باغ سے کب ملاقات کریں گے کہا کہ ان کی حکومت کی پالیسی نہیں ہے کہ شدت پسندوں سے بات کی جائے۔ ’یہ حملہ پاکستان میں نئی جمہوریت اور اس کی معیشت پر ہوا ہے۔ یہ ان لوگوں نے کیا ہے جو نہیں چاہتے کہ ملک ترقی کریں۔‘ مشیر داخلہ کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کی سکیورٹی بہتر بنانے کے لیئے غیرمعمولی اقدامات کیے جائیں گے۔ |
اسی بارے میں سپاہیوں اورسکیورٹی کی آخر تک دھماکہ روکنے کی کوشش: وڈیو21 September, 2008 | پاکستان میریئٹ: آگ پر قابو، ہلاکتیں چون، سکیورٹی سخت21 September, 2008 | پاکستان ’قوم اپنے درد کو طاقت میں بدل دے‘20 September, 2008 | پاکستان عزم برقرار رہے گا: آصف زرداری20 September, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||