BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 21 September, 2008, 12:16 GMT 17:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بارود فوجی نوعیت کا استعمال ہوا‘

اس مرتبہ حملہ آوروں نے دھماکہ خیر مواد کے علاوہ مارٹر بم، آرٹلری راونڈز اور پہلی مرتبہ الومینم پاوڈر بھی استعمال کیا گیا

مشیر داخلہ رحمان ملک نے اسلام آباد میں میریئٹ ہوٹل پر ہوئے خودکش حملے کو پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا واقع قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں چھ سو کلوگرام فوجی نوعیت کا دھماکہ خیز مواد استعمال ہوا ہے۔

اسلام آباد میں خودکش حملے کے اکیس گھنٹوں بعد اس کی ابتدائی تحقیقات کے نتائج سے صحافیوں کو آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے ہلاک ہونے والوں کی تعداد ترپن جبکہ دو سو چھیاسٹھ زخمی بتائے ہیں۔

ہلاک ہونے والوں میں دو امریکیوں سمیت چار غیر ملکی شامل ہیں۔ چیک سفیر اور ان کی ویت نام سے تعلق رکھنے والی دوست بھی ہلاک ہونے والے غیر ملکیوں میں شامل ہیں۔

رحمان ملک نے بتایا کہ ابتدائی اندازے کے مطابق ریت بجری لیجانے والے ٹرک کے ذریعے کیے جانے والے اس حملے میں ماضی کے برعکس اعلٰی معیار کا آر ڈی ایکس اور ٹی این ٹی استعمال کیا گیا ہے۔ اس مرتبہ حملہ آوروں نے دھماکہ خیز مواد کے علاوہ مارٹر بم، آرٹلری راؤنڈز اور پہلی مرتبہ الیومینیئم پاوڈر بھی استعمال کیا جس کی وجہ سے آگ پر بعد میں قابو پانا مشکل ہو رہا تھا۔

صحافیوں کو اس دھماکے کے آخری لمحات کی ویڈیو فلم بھی دکھائی گئی۔ تقریباً سات بجکر پچاس منٹ پر ایک بھرا ٹرک آکر ہوٹل کے مین گیٹ پر لگی رکاوٹ سے ٹکرایا جس کے چند منٹ بعد اس میں آگ بھڑک اٹھی اور پھر زوردار دھماکہ ہوا۔

ہلاکتوں کی تفصیل
ہوٹل کے مین گیٹ اور لابی ۔ 16
ہوٹل کے اندر ۔ 14
ہوٹل کے تیسرے اور چوتھے مرلے ۔ 12
فرنٹیئر ہاؤس ۔ 6
ایویکیو ٹرسٹ بلڈنگ ۔ 2
ہسپتال ۔ 3

وہاں تعینات ایک سکیورٹی اہلکار نے دھماکے سے چند سیکنڈ قبل ٹرک میں لگی آگ بھجانے کی کوشش بھی کی۔

ہوٹل میں تیس سے زائد ہلاکتوں کے علاوہ سڑک پار فرنٹیئر ہاؤس میں مسجد کے قریب چھ لوگ جبکہ بغل میں ایویکیو ٹرسٹ بلڈنگ میں دو افراد ہلاک ہوئے۔

مشیر داخلہ رحمان ملک نے بتایا کہ ڈی جی ایف آئی اے کی سربراہی میں قائم تحقیقاتی ٹیم کل اپنی رپورٹ پیش کرے گی تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ان تمام حملوں کے تانے بانے قبائلی علاقوں سے ملتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ابھی اس واقعے میں کسی شخص کو گرفتار نہیں کیا گیا ہے تاہم انہوں نے وعدہ کیا کہ آئندہ چند روز میں مشتبہ خودکش حملہ آور میڈیا کے سامنے بھی پیش کریں گے۔

انہوں نے تحقیقات میں مدد کی غیر ملکی پیشکش یہ کہتے ہوئے مسترد کر دی کہ ملکی ادارے ایسی تفتیش کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔

انہوں نے ذرائع ابلاغ سے دوبارہ اپیل کی کہ وہ شدت پسندوں کو ہیرو کے طور پر پیش نہ کریں۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہ وہ بیت اللہ محسود یا منگل باغ سے کب ملاقات کریں گے کہا کہ ان کی حکومت کی پالیسی نہیں ہے کہ شدت پسندوں سے بات کی جائے۔

’یہ حملہ پاکستان میں نئی جمہوریت اور اس کی معیشت پر ہوا ہے۔ یہ ان لوگوں نے کیا ہے جو نہیں چاہتے کہ ملک ترقی کریں۔‘

مشیر داخلہ کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کی سکیورٹی بہتر بنانے کے لیئے غیرمعمولی اقدامات کیے جائیں گے۔

دھماکے کی اگلی صبح
دن کی روشنی میں تباہی کا منظر: تصاویر
خود کش حملہمیریئٹ نشانے پر
اسلام آباد میں دسواں خود کش حملہ
اسلام آباد دھماکہجمہوریت اور امن
’جمہوریت تو آگئی لیکن امن نہیں آیا‘
قیامت خیز منظر
عینی شاہدین نے ہوٹل کے باہر کیا دیکھا
اسی بارے میں
عزم برقرار رہے گا: آصف زرداری
20 September, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد