BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 21 September, 2008, 08:47 GMT 13:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سپاہیوں اورسکیورٹی کی آخر تک دھماکہ روکنے کی کوشش: وڈیو

میریٹ دھماکہ
ہلاک ہونے والے میں غیر ملکی بھی شامل ہیں

پاکستان کے مشیر داخلہ نے اتوار کو اسلام آباد میں صحافیوں کو ایک وڈیو دکھائی جس میں انہوں نے کہا کہ ہوٹل کے گیٹ پر سپاہی اور سکیورٹی اہلکار آخر تک باورد سے بھرے ٹرک میں دھماکے کو روکنے اور آگ بجھانے کی کوشش کرتے نظر آ رہے ہیں۔ یہ فلم ایک کلوز سرکٹ کیمرے سے بنائی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ اسلام آباد میں ایسے اقدامات کی روک تھام کے لیے غیر معمولی اقدامات کیے جائیں گے۔ ہلاک ہونے والوں میں چیک جمہوریہ کے سفیر بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد تریپن اور زخمیوں کی تعداد دو سو چھیاسی ہے۔


اس سے قبل انہوں نے اتوار کی صبح اخبار نویسوں کو بتایا تھا کہ اس خودکش بم حملے میں باون افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ ان کے اس بیان کے بعد دو مزید لاشیں ہوٹل کی چوتھی منزل سے برآمد ہوئی تھیں۔

صدر مملکت آصف علی زرداری دھماکے کے بعد رات گئے ٹیلی وژن پر قوم سے خطاب کے بعد اتوار کی صبح امریکہ روانہ ہوگئے جہاں وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے علاوہ صدر جارج بش سے ملاقات بھی کریں گے۔

 اس دھماکے میں پاکستان میں جمہوریہ چیک کے سفیر بھی ہلاک ہوئے ہیں
وزیرِ اعظم گیلانی

صدر مملکت کی امریکہ روانگی کے بعد وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے اسلام آباد کے ایک ہسپتال میں زخمیوں کی عیادت کی اور نامہ نگار ذیشان ظفر کے مطابق اس سانحے میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کے لیے تین لاکھ جبکہ زخمیوں کے لیے ایک لاکھ روپے فی کس کا اعلان کیا۔

وزیراعظم نے اس موقع پر کہا کہ حکومت کے عزم کو دہشت گردی کے ذریعے کمزور نہیں کیا جا سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس دھماکے میں پاکستان میں جمہوریہ چیک کے سفیر بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

میریئٹ ہوٹل میں ’سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن’ کے انچارج ڈاکٹر محمد علی کے مطابق ساری رات جاری رہنے والی آگ کے بعد اس بات کا کوئی امکان باقی نہیں رہ گیا کہ ہوٹل کی عمارت سے انہیں کوئی زندہ فرد مل سکے گا اسی لیے اب ان کا کام لاشوں کی تلاش تک ہی باقی رہ گیا ہے۔

 میریئٹ
آگ کی شدت کے باعث ایک موقع پر عمارت کے اندر درجہ حرارت چار سو ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا تھا

راولپنڈی سے آنے والی دو سو افراد پر مشتمل ’ریسکیو 1122’ ٹیم کے انچارج نے، جو گزشتہ رات سے آگ بجھانے کو کوششثوں کی نگرانی کر رہے ہیں، بی بی سی کو بتایا کہ آگ کی شدت کے باعث ایک موقع پر عمارت کے اندر درجہ حرارت چار سو ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا تھا اور اس درجہ حرارت میں عمارت کے اندر کسی ذی روح کا زندہ بچ جانا معجزہ ہی ہو سکتا۔

ڈاکٹر محمد علی کے مطابق دوپہر بارہ بجے تک پانچ منزلہ عمارت میں لگی آگ پر کافی حد تک قابو پایا جا چکا تھا تاہم چوتھی منزل سے اس وقت بھی دھواں اٹھتا دیکھا جا سکتا تھا۔

وزارت داخلہ کے حکام کے مطابق اس خودکش بم حملے میں ایک ہزار کلو گرام کے قریب دھماکہ خیز مواد کے علاوہ ایسا کیمائی مادہ بھی استعمال کیا گیا جس سے ہوٹل کی عمارت کے مختلف حصوں میں آگ بھڑک اٹھی۔

محمد علی نے بتایا کہ آج صبح ملنے والی لاشوں میں ایک ویت نام کی شہری خاتون بھی شامل ہے جو دم گھٹنے سے ہلاک ہوئی۔

امدادی ٹیم کے انچارج کے مطابق ’اس خاتون سمیت بہت سے افراد اس پانچ منزلہ عمارت میں پھنس کر اس لیے ہلاک ہوگئے کیونکہ عمارت سے ہنگامی حالت میں باہر نکلنے کے راستے موجود نہیں تھے۔یہ ہنگامی راستے نہ ہونے کی وجہ سے بعض افراد نے عمارت کی بالائی منزلوں سے چھلانگیں بھی لگائیں۔’

میرئیٹ دھماکہ
 تحقیقاتی اداروں کے نمائندوں نے دھماکے کے اردگرد کے علاقے سے مختلف نمونے اکٹھے کیے جن میں دھماکے میں استعمال ہونے والے مواد کے علاوہ انسانی اعضا اور خون کے نمونے بھی شامل تھے

ڈاکٹر محمد علی کے مطابق یہی ہنگامی راستے آگ لگنے کی صورت میں امدادی کارکنوں کے متاثرہ عمارت کے اندر داخل ہونے کے راستوں کا کام دیتے ہیں لیکن ان کی عدم موجودگی کے باعث امدادی کارکن اس وقت تک عمارت کے زیادہ متاثر ہونے والے حصوں میں نہیں جا سکے۔ان کا کہنا تھا ’اگر یہ ہنگامی راستے موجود ہوتے تو مزید جانیں بچائی جا سکتی تھیں‘۔

امدادی کارکنوں کے علاوہ ہوٹل کی عمارت میں آج صبح سے تحقیقاتی اداروں کے اہلکار بھی موجود ہیں۔ ان کی آمد سے قبل متاثرہ علاقے کو مکمل طور پر سیل کر کے تمام غیر متعقلہ افراد بشمول میڈیا کے نمائندوں کو ہوٹل کے قریب جانے سے روک دیا گیا۔

ان تحقیقاتی اداروں کے نمائندوں نے دھماکے کے اردگرد کے علاقے سے مختلف نمونے اکٹھے کیے جن میں دھماکے میں استعمال ہونے والے مواد کے علاوہ انسانی اعضا اور خون کے نمونے بھی شامل تھے۔ یہ نمونے اکٹھے کرنے والوں میں غیر ملکی بھی دیکھے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ سنیچر کی شب ہونے والے اس دھماکے کے فوراً بعد وزارت داخلہ نے وفاقی تحقیقاتی ادارے کے ڈائریکٹر جنرل کی سربراہی میں سول اور فوجی تحقیقاتی اداروں کے افسران پر مشتمل مشترکہ تحقیقات کمیٹی تشکیل دی تھی جسے ابتدائی رپورٹ آج حکومت کو فراہم کرنے کا پابند کیا گیا تھا۔

میرئیٹ دھماکہ
عمارت سے ہنگامی حالت میں باہر نکلنے کے راستے موجود نہیں تھے

اس ٹیم کے افسران نے اتوار کی صبح ہوٹل کےگرد تین کلومیٹر کے علاقے کو اپنی تحقیقات میں شامل کیا ہے تاکہ حملے میں استعمال ہونے والی گاڑی یا گاڑیوں کے بارے میں شواہد اکٹھے کیے جاسکیں لیکن تاحال اس بارے میں کامیابی نہیں ہو سکی۔

سنیچر کی شام میریئٹ ہوٹل کے باہر ہونے والے ٹرک بم دھماکے کی ذمہ داری کسی گروپ نے قبول نہیں کی ہے لیکن اسلام آباد میں بی بی سی کے ایک نامہ نگار کا کہنا ہے کہ طالبان شدت پسندوں پر انگلی اٹھائی جارہی ہے جن کے خلاف پاکستانی فوج کارروائیاں کررہی ہے۔

حکومتِ پاکستان نے دھماکے کے ذمہ دار افراد کے بارے میں اطلاع دینے والے کے لیے ایک کروڑ روپے کے انعام کا اعلان بھی کیا ہے۔دھماکے کے بعد ملک بھر اور خصوصاً اسلام آباد میں سکیورٹی انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔

دھماکے کے وقت ہوٹل میں موجود افراد کے بارے میں متضاد اطلاعات مل رہی ہیں۔ شہری دفاع کے اہلکاروں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ دھماکے کے بعد انہوں نے عمارت کی پہلی دو منزلوں کی تلاشی لی تھی تاہم وہاں سے تمام افراد نکل چکے تھے لیکن اوپر کی تین منزلوں کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ وہاں کتنے لوگ پھنسے ہوئے تھے۔

میرئیٹ
ہوٹل کے ارد گرد کے علاقوں سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں

اس دھماکے میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں غیرملکی باشندے بھی شامل ہیں۔ ہمارے نامہ نگار ذیشان ظفر کے مطابق پمزہسپتال میں ہلاک ہونے والوں کی جو فہرست لگائی گئی ہے اس میں ایک امریکی شہری روڈ لوف کا نام بھی شامل ہے جس کی لاش امریکی سفارتخانے کے حکام لے گئے ہیں۔

دوسری طرف ایک زخمی جرمن باشندے کو پاکستان نیوی کے اہلکار نیول ہسپتال لے گئے ہیں۔ برطانوی ہائی کمیشن کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ ان کے تین اہلکار اور ان کے دو رشتہ دار زخمی ہوگئے ہیں۔

اسلام آباد میں سعودی سفیر عواض العسیری نے سنیچر کوصحافیوں کو بتایا تھا کہ ان کے ’سولہ افراد اس علاقے میں موجود تھے جن میں چار سے چھ افراد لاپتہ ہیں۔‘

اسلام آباد کے ریڈ سکیورٹی زون میں واقع اس میریئٹ ہوٹل پر حالیہ برسوں میں حملے کا یہ تیسرا واقعہ قرار دیا جا سکتا ہے۔

اس سے قبل چھبیس جنوری دو ہزار سات کو ہوٹل کے باہر خودکش حملے میں حملہ آور اور سکیورٹی گارڈ ہلاک ہوا جبکہ پانچ لوگ زخمی ہوئے تھے اور سنہ دو ہزار چار میں جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے جنگجو عبداللہ محسود نے ہوٹل میں ہوئے ایک پراسرار دھماکے کی ذمہ داری قبول کی تھی جو اس وقت کی حکومت کے مطابق شارٹ سرکٹ کی وجہ سے ہوا تھا۔

دھماکے کی اگلی صبح
دن کی روشنی میں تباہی کا منظر: تصاویر
قیامت خیز مناظر
عینی شاہدین نے ہوٹل کے باہر کیا دیکھا
قیامت خیز منظر
عینی شاہدین نے ہوٹل کے باہر کیا دیکھا
اسلام آباد دھماکہجمہوریت اور امن
’جمہوریت تو آگئی لیکن امن نہیں آیا‘
خود کش حملہمیریئٹ نشانے پر
اسلام آباد میں دسواں خود کش حملہ
امریکی فوجیامریکہ ’تنہا‘ رہ گیا
پاکستان پر حملے، پالیسی کی پسپائی
اسی بارے میں
’پانچ دن میں 117 طالبان ہلاک‘
15 September, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد