میریئٹ: آگ پر قابو، ہلاکتیں چون، سکیورٹی سخت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امدادی کارکن اسلام آباد کے میریئٹ ہوٹل کے ملبے میں ہلاک ہونے والوں کی لاشیں اور بچنے والوں کی تلاش کر رہے ہیں۔ جبکہ میریئٹ ہوٹل پر ٹرک بم دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد چون اور زخمیوں کی تعداد 250 بتائی گئی ہے۔ جائے وقوع پر موجود ہمارے نامہ نگار آصف فاروقی نے بتایا ہے کہ اتوار کی صبح سے امدادی کارکنوں نے ہوٹل کی چوتھی منزل سے آٹھ لاشیں نکالی ہیں جن میں ایک غیرملکی خاتون ہیں۔ امدادی کارکنوں نے ہوٹل کی پہلی، دوسری، تیسری اور پانچویں منزلوں پر تلاش کا کام مکمل کر لیا ہے۔ امدادی کارکنوں نے ہمارے نامہ نگار آصف فاروقی کو بتایا کہ چوتھی منزل پر تلاش کا کام ابھی جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہوٹل کی عمارت میں باہر جانے کے راستے نہیں تھے جس کی وجہ سے امدادی کارکنوں کو اندر جانے میں مشکل پیش آئی ہے جبکہ ہوٹل کے مہمان جو اندر تھے وہ اندر ہی پھنس گئے۔ ہمارے نامہ نگار کے مطابق امدادی کارکنوں نے ہوٹل کی عمارت کو محفوظ قرار نہیں دیا ہے کیونکہ عمارت کافی غیرمستحکم ہے اور اس کے گرنے کا خدشہ ہے۔ سنیچر کی شام میریئٹ ہوٹل کے باہر ہونے والے ٹرک بم دھماکے کی ذمہ داری کسی گروپ نے قبول نہیں کی ہے لیکن اسلام آباد میں بی بی سی کے ایک نامہ نگار کا کہنا ہے کہ طالبان شدت پسندوں پر انگلی اٹھائی جارہی ہے جن کے خلاف پاکستانی فوج کارروائیاں کررہی ہے۔ حکومتِ پاکستان نے دھماکے کے ذمہ دار افراد کے بارے میں اطلاع دینے والے کے لیے ایک کروڑ روپے کے انعام کا اعلان بھی کیا ہے۔
بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق دھماکے کی تحقیقات کے لیے ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے طارق پرویز کی سربراہی میں ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے جس نے کام شروع کر دیا ہے تاہم ابھی تک کسی گرفتاری کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ پاکستان کے صدر آصف زرداری نے دھماکے کے بعد رات گئے قوم سے مختصر خطاب میں خودکش حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ قوم اپنے درد کو طاقت بنائے اور مل کر انتہا پسندی اور شدت پسندی کا مقابلہ کر کے اس کینسر کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے۔ دھماکے کے وقت ہوٹل میں موجود افراد کے بارے میں متضاد اطلاعات مل رہی ہیں اور شہری دفاع کے اہلکاروں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ دھماکے کے بعد انہوں نے عمارت کی پہلی دو منزلوں کی تلاشی لی تھی تاہم وہاں سے تمام افراد نکل چکے تھے لیکن اوپر کی تین منزلوں کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ وہاں کتنے لوگ پھنسے ہوئے تھے۔ اس دھماکے میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں غیرملکی باشندے بھی شامل ہیں۔ ہمارے نامہ نگار ذیشان ظفر کے مطابق پمزہسپتال میں ہلاک ہونے والوں کی جو فہرست لگائی گئی ہے اس میں ایک امریکی شہری روڈ لوف کا نام بھی شامل ہے جس کی لاش امریکی سفارتخانے کے حکام لے گئے ہیں۔ دوسری طرف ایک زخمی جرمن باشندے کو پاکستان نیوی کے اہلکار نیول ہسپتال لے گئے ہیں۔
پولی کلینک اسلام آباد میں پانچ مقامی باشندوں کی لاشیں اور ایک سو گیارہ زخمیوں کو لایا گیا۔ وہاں زخمیوں میں جرمنی، مراکش اور شام سے تعلق رکھنے والے تین باشندے بھی شامل ہیں۔ سی ڈی اے ہسپتال اسلام آباد میں کے شعبۂ حادثات کے میڈیکل آفیسر ڈاکٹر ظہور کے مطابق ان کے پاس چھ لاشیں اور بائیس زخمی لائے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ مرنے والوں میں سے پانچ افراد کی شناخت ہوچکی ہے جبکہ ایک شخص کی جو حلیے سے سکیورٹی گارڈ معلوم ہوتا ہے شناخت ابھی تک نہیں ہو سکی۔ سی ڈی اے ہسپتال میں لائے جانے والے زخمیوں میں بھی دو غیرملکی شامل ہیں جن کا تعلق امریکہ اور لبنان سے ہے۔ ان دونوں زخمیوں کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ برطانوی ہائی کمیشن کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ ان کے تین اہلکار اور ان کے دو رشتہ دار زخمی ہوگئے ہیں۔ اسلام آباد میں سعودی سفیر عواض العسیری نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ ان کے ’سولہ افراد اس علاقے میں موجود تھے جن میں چار سے چھ افراد لاپتہ ہیں۔‘ پاکستان کے سیکریٹری داخلہ کمال شاہ نے جائے وقوع کا معائنہ کرنے کے بعد کہا ہے کہ یہ دھماکہ خود کش حملہ تھا۔ جس جگہ دھماکہ ہوا وہاں تیس فِٹ گہرا گڑھا بن گیا۔ مشیر داخلہ رحمان ملک نے بتایا کہ انہوں نے جائے وقوع کا دورہ کرنے کے بعد اندازہ لگایا ہے کہ دھماکے لیے تقرباً ایک ہزار کلو گرام دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا ہے۔ پاکستان آرمی نے ہوٹل کو گھیرے میں لے کر دھماکے سے بنے گڑھے سے نمونے اکٹھے کیے ہیں جبکہ رینجرز نے متاثرہ علاقے میں حصار بنایا ہوا ہے۔ سنیچر کو رات گئے میریئٹ ہوٹل کے سکیورٹی افسر میجر امتیاز ڈار کی مدعیت میں انسدادِ دہشتگردی اور ایکسپلوسو ایکٹ کے تحت نامعلوم افراد کے خلاف دھماکے کا مقدمہ بھی درج کر لیا گیا ہے۔ اسلام آباد کے ریڈ سکیورٹی زون میں واقع اس میریئٹ ہوٹل پر حالیہ برسوں میں حملے کا یہ تیسرا واقعہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس سے قبل چھبیس جنوری دو ہزار سات کو ہوٹل کے باہر خودکش حملے میں حملہ آور اور سکیورٹی گارڈ ہلاک ہوا جبکہ پانچ لوگ زخمی ہوئے تھے اور سنہ دو ہزار چار میں جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے جنگجو عبداللہ محسود نے ہوٹل میں ہوئے ایک پراسرار دھماکے کی ذمہ داری قبول کی تھی جو اس وقت کی حکومت کے مطابق شارٹ سرکٹ کی وجہ سے ہوا تھا۔
|
اسی بارے میں ’پانچ دن میں 117 طالبان ہلاک‘15 September, 2008 | پاکستان باجوڑ آپریشن میں 19 طالبان ہلاک17 September, 2008 | پاکستان پیپلز پارٹی کو سخت چیلنجز کا سامنا12 July, 2008 | پاکستان کراچی حملہ: ملزم کو سزائے موت 05 March, 2008 | پاکستان میریئٹ ہوٹل پر ٹرک بم دھماکہ، چالیس ہلاک اور سو سے زائد زخمی20 September, 2008 | پاکستان سوات مزید آٹھ پولیس اہلکار رہا18 September, 2008 | پاکستان دہشت گرد کے خلاف جنگ: سرحد کی دہلیز پر10 September, 2008 | پاکستان بینظیرقتل کیس، سارک سے مدد17 April, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||