نخبت ملک اسلام آباد |  |
 | | | ہر طرف بارود کی بو پھیلی ہوئی تھی |
اسلام آباد بم دھماکے کا شکارہونے والی میریئٹ ہوٹل کی عمارت مصروف شاہراہ آغا خان روڈ پر واقع ہے۔ جائے حادثہ پر رہنے کے بعد دفتر کی طرف واپسی پر جس چوک میں پولیس کچھ دیر پہلے ٹریفک کو متبادل راستہ دے رہی تھی وہاں منظر ہی اور تھا۔ اسلام آباد کے رہائشیوں کا ایک بہت بڑا مجمع اس چوک پر موجود تھا جو یہ دیکھنے آئے تھے کہ ہوا کیا ہے۔ ہوٹل کی عمارت میں لگی آگ تو دور سے ہی نظر آ رہی تھی مگر ان لوگوں کے ساتھ پورے خاندان والے یہاں تک کہ چھوٹے بچے بھی موجود تھے۔ اور سبھی لوگوں کی کوشش تھی کہ کسی طرح وہ جائے حادثہ کو اچھی طرح دیکھ لیں۔ یہی نہیں لوگ ٹولیوں کی صورت میں اپنے بچوں کی انگلی تھامے جائے حادثہ کی طرف چلے آ رہے تھے بالکل اسی طرح جیسے ہمارے ہاں لوگ رات کے کھانے کے بعد عموماً سیر پر نکلتے ہیں۔ ایک شخص اپنی بیوی کے ہمراہ اپنی چار سالہ بیٹی کو گود میں اٹھائے، سات سالہ بیٹے کی انگلی تھامے ارد گرد دیکھنے میں مصروف تھا۔ اس سوال پر کہ بچوں کو یہاں لانے کا کیا مقصد ہے اس نے جواب دیا: ’ بچوں کو سب کچھ تو پتہ ہے ٹی وی پر دیکھ کر ہم سے سوال کرتے ہیں تو اب خود اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ۔ اب ہم سے سوال تو نہیں کریں گے نا۔‘ میریئٹ ہوٹل کی عمارت بری طرح سے آگ کی لپیٹ میں تھی۔ آگ کے شعلے ، دھوئیں کے بادل، عمارت کے سامنے تیس فٹ گہرا اور پینتالیس فٹ چوڑا گڑھا، اس سے آگے پارکنگ میں کھڑی درجنوں تباہ شدہ گاڑیاں، ایمبولینس کے سائرن، فائر برگیڈ کے عملے کی چیخیں، پولیس کی بھاری نفری، ہر طرف بکھری شیشے کی کرچیاں ، سب طرف افراتفری کا عالم اور فضا میں بارود، سبزے اور دھوئیں کی بو رچ گئی تھی۔ اس پوری سڑک پر لوگ اسی طرح اپنے خاندانوں کے ساتھ موجود تھے ۔ ایک طرف تو ٹی وی چینلز پر تشدد کے مناظر دکھائے جانے پر تنقید کی جاتی ہے لیکن جب ماں باپ خود اپنے بچوں کو بم دھماکے کے کچھ ہی دیر بعد اس کی تباہ کاریاں دکھانے لے کر آ ئیں ایسی صورتحال میں کس کو ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ |