اسلحے سے بھرا ٹرک کیسے نکل گیا؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سنیچر کے روز اسلام آباد کے ہوٹل میریئٹ میں ہونے والے خودکش حملوں کی پاکستانی صدر اور وزیر اعظم کے ساتھ ساتھ عالمی برادری نے شدید مذمت کی ہے تاہم حکومت اس کو سکیورٹی کی کوتاہی ماننے کو تیار نہیں ہے۔ اگرچہ اتوار کو مشیر داخلہ کی طرف سے اس واقعہ کے بارے میں کلوز سرکٹ کیمرے سے لی گئی فلم دکھائی گئی جس میں شدت پسند کے ٹرک کو میریئٹ ہوٹل کے گیٹ کے ساتھ ٹکراتے ہوئے دکھایا گیا لیکن کسی پولیس اہلکار نے اُس کو کہیں بھی روک کر چیک نہیں کیا چونکہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ ٹرک کافی فاصلہ طے کرکے اپنے ہدف تک پہنچا تھا۔ جس وقت یہ دھماکہ ہوا اُس وقت وزیر اعظم ہاؤس میں افطار ڈنر چل رہا تھا جو انہوں نے صدر آصف علی زرداری کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے بعد ارکان پارلیمنٹ کےاعزاز میں دیا تھا۔ انٹیلیجنس ایجنسی کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ ٹرک شاہراہ دستور کی طرف سے آیا اور اُس وقت پولیس کی ایک خاصی نفری وہاں پر تعینات تھی جنہیں صدر کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے بعد وہیں پر ہی ڈیوٹی کرنے کا حکم دیا گیا تھا جبکہ شہر کے مختلف علاقوں میں ناکے لگائے تھے جہاں پر پولیس کے اہلکار تعینات تھے۔ اس انٹیلیجنس اہلکار کا کہنا ہے کہ چونکہ جس وقت یہ دھماکہ ہوا وہ افطاری کا وقت تھا اور پولیس اہلکار جو شاہراہ دستور پر تعینات تھے وہ بھی افطاری میں مصروف تھے اس لیے شاید اُس کو چیک نہیں کیا گیا۔
خفیہ ایجنسی کے اہلکار کا کہنا ہے کہ اس دھماکے میں استعمال ہونے والا ٹرک مارگلہ روڈ کی طرف سے ہوتے ہوئے پاک سیکرٹریٹ سے ہوتا ہوا میریئٹ ہوٹل تک پہنچا تھا۔ اسلام آباد کی سکیورٹی ڈویژن کے اہلکار کا کہنا تھا کہ صدر کے پارلیمنٹ کے اجلاس کے موقع پر صرف شاہراہ دستور پر اور اس کے اردگرد چار سو سے زائد پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا جبکہ پارلیمنٹ ہاؤس اور ایوان صدر کی سکیورٹی کی ذمہ داری فوج کے پاس تھی جبکہ رینجرز کو پارلیمنٹ لاجز اور سپریم کورٹ کے باہر تعینات کیا گیا تھا۔ صدر کے پارلیمنٹ ہاؤس سے خطاب کے بعد ریینجرز اور فوجی اہلکاروں کو وہاں سے ہٹا دیا گیا تھا۔ میریئٹ ہوٹل کے باہر ہونے والا دھماکہ اس دھماکے سے مطابقت رکھتا ہے جو کچھ عرصہ پہلے لاہور میں ایف آئی اے کی عمارت کے باہر ہوا تھا۔ دھماکے کے وقت وہاں سے کلوز سرکٹ کیمرے سے لی گئی تصاویر کو اس واقعہ کی تفتیش کرنے والی ٹیم کے حوالے کر دیا گیا ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ اس سے بڑی مدد ملے گی۔ اسلام آباد جیسے شہر میں جہاں پر دنیا بھر کے سفارتکار اور اہم شخصیات رہائش پذیر ہیں وہاں پر کسی مقام پر اور بالخصوص پبلک مقامات پر کلوز سرکٹ ابھی تک نہیں لگائے گئے جبکہ یہ کیمرے لگانے کی ذمہ داری اسلام آباد کے ترقیاتی ادارے سی ڈی اور اور اسلام آباد کی انتظامیہ کو دی گئی تھی لیکن ابھی تک اس پر کوئی علمدرآمد نہیں ہوا۔ مستعفی ہونے والے صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے دور میں جس وقت فوجیوں اور اُن کی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا رہا تھا تو اُس وقت وزارت داخلہ نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک سے ایسے آلات خریدے جائیں اور انہیں اہم تنصیبات کے قریب لگا دیا جائے اور وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ یہ آلات پانچ سو میٹر سے زائد فاصلے پر خود کش حملہ آور اور دھماکہ خیز مواد لیکر جانے والی گاڑی کی بھی نشاندہی کرسکتے ہیں۔ گزشتہ آٹھ سال کے دوران پاکستان میں یہ سب سے بڑا دھماکہ ہے جس میں ایلومینیم پاؤڈر استعمال کیا گیا تھا جو آگ کو بڑھاتا ہے۔ اسلام آباد پولیس جسے ایک ماڈل پولیس بھی کہا جاتا ہے اُس کے پاس نہ تو جدید سازوسامان ہے اور نہ ہی وہ تفتیش کے نئے طریقوں سے آگاہ ہے۔ وفاقی دارالحکومت میں جتنے بھی خودکش حملے یا بم دھماکے ہوئے ہیں اُن میں سے کسی بھی مقدمے کی تفتیش اپنے انجام کو نہیں پہنچ سکی اور زیادہ تر مقدمات عدم پتہ قرار دیتے ہوئے داخل دفتر کر دیئے گئے ہیں۔ اسلام آباد پولیس کی تعداد دس ہزار سے زائد ہے جبکہ اس شہر کی آبادی آٹھ لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ پولیس کی آدھی نفری اسلام آباد میں وی آئی پی ڈیوٹی کرتی ہے جبکہ باقی پولیس شہر میں امن وامان کی صورتحال کو کنٹرول کرتی ہے۔ اسلام آباد پولیس کی اس نفری میں سے صرف ایک سو سے زائد ایسے اہلکار ہیں جنہوں نے دہشت گردی کے واقعات سے نمٹنے کے لیے تربیت حاصل کر رکھی ہے اور یہ چند پولیس اہلکار صرف اُسی وقت ہی میدان میں آتے ہیں جب کوئی وی آئی پی پروگرام منعقد ہو رہا ہو۔ شہر کے مختلف ناکوں اور جگہوں پر جن پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا جاتا ہے ان کے پاس دہشت گردی کے واقعات سے نمٹنے کی کوئی تربیت نہیں ہے۔ اس واقعہ کے بعد اسلام آباد کے ترقیاتی ادارے سی ڈی اے اور فائربرگیڈ کی صلاحیت کی بھی قلعی کھل گئی ہے۔ ان اداروں کے پاس آگ بجھانے یا کسی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مناسب آلات نہیں ہیں۔ سنہ دو ہزار پانچ میں زلزلے کے دوران اسلام آباد کے سیکٹر ایف ٹین مرکزمیں مارگلہ ٹاور زمین بوس ہوگیا تھا تو ان اداروں کے پاس ایسے آلات نہیں تھے کہ وہ ملبے کو ایک طرف کر کے وہاں پر پھنسے ہوئے افراد کو نکال سکتے اور بہت سے افراد ملبہ نہ اُٹھانے کے باعث ہلاک ہوگئے۔ اُس وقت کی حکومت نے کہا تھا کہ ان اداروں کو جدید آلات سے لیس کیا جائے گا لیکن یہ دعوی صرف الفاظ کی حد تک ہی محدود رہا۔ اگرچہ ابھی تک میریئٹ ہوٹل کے باہر ہونے والے خودکش حملے کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی تاہم مشیر داخلہ رحمان ملک کا کہنا ہے کہ اس واقعہ کی جڑیں جنوبی وزیرستان سے جا کر ملتی ہیں۔ دفاعی تجزیہ نگار لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ طلعت مسعود کا کہنا ہے کہ اس قسم کی کارروائی میں القاعدہ بھی ملوث ہو سکتی ہے۔ حکومت کے لیے جہاں اس واقعہ کی تحقیقات مکمل کرکے حقائق کو سامنے لانا ایک چیلنج کی سی حیثیت رکھتا ہے تو دوسری طرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی جدید خطوط پر تربیت دینا اور اُنہیں جدید اسلحہ بھی فراہم کرنا لازمی ہے۔ |
اسی بارے میں ’پانچ دن میں 117 طالبان ہلاک‘15 September, 2008 | پاکستان باجوڑ آپریشن میں 19 طالبان ہلاک17 September, 2008 | پاکستان پیپلز پارٹی کو سخت چیلنجز کا سامنا12 July, 2008 | پاکستان کراچی حملہ: ملزم کو سزائے موت 05 March, 2008 | پاکستان میریئٹ ہوٹل پر ٹرک بم دھماکہ، چالیس ہلاک اور سو سے زائد زخمی20 September, 2008 | پاکستان سوات مزید آٹھ پولیس اہلکار رہا18 September, 2008 | پاکستان دہشت گرد کے خلاف جنگ: سرحد کی دہلیز پر10 September, 2008 | پاکستان بینظیرقتل کیس، سارک سے مدد17 April, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||