میئریٹ جو دہشت گردی کی نظر ہوا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کئی برس تک اسلام آباد کی رونقوں کا مرکز رہنے والا میریئٹ ہوٹل دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے والی دہشت گردی کی بدترین واردات کے دوسرے دن اتوار کی صبح ایک کھنڈر کا نقشہ پیش کر رہا تھا۔ سنیچر کی رات ہوٹل کے صدر دروازے کے باہر ہونے والے بم دھماکے اور اس کے نتیجے میں لگنے والی آگ پر قابو پانے میں ساری رات مصروف رہنے کے بعد ہوٹل کے سوئمنگ پول کے ساتھ آرام کرسی پر نیم دراز ریسکیو 1122 کی ٹیم کےانچارج ڈاکٹر محمد علی مجھے بتا رہے تھے کہ جس شدت کی آگ اس عمارت میں جتنی دیر تک لگی رہی ہے، اس کے بعد اب اس کا دوبارہ استعمال معجزہ ہی ہو گا۔ ہوٹل کی عمارت ستر کی دہائی کے شروع میں تعمیر کی گئی تھی۔ ملک کے امیر ترین لوگوں میں شمار ہونے والے ہاشو گروپ کے بانی چیئرمین صدرالدین ہاشوانی نے انیس سو اٹھہتر میں ’ہالیڈے ان‘ ہوٹلز کا برانڈ نام خرید کر اس نو تعمیر شدہ عمارت کو پاکستان کے دارالحکومت کے اس پہلے فور سٹار ہوٹل میں تبدیل کر دیا۔ اس وقت اسلام آباد کو سویا ہوا شہر کہا جاتا تھا۔ گرمیوں کے طویل دن ہوں یا سردیوں کی نہ ختم ہونے والی سرد راتیں، اسلام آباد کی سڑکیں سرِ شام سنسان ہو جایا کرتی تھیں۔ ایسے میں ہالیڈے ان ہوٹل کی لابی کراچی اور ملک کے دیگر علاقوں سے وفاقی دارالحکومت کو بسانے کے لئے آنے والے سرکاری افسران اور ان کے اہل خانہ کی جائے پناہ بنتی۔
یہ سلسلہ برس ہا برس یونہی چلتا رہا۔ آغا خانی فرقے سے تعلق رکھنے والے صدرالدین ہاشوانی نے صدر جنرل ضیا الحق کے آمرانہ دور کے خاتمے اور ملک میں جمہوریت کی بحالی کے ساتھ ہی اسلام آباد میں ایک بڑے ہوٹل کی ضرورت کو بھانپ لیا۔ اور بلآخر ستمبر انیس سو بانوے میں میریئٹ کی غیر ملکی انتظامیہ سے ان کے معاملات طے پا گئے اور اسلام آباد کا ہالیڈے ان، میریئٹ میں تبدیل ہو گیا۔ اس کے بعد سے میریئٹ ہوٹل ہر گوناگوں سیاسی اور سماجی سرگرمیوں کا مرکز بنا رہا۔ ہوٹل انتظامیہ نے پیپلز پارٹی کے دوسرے دور حکومت میں یہاں ’مڈیز‘ کے نام سے اسلام آباد کے پہلے بار اور ڈانس فلور کا بندوبست کر دیا۔ یہ بار جب تک کھلا رہا، اسلام آباد کی ہوٹل کی رونقوں کو چار چاند لگاتا رہا۔ بعد میں اس کو چند ’ناگزیر‘ وجوہات کی بنا پر بند کر دیا گیا یہ اسی ہوٹل کی تیسری اور چوتھی منزل ہی تھی جسے انیس سو نوے میں اس وقت کی وزیراعظم بینظیر بھٹو کے خلاف پیش کی جانے والی تحریک عدم اعتماد کے دوران ارکانِ اسمبلی کو ’قید‘ رکھ گیا۔ اسلام آباد کے شہریوں نے انہی دنوں پہلی بار اس عمارت پر سیکیورٹی اقدامات دیکھے۔ ان دنوں جبکہ سیکیورٹی کا تصور آج سے خاصا مختلف تھا، اس عمارت کا حفاظتی حصار اسلام آباد کے رہنے والوں کے لیے غیر معمولی تھا۔ یہ معاملہ چند روز چلا جس کے بعد ارکانِ اسمبلی کی اس سرکس کو مری کے پر فضا مقام پر منتقل کر دیا گیا۔ پھر ایک روز گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کا دن آ گیا۔ پاکستان اور دنیا بھر کے وہ صحافی جو دہشت گردی کے خلاف جنگ کا آغاز دیکھنے پاکستان آئے تھے میریئٹ ہوٹل کے وہ شب و روز شائد کبھی نہیں بھول پائیں گے۔ ان تین مہینوں کے دوران پورے کا پورا میریئٹ ہوٹل ایک میڈیا سٹی میں تبدیل ہو گیا تھا۔ ہر کمرے کے باہر کسی نہ کسی غیر ملکی ٹیلی وژن چینل کا کیمرہ اور دیگر سامان پڑا نظر آتا تھا۔ ہاشوانی صاحب نے بھی اس صورتحال کو خوب فائدہ اٹھایا اور کمروں کے کرایوں میں کئی گنا اضافہ کر ڈالا۔ نائن الیون سے اس ہوٹل نے خوب مال کمایا۔ اور بلاخر اسی کے تسلسل میں ہونے والے واقعات بلاخر آج اسکی تباہی کا باعث بنے۔ پاکستان نے گیارہ ستمبر کے بعد شروع ہونے والی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا اور اپنے قبائلی علاقوں میں القاعدہ اور شدت پسندوں کے مبینہ ٹھکانوں کو نشانہ بنانا شروع کیا۔ جواب میں ان مسلح قبائلی شدت پسندوں نے پاکستان کی طرف سے شروع کی جانے والی یہ لڑائی، پاکستان کے دل تک لانے کے دھمکی دے ڈالی۔ اور سنہ دو ہزار چار میں میریئٹ ہوٹل شدت پسندوں کی جانب سے شروع کی جانے والی اس جنگ کا محاذ بنا جب اس کی لابی میں بریف کیس بم کا دھماکہ ہوا۔ اس کی ذمہ داری قبائلی جنگجو عبداللہ محسود نے قبول کی اور واضح طور پر حکومت پاکستان کو بتا دیا کہ یہ اسلام آباد پر آخری حملہ نہیں ہے۔ اسلام آباد کے ریڈ زون میں واقع یہ ہوٹل اردگرد کی سرکاری عمارتوں کی نسبت دہشت گردوں کے لئے نسبتاً آسان ہدف کے طور پر سامنے آیا۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ برس چھبیس جنوری کو ایک بار پھر اسے نشانہ بنایا گیا۔ اس بار حملہ خو کش تھا۔ اور سنیچر کی رات میریئٹ ہوٹل پر ہونے والا یہ آخری حملہ ثابت ہوا۔ |
اسی بارے میں میریئٹ: آگ پر قابو، ہلاکتیں چون، سکیورٹی سخت21 September, 2008 | پاکستان سپاہیوں اورسکیورٹی کی آخر تک دھماکہ روکنے کی کوشش: وڈیو21 September, 2008 | پاکستان میریئٹ: آگ پر قابو، ہلاکتیں اکتالیس، سکیورٹی سخت21 September, 2008 | پاکستان ’600 کلوگرام بارود استعمال کیا گیا‘21 September, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||