BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 21 September, 2008, 22:09 GMT 03:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’دہشتگردی کے خلاف جنگ ہماری دہلیز پر‘

ساجدہ بی بی
میرے چار چھوٹے چھوٹے بچوں کا کیا بنےگا:ساجدہ بی بی
اسلام آباد کے میریئٹ ہوٹل میں ہوئے خودکش ٹرک حملے میں ہلاک ہونے والے سکیورٹی اہلکاروں کے لواحقین کا کہنا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ اب ان کےگھروں تک پہنچ گئی ہے۔

خودکش بم دھماکے میں ہلاک ہونے والوں میں میریئٹ ہوٹل کے داخلی دروازے پر کھڑے ہوٹل کے سکیورٹی اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد شامل ہے۔ ہلاک ہونے والے سکیورٹی اہلکاروں میں سے تین کا تعلق اسلام آباد کے مضافاتی گاؤں چراہ سے ہے۔

دھماکے میں ہلاک ہونے والے تیس سالہ سکیورٹی گارڈ سیاب کی والدہ صغراں بی بی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا’میرا لال تین دن پہلےگھر سے ہنستا ہوا کمانے کے لیے گیا لیکن بےگناہ اور بےقصور مارا گیا‘۔ انہوں نے سسکیاں لیتے ہوئے کہا کہ’ہائے میرے لال کا کیا قصور تھا؟ کیوں ظالموں نے بےگناہ کو مار ڈالا‘۔

ہلاک ہونے والے سکیورٹی اہلکار سیاب کی تقریباً دو سال پہلے ہی شادی ہوئی تھی اور ان کی ایک ڈیڑھ سالہ بیٹی بھی ہے۔ سیاب کی بیوہ کے بارے میں ان کے بھائی ارشد علی نے بتایا کہ’جب اسے کل رات سیاب کی موت کی خبر ملی تو اس وقت سے کبھی بے ہوش ہو جاتی ہے تو کبھی نیم پاگلوں جیسی حرکتیں کرنا شروع کر دیتی ہے۔ جبکہ ابھی بھی اس کی حالت ایسی ہے کہ آپ سے بات نہیں کر سکتی‘۔

کیوں ظالموں نے بےگناہ کو مار ڈالا:والدہ سیاب

قریب ہی بیٹھے سیاب کے ماموں زاد بھائی ذوق نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بارے میں تو بہت سنا تھا لیکن اب یہ جنگ ہمارے گھروں تک پہنچ گئی ہے۔

بم دھماکے میں ہلاک ہونے والے پچاس سالہ سکیورٹی گارڈ حفیظ الرحمان کی بیوہ تو صدمے کے باعث کچھ نہ بول سکیں لیکن ان کی بیٹی نے بتایا کہ ’سنیچر کو ہمارے ابو سب سے مل کے ہنسی خوشی گھر سے گئے تھے۔ کاش کہ ہمیں پتہ ہوتا کہ بم دھماکہ ہونا ہے تو ہم انہیں کبھی نہ جانے دیتے۔جبکہ میرا چھ سالہ بھائی ابھی بھی ابو کو یاد کر رہا ہے۔ لیکن اب وہ کبھی نہیں آئیں گے‘۔

حفیظ الرحمان کے بڑے بیٹے زعفران جو میریئٹ ہوٹل میں ڈرائیور ہیں، انہوں نے کہا وہ دھماکے سے تھوڑی دیر پہلے ہوٹل کی پچھلی جانب چلے گئے تھے لیکن ان کا بھائی اور والد ہوٹل کے باہر والےگیٹ کے پاس ڈیوٹی پر موجود تھے۔

دھماکے میں ہلاک ہونے والے سکیورٹی گارڈ کا شناختی کارڈ

زعفران کے مطابق دھماکے کے فوری بعد انھیں کچھ پتہ نہیں چلا کہ کیا ہوا ہے لیکن بعد میں اپنے والد کو تلاش کرنے کی کوشش کی لیکن کوئی کامیابی نہ ہوئی اور بعد میں انھیں پمز ہسپتال میں والد کی لاش ملی جبکہ بھائی کی دونوں ٹانگیں بری طرح زخمی ہوگئیں اور وہ ہسپتال میں زیرِ علاج ہے۔

اسی گاؤں کے ہلاک ہونے والے تیسرے سکیورٹی اہلکار نجابت حسین کی بیوہ ساجدہ بی بی نے روتے ہوئے کہا ’میرے چار چھوٹے چھوٹے بچوں کا کیا بنےگاجبکہ سب سے بڑے ابھی صرف تیرہ سال کا ہے‘۔ ساجدہ بی بی کے مطابق ’دھماکے والے دن گھر سے جانے سے پہلے انھوں نے کہا تھا رمضان کا مہینہ ہے، اس لیے گاؤں کی کسی بیوہ خاتون کی مالی امداد کر دینا لیکن آج میں خود بیوہ ہو گئی ہوں‘۔

دھماکے کی اگلی صبح
دن کی روشنی میں تباہی کا منظر: تصاویر
میریئٹ ہوٹلمیریئٹ کا اندرون
میریئٹ ہوٹل: اندرونی حصے کی تصاویر
ناکافی سکیورٹی
اسلحے سے بھرا ٹرک کیسے نکل گیا؟
میریئٹ ہوٹل’خود ہی دیکھ لیں‘
لوگ بچوں سمیت جلتا میریئٹ ہوٹل دیکھنے آئے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد