مزید فول پروف اقدامات ضروری ہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آٹھ اکتوبر دو ہزار پانچ کے زلزلے کی طرح میریئٹ ہوٹل بم دھماکے نے بھی کئی ایسی انتظامی خامیوں کو ایک بار پھر بے نقاب کیا ہے جنہیں ہر حکومت دور کرنے کے بجائے لیپا پوتی اور آئندہ ایسا نہیں ہوگا ٹائپ بیانات دے کر نظرانداز کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ تین برس قبل زلزلے کے بعد اس بات کا سرکاری طور پر اعتراف کیا گیا تھا کہ حکومتی اداروں کے پاس ملبے میں دبے افراد کو نکالنے، آگ پر قابو پانے اور ناگہانی آفات سے نمٹنے کے لئے نہ تو جدید سہولتیں اور آلات ہیں۔ نہ ایمرجنسی اداروں کے درمیان ضروری رابطہ یا معلومات کی فوری فراہمی کا کوئی طے شدہ طریقِ کار ہے اور نہ ہی ایسے مواقع کے لئے ضروری تربیت ہے۔اس وقت کی حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ ان خامیوں کو جلد از جلد دور کیا جائے گا اور ایک نیشنل والنٹیئر فورس بھی قائم ہوگی جو ایمرجنسی اداروں کی مدد کرسکے۔ لیکن جب بیس ستمبر کو میریئٹ میں دھماکہ ہوا اور آگ نے عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تو سوائے ایمبولینس ریسکیوسروس کے کوئی دوسرا امدادی ادارہ فوری طور پر جائے حادثہ پر نہ پہنچ سکا۔کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی، بری، بحری اور فضائی افواج کے فائر بریگیڈ کے شعبے دارالحکومت اور راولپنڈی میں موجود ہیں۔لیکن پہلا فائر انجن آدھے گھنٹے بعد پہنچا اور اسے بھی جائے حادثہ پر فعال ہونے میں پندرہ منٹ مزید لگ گئے۔
تب تک آگ ہوٹل کی چوتھی اور پانچویں منزل کو پوری طرح اپنی لپیٹ میں لے چکی تھی۔یہ آگ بارودی مواد کے ساتھ شامل ایلومینئم پاؤڈر سے لگی اور پھر گیس پائپ لائن پھٹنے کے بعد بے قابو ہوتی چلی گئی۔کیمیاوی مواد اور گیس کی آگ کبھی بھی محض پانی کی دھار سے قابو میں نہیں آتی بلکہ اس کے لئے دیگر مخصوص مادے اور طریقے استعمال کئے جاتے ہیں۔ لیکن میریئٹ کی آگ بجھانے والے فائر بریگیڈ عملے کے پاس سوائے پانی کے کچھ نہ تھا۔اور پانی کی دھار بھی گراؤنڈ فلور سے پانچویں فلور کی جانب چھوڑی جارہی تھی۔ سنا یہ گیا ہے کہ ایمرجنسی سے نمٹنے کے لئے حکومت کے پاس اسنارکلز بھی ہیں۔لیکن کوئی اسنارکل نظر نہیں آئی۔ویسے بھی وفاقی مشیرِ داخلہ رحمان ملک کے بقول فائر بریگیڈ کے پاس چوتھی منزل سے اوپر آگ بجھانے کے لئے آلات نہیں ہیں۔گویا اگر شاہراہ دستور پر قائم سولہ سے بیس منزلہ عمارتوں میں خدانخواستہ آگ لگ جائے تو پھر پیشگی فاتحہ پڑھنا زیادہ مناسب رہے گا۔ اخباری اطلاعات کے مطابق اس واقعہ سے یہ خامی بھی تازہ ہوئی کہ فائیو سٹار ہوٹل ہونے کے باوجود عمارت سے باہر نکلنے کے لئے ہنگامی راستے نہیں تھے۔اگر تھے بھی تو ان کے بارے میں کوئی معلوماتی اشارے کسی بھی فلور پر نہیں تھے۔نہ جانے اہم سرکاری اور نجی کثیر منزلہ عمارات میں اس بابت کیا صورتحال ہے۔کوئی نہیں جانتا۔ جب بھی کوئی خودکش دھماکہ یا فائرنگ کا بڑا واقعہ ہوتا ہے تو حکومت پہلا اعلان یہ کرتی ہے کہ پولیس کو ریڈ الرٹ کردیا گیا ہے اور آنے جانے والے راستوں کی نگرانی سخت کردی گئی ہے۔اسلام آباد پولیس بہت پہلے سے ریڈ الرٹ پوزیشن میں ہے۔اسے مزید ریڈ الرٹ کرنے کا حکم کا کیا مطلب ہے۔ اس کا تشفی بخش جواب کسی سرکاری عملدار کے پاس نہیں۔ویسے بھی دارالحکومت کی دس ہزار پولیس جس کے پاس دھماکہ خیز مواد کی شناخت کرنے والے تربیت یافتہ کتے نہیں ہیں ( یہ سہولت آرمی کو حاصل ہے) جبکہ پولیس فورس میں سے محض ایک سو کے لگ بھگ اہلکار ایسے ہیں جنہیں دہشت گردی کے ماحول سے نمٹنے کی تربیت دی گئی ہے۔بیشتر سپاہیوں کو تو ٹرانسپورٹ کی بھی سرکاری سہولت میسر نہیں ہے اور وہ بچارے شاہراہوں پر کھڑے ڈیوٹی پر آنے جانے کے لئے ہر گاڑی کو اشارہ دیتے نظر آتے ہیں۔ ایسے احسان مند سپاہی آخر کتنی گاڑیوں کو مشکوک سمجھ کر انکی تلاشی لینے کے قابل ہیں۔ جبکہ تلاشی کے لئے انکے پاس ڈنڈے پر فٹ شیشے کے علاوہ کوئی اور آلہ بھی نہیں ہوتا۔ویسے بھی اس پولیس فورس کی ایک چوتھائی سے زائد نفری وی آئی پی پہرے اور نقل و حرکت کے لئے وقف ہے۔
ان خامیوں کو دور کرنے کے اعلانات کے بجائے وفاقی مشیرِ داخلہ رحمان ملک نے میریٹ دھماکے کے دو روز بعد جن حفاظتی اقدامات کا اعلان کیا ہے ان میں سے ایک یہ ہے کہ دارالحکومت میں ٹرکوں کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔کیونکہ میریئٹ دھماکہ ایک بارودی ٹرک نے کیا تھا۔ ٹرکوں پر پابندی کے سبب یہ نہیں معلوم کہ اب کوئی شخص تعمیراتی سامان اور اشیائے خوردونوش کی نقل و حمل کے لئے کونسی متبادل ٹرانسپورٹ استعمال کرے گا۔اس منطق کی روشنی میں کاروں اور موٹر سائیکلوں پر بھی پابندی ہونی چاہئیے کیونکہ ٹرکوں کی نسبت کاریں اور موٹر سائکل بم زیادہ پھٹتے ہیں۔بلکہ پیدل چلنے والوں پر بھی پابندی ہونی چاہئے۔کیونکہ اکثرخودکش بمبار پا پیادہ اپنے اہداف پر پھٹتے ہیں۔ رحمان ملک نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ ریڈ زون جس میں اہم سرکاری عمارات واقع ہیں وہاں کیمرے لگائے جارہے ہیں۔سوال یہ ہے کہ اسپتال، سپر مارکیٹس اور مقامی و بین الاقوامی اداروں کے اہم دفاتر جن کی اکثریت ریڈ زون سے باہر ہے انکے تحفظ کے لئے کیا اقدامات کئے جائیں گے۔ رحمان ملک نے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ حکومت کو پولیس، ملٹری انٹیلی جینس ، آئی ایس آئی ، انٹیلی جینس بیورو اور ایف آئی اے کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں پر پورا بھروسہ ہے لہذا میریئٹ دھماکے کی تفتیش کے لئے غیرملکی اداروں کی خدمات کی پیش کش قبول نہیں کی گئی۔تو کیا یہ اطلاع اقوامِ متحدہ تک پہنچا دی گئی ہے۔جس سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ بے نظیر بھٹو کیس کی آزادانہ تفتیش کرے۔ ساتھ ساتھ میڈیا کے کارکنوں کی بھی ہنگامی حالات کے دوران کام کرنے کے لئے تربیت کی سخت ضرورت ہے۔یہ بات مجھے دھماکے کے فوراً بعد ایک ٹی وی چینل کی لائیو کوریج دیکھنے کے بعد کہنی پڑ رہی ہے۔منظر کچھ یوں ہے کہ ایک غیر ملکی باشندہ جس کے سر سے بری طرح خون بہہ رھا ہے ۔ہوٹل سے باہر نکلتے ہوئے ایک ٹی وی رپورٹر اسکے ساتھ ساتھ دوڑتے ہوئے پوچھ رھا ہے۔ |
اسی بارے میں ’بارود فوجی نوعیت کا استعمال ہوا‘21 September, 2008 | پاکستان ’عام جنگ نہیں گوریلا وار ہے‘21 September, 2008 | پاکستان میریئٹ: آگ پر قابو، ہلاکتیں اکتالیس، سکیورٹی سخت21 September, 2008 | پاکستان میریئٹ: آگ پر قابو، ہلاکتیں چون، سکیورٹی سخت21 September, 2008 | پاکستان حملہ القاعدہ کے خطرے کا مظہر:بش20 September, 2008 | پاکستان ’قوم درد کو طاقت میں بدل دے‘20 September, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||