BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 23 September, 2008, 00:32 GMT 05:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بش زرداری ملاقات:’فوج کی کارکردگی پرغور‘
آصف زرداری
زرداری سلامتی کونسل کے سے خطاب کریں گے
پاکستان کےصدر آصف زرداری نے نیو یارک میں امریکی صدر جارج بش سے ملاقات کی ہے جس میں پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کی کارکردگی زیرِ بحث رہی۔

پاکستان کی وزیر اطلاعات نے دونوں رہنماؤں کے درمیان اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے قبل ہونے والی اس ملاقات کی تفصیلات ذرائع کو بتاتے ہوئے کہا کہ ملاقات انتہائی خوشگوار انداز میں ہوئی اور امریکی صدر نے دہشتگری کے خلاف آصف زرداری کے عزم کی تعریف کی۔

نیو یارک میں بی بی سی کے نمائندے حسن مجتبیٰ کے مطابق وزیر اطلاعات شیری رحمن نےصحافیوں کو بتایا کہ امریکی اور پاکستانی صدور کی ملاقات کے دوران پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کی کارکردگی زیر بحث آئی ہے۔ اس ملاقات میں القاعدہ اور طالبان کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں بھی غور ہوا۔

پاکستانی وزیر اطلاعات کے مطابق ملاقات میں پاکستان کے علاقوں میں امریکی کارروائي اور پاکستان کی خود مختاری کے معاملات بھی زیر بحث رہے۔ تاہم وزیر اطلاعات نے مزید تفصیلات بتانے سےگریز کیا۔

صدر زرداری سے صدر بش کی ملاقات نیویارک کے ہوٹل والڈراف اسٹوریا میں ہوئی جہاں امریکی صدر جنرل اسبملی کے تریسٹھویں اجلاس میں شرکت کے سلسلے میں قیام پذیر ہیں۔

پاکستان کی وزیر اطلاعات نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ آئي ایس آئی سمیت پاکستان کی سکیورٹی ایجنیسوں کےمعاملات بھی بات چیت کا موضوع رہے۔

شیری رحمان نے جنرل اسبملی کے اجلاس کے مو‍قع پر صدر زرداری اور امریکی صدر جارج بش کے درمیاں ہونے والی ملاقات کے دوران اپنے مشاہدات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’صدر بش اور صدر زرداری کی کیمسٹریاں ملتی ہوئی نظر آئیں‘ اور دونوں رہنماؤں نے نہایت ہی خوشگوار ماحول میں ملاقات کی-

شیری رحمان نے بتایا کہ پہلے پاکستانی حکومتی وفد کے اراکین کے ہمراہ اور بعد میں صدر بش اور صدر زرداری نے آپس میں تنہائی میں ملاقات کی۔ تمام ملاقات پینتیس منٹ جاری رہی۔

شیری رحمان نے پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ صدر بش نے پی پی پی کی سربراہ بینظیر بھٹو کے قتل پر آصف علی زرادری کیساتھ تعزیت کی۔

شیری رحمان نے بتایا کہ صدر بش نے اسلام آباد میں حال ہی میں ہونیوالے میریٹ ہوٹل پر بم حملے میں ہلاک ہونیوالے پاکستانیوں کی ہلاکتوں پر تعزیت کی اور، بقول شیری رحمان، صدر زرداری کو دہشتگردی کیخلاف ڈٹ کر کھڑے ہوجانے پر انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ (آصف زرداری) ذاتی طور پر دہشتگردی کے نقصانات اٹھانے کے باوجود بڑی ہمت سے کھڑے ہیں۔

صدر آصف زرداری جن کے بارے میں بتایا گیا تھا کہ وہ صرف پانچ وفا‍قی وزراء کے ساتھ امریکہ کا دورہ کر رہے تھے اب انہوں نے اپنے وفد میں بائيس صحافیوں کا بھی اضافہ کرلیا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے تصدیق کی کہ صدر زرداری کے وفد میں بائيس صحافیوں کا اضافہ کیا گيا ہے جن کے تمام اخراجات حکومت پاکستان ادا کرے گي-

شیری رحمان نے پریس کو بتایا کہ صدر آصف علی زرداری نے فرانس کے صدر نکولس سرکوزی سے بھی ملاقات کی جس کے دوران صدر زرداری نے صدر سرکوزی کو پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت دی جو انہوں نے قبول کرلی ہے۔

صدر آصف علی زرداری نے اقوام متحدہ کی سائيڈ لائنز پر ایران کے صدر احمدی نژاد سے بھی ملاقات ہوئی جس کے دوران ، مقامی میڈیا کے مطابق، دونوں رہنماؤں کے درمیان ایران، پاکستان اور بھارت پائپ لائن منصوبہ جلد از جلد مکمل ہونے پر اتفاق ہوا۔

اقوام متحد کے صدر دفاتر کے باہر نیویارک کے یہودی اور دیگر گروپوں نے صدر احمدی نژاد کیخلاف زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔

شیری رحمان نے پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ صدر آصف علی زرداری کی ترکی کے صدر عبد اللہ گل کے ساتھ بھی ملاقات ہوئی۔

آصف زرداری سے بات چیت سے کچھ دیر پہلے صدر بش نے کہا کہ وہ پاکستان کی حفاظت کے لیے مدد کرنا چاہتے ہیں۔

آصف زرداری اور جارج بش کی ملاقات ایسے موقع پر ہوئی ہے جب پاکستان میں امریکہ کے خلاف اس بات پر شدید غصہ ہے کہ وہ افغانستان کی سرحد عبور کر کے پاکستان کی خود مختاری کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

صدر زرداری سے ملاقات سے قبل مختصر گفتگو کے دوران صدر بش نے پاکستان کے شمال مغربی علاقے میں شدت پسندوں کے خلاف امریکی فضائی حملوں کے متنازع موضوع کا ذکر کرنے سے اجتناب کیا۔

صدر بش کا کہنا تھا: ’پاکستان کی خود مختاری اور اس کے تحفظ کے بارے میں آپ کے الفاظ بہت زوردار ہیں اور امریکہ (پاکستان کی) مدد کرنا چاہتا ہے‘۔

پاکستانی صدر نے امریکہ پہنچنے کے بعد ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ امریکہ، پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کر کے اقوامِ متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی کر رہا ہے جو پاکستان کو قبول نہیں۔

دونوں رہنماؤں کے درمیان اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے قبل ہونے والی اس ملاقات کی تفصیل ابھی تک سامنے نہیں آئی۔

اسی بارے میں
’قوم درد کو طاقت میں بدل دے‘
20 September, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد