BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 17 September, 2008, 05:48 GMT 10:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پاکستان کی خود مختاری کا احترام‘

 ایڈمرل مائیکل مولن
ایڈمرل مائیکل مولن کی پاک فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کے ساتھ تین ہفتوں میں دوسری ملاقات ہے۔

امریکی جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے چیئرمین ایڈمرل مائیک مولن نےدہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے ملک کی سول اور فوجی قیادت کو پاکستان کی خودمختاری کا احترام کرنے کا یقین دلایا ہے۔

یہ بات اعلیٰ ترین امریکی فوجی افسر کی وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور بری فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کے ساتھ ملاقاتوں کے بعد امریکی سفارتخانے سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہی گئی ہے۔

بیان میں بتایا گیا ہے کہ ایڈمرل مولن نےمکمل امریکی حمایت کا یقین دلاتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے ’مثبت‘ کردار کی تعریف بھی کی۔

بیان کے مطابق دوستانہ ماحول میں ہونے والے اس مثبت اور تعمیری تبادلہ خیال کے دوران امریکی فوجی افسر نے امریکہ کی جانب سے پاکستان کی خودمختاری کا احترام کرنے کے امریکی عزم کو دہراتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے ساتھ تعاون اور رابطے میں اضافے کا بھی یقین دلایا ہے۔

اس سے پہلے منگل کی رات اچانک اسلام آباد پہنچنے والے امریکی ایڈمرل نے اپنے وفد کے ہمراہ ایوان وزیراعظم میں پاکستانی سول اور فوجی حکام سے مشترکہ ملاقات کی۔ پاکستان کی جانب سے ان مذاکرات میں وزیر دفاع احمد مختار، مشیر داخلہ رحمٰن ملک اور قومی سلامتی کے مشیر محمود علی درانی بھی موجود رہے۔

ایوان وزیراعظم آمد سے قبل ایڈمرل مولن نے راولپنڈی میں بری فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی سے غیر رسمی ملاقات کی جس کے بارے میں فوج کے تعلقات عامہ نے کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔

حالیہ دنوں میں پاکستان کی سرحدی خلاف ورزیوں پر امریکہ اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں پائی جانے والی کشیدگی کے پس منظر میں ایڈمرل مولن کی پاکستان میں ان مصروفیات کو خاصی اہمیت دی جا رہی ہے۔

ان ملاقاتوں کے بعد جاری ہونے والی امریکی بیان میں ان پاکستانی خدشات کا ازالہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو پاکستان حالیہ دنوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کے حوالے سے اٹھاتا رہا ہے۔

دو ہفتے قبل پاکستان کے سرحدی علاقے انگور اڈہ میں امریکی فوجی کارروائی کے بعد پاکستانی وزیراعظم نے افغانستان میں تعینات امریکی اور اتحادی افواج سے پاکستانی سرحدوں اور خومختاری کا احترام کئے جانے کا مطالبہ کیا تھا۔

یوسف رضا گیلانی نے امریکی اور پاکستانی افواج کے درمیان معلومات کے تبادلے کے نظام اور پاکستان، افغانستان اور امریکہ کے درمیان قائم سہ فریقی کمیشن کو مؤثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔

مبصرین ایڈمرل مولن کے اس اچانک دورے کو ان کی جانب سے پاکستانی سرحدی حدود کے اندر مشتبہ شدت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائی کرنے کے اعلان کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کی اہم ترین اتحادی فوج کے درمیان پیدا ہونے والی غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔

پاکستان کی سرحدی حدود کی خلاف ورزیوں پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں امریکی فوج کی جائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی کے چیئرمین ایڈمرل مائیکل مولن منگل کی رات کو پاکستان کے ایک اہم دورے پر اسلام آباد پہنچے تھے۔

اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کے ترجمان نے کہا کہ ایڈمرل مولن پاکستان دورے کے دوران کئی اہم امور پر تبادلہ خیال کریں گے جن میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک افغان سرحد پر تعاون اور رابطوں کو بہتر بنانےکا معاملہ بھی شامل ہے۔

دریں اثناء امریکہ کے وزیر خارجہ رابرٹ گیٹس بھی کابل کے دورہ کیا ہے جہاں انہوں نے منگل کے روز افغان صدر حامد کرزئی سے ملاقات کی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد