افغانستان کی پرخطر راہوں پر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حال ہی میں کابل میں اپنے دو افغان دوستوں سے جوتوں پر بات کر رہی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ چونکہ میں نے نیل پالش لگائی ہوئی ہے اس لیے میرا کھلے جوتے پہننا صحیح نہیں کیونکہ اس سے میں توجہ کا مرکز بن جاؤں گی۔ وہ میرے اونچی ایڑی والے جوتے پہننے پر تو تیار تھے مگر شرط یہ کہ وہ آگے سے بند ہوں۔ برطانوی ہونے کے ناتے میرے لیے یہ جوتے زیادہ توجہ حاصل کرنے والے تھے لیکن میں نے اپنے خیالات اپنے آپ تک ہی رکھے کیونکہ جس سفر پر میں جا رہی ہوں وہاں سے مطابقت رکھتے ہوئے نظر آنا بہت ضروری ہے۔ میں افغانستان کے جنوب مشرق میں طالبان کا گڑھ سمجھے جانے والے علاقے میں جا رہی ہوں اور ضروری ہے کہ اگر ہماری گاڑی روکی جائے تو میں ایک مقامی شہری لگوں۔ یہ تو پہلے سے ہی طے ہے کہ میں برقع اوڑھوں گی کیونکہ اس کے بناء یہ دورہ ممکن ہی نہیں۔اس سفر پر برقع پہننے کی وجہ سے کم از کم مجھے صرف ان خطرات کا سامنا ہے جو کہ ایک عام افغان کو درپیش ہیں اور میں ان مزید خطرات سے تو محفوظ ہوں جن کا سامنا ایک مغربی شہری کو کرنا پڑتا ہے۔ لیکن کیا یہ عجیب بات نہیں کہ جب طالبان حکومت میں تھے تو میں اسی سڑک پر خود گاڑی چلاتی تھی اور آج میں گاڑی کی پچھلی نشست پر منہ ڈھکے بیٹھی ہوں۔ افغانستان کتنی تیزی سے بدلتا ملک ہے۔ آٹھ برس قبل اس علاقے تک رسائی نہ ہونے کی وجہ خود سڑک تھی۔ بڑے بڑے گڑھوں نے جیسے سڑک کو کھا گئے تھے اور ڈرائیور کو گرمیوں میں گرد کے بادلوں اور سردیوں میں کیچڑ بھرےگڑھوں کا سامنا ہوتا تھا۔ سنہ 2001 میں طالبان کے سقوط کے بعد اب نہ صرف سڑک تعمیر ہوگئی ہے بلکہ یہ کہیں زیادہ ہموار ہے لیکن اب مسئلہ سکیورٹی ہے جس کے حالات گرمیوں میں مزید مخدوش ہو جاتے ہیں۔اقوامِ متحدہ کا عملہ اب یہ راستہ استعمال نہیں کرتا اور خود افعان بھی شام چار بجے کے بعد اس سڑک پر سفر کرنے سے کتراتے ہیں۔ اس راستے پر خطرہ ہے حملوں کا، ڈکیتیوں کا اور یہ نہیں تو پھر کسی امریکی یا افغان فوجی قافلے پر کیے جانے والے حملے کی زد میں آ جانے کا۔ آپ کی کار طالبان کی جانب سے قائم کردہ موبائل حفاظتی چوکی پر تلاشی کے لیے روکی جا سکتی ہے۔ یہ چیک پوسٹس اس بات کا مظہر ہیں کہ طالبان اس سڑک کو کنٹرول کرتے ہیں۔
کابل کے نواح میں رہائش پذیر میرے ایک دوست کا کہنا ہے کہ’افغانستان ان دنوں سنہ 1981 کے افغانستان جیسا لگنے لگا ہے۔ سوویت قبضے کے دوران دن میں ہمارے علاقے پر حکومت کی عملداری ہوتی تھی تو رات کو مجاہدین کی‘۔ کبھی افغانستان کے اس حصے میں سفر کرنا ایک خوش کن تجربہ تھا۔ یہ پشتون اکثریتی علاقہ ہے جہاں ہرگھر کے گرد فصیل ہے اور شاذو نادر ہی کوئی عورت باہر نظر آتی ہے۔ ایک مرتبہ جب شدید گرمی میں یہاں فلمبندی کر رہی تھی تو میرے آئسکریم کھانے پر ہنگامہ ہوتے ہوتے رہ گیا تھا کیونکہ بے شمار مرد اور لڑکے ایک بےنقاب عورت کو دیکھنے کے لیے جمع ہو گئے تھے۔ سنہ 2001 میں بھی جب طالبان کا زور ٹوٹ رہا تھا تو جنگی سردار افغانستان بھر میں پھیل گئے اپنی اپنی جاگیریں قائم کر لیں لیکن جنوب مشرقی افغانستان میں ایسا نہیں ہوا۔ میں نے یہاں قبائل کو کنٹرول سنبھالتے ہوئے دیکھا۔ انہوں نے قبائلی کونسل قائم کیں، سکیورٹی کا نظام سنبھالا اور پھر اقوامِ متحدہ اور بی بی سی سے رابطہ کیا تاکہ انہیں بتایا جائے کہ اس علاقے میں طالبان کا دور ختم ہوا اور القاعدہ وہاں سے فرار ہوگئی ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب یہ علاقہ کابل سے زیادہ محفوظ تھا لیکن اب یہاں طالبان کا راج ہے۔ وہ جو سنہ 2001 میں طاقت کھو بیٹے تھے اب واپس آئے ہیں اور یہاں اب طالبان ہی نہیں بلکہ القاعدہ بھی ہے۔ شدت پسندی نے بربریت کا راستہ اپنا لیا ہے۔ طالبان اب صرف لڑ ہی نہیں رہے بلکہ پرتشدد حربے اپنا رہے ہیں، خودکش حملے کر رہے ہیں، سکولوں کو نذرِ آتش کر رہے ہیں اور مبینہ جاسوس کو قتل کر رہے ہیں۔ لیکن اسے باوجود افغانستان کے طالبان سے ملاقات کرنا محفوظ ہے اگر آپ کا تعارف صحیح انداز میں ہوا ہو۔ طالبان کے لیے اس لڑائی کی بہت سی وجوہات ہیں جن میں غیر ملکی قابضین کے خلاف مزاحمت، پیسہ یا پھر حکومت میں موجود افراد سے پرانا حساب چکانا بھی شامل ہے۔ جہاں تک القاعدہ کی بات ہے تو عام شہری تو کیا طالبان بھی(اگرچہ اس کا کھلے عام اظہار نہیں ہوتا) ان کی بربریت سے خائف ہیں۔ اس موسمِ بہار میں جب میں نے اس سفر کا فیصلہ کیا تو اس وقت بھی ملک کے دیہاتی علاقوں میں سفر کرنا ممکن تھا لیکن اب ایسا نہیں۔ مجھے طالبان کمانڈر نے بتایا کہ ’میں صرف اپنے ساتھیوں کے درمیان ہی آپ کی حفاظت کی ضمانت دے سکتا ہوں۔ لیکن اگر غیرملکیوں کو پتہ چل گیا کہ آپ یہاں ہیں تو میں آپ کی حفاظت نہیں کر سکتا‘۔ وہ علاقہ جہاں میں گئی افغانستان اور پاکستان کا سرحدی علاقہ تھا اور وہاں القاعدہ کے ٹھکانے ہیں اور انہیں سرحد پار کرنے سے روکنے والا کوئی نہیں۔ مجھے بتایا گیا کہ’ انہوں نے جنگ کو مزید خراب کر دیا ہے‘۔ طالبان کمانڈر نے مجھے بتایا کہ مختلف قومیتوں کے لوگ ان کے علاقے میں افغان و اتحادی فوج سے برسرِ پیکار ہیں۔ ان کے مطابق اس وقت علاقے میں پاکستانی، عرب، چیچن، ایرانی اور یہاں تک کہ دو نومسلم برطانوی بھی لڑ رہے ہیں۔ دیہات میں جا کر عام لوگوں سے ملنا اور جنگ کو طالبان کی نظر سے نہ دیکھ پانا ضرور جھنجھلاہٹ کا باعث تھا لیکن میں کسی کم عقل یمنی، پاکستانی یا برطانوی کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی۔ چنانچہ میں واپس کابل آ گئی۔ سڑک پر سناٹا تھا اور ذہن میں یہ خیال کہ کہیں میں ضرورت سے زیادہ احتیاط کا مظاہرہ تو نہیں کر رہی۔ لیکن میری کابل واپسی کے ایک ہفتے کے اندر یہ خبر آئی کہ اسی سڑک پر جہاں میں نے سفر کیا تھا وہاں ایک حملے میں تین غیر ملکی خواتین سمیت چار افراد کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ افغانستان میں جاری لڑائی کی وجہ سے کابل سے باہر زیادہ تر سڑکوں پر سفر کرنا محفوظ نہیں چنانچہ کیٹ کلارک کو طالبان علاقے میں نقل و حرکت کے دوران خصوصی احتیاط سے کام لینا پڑا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||