’لڑائی سے بچ کر افغانستان کا رخ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے ادارے برائے پناہ گزیناں کے مطابق پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ میں مقامی طالبان اور سکیورٹی فورسز کے درمیان لڑائی سے بچکر تقریباً بیس ہزار لوگ افغانستان چلے گئے ہیں۔ ادارے کے مطابق تقریباً چار ہزار کنبوں نے کنڑ صوبے میں پناہ لی ہے۔ لڑائی کی وجہ سے تقریباً تین لاکھ لوگ بے گھر ہوگئے ہیں لیکن حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ ان میں سے زیادہ تر قبائلی علاقوں میں ہی دوسرے مقامات کو منتقل ہوگئے ہیں۔ باجوڑ میں کافی عرصے سے فوج مقامی طالبان کے خلاف کارروائی کر رہی ہے جس میں اس کے مطابق دو ہزار سے زیادہ شدت پسند ہلاک ہوچکے ہیں۔ بہرحال، یواین ایچ سی آر کا خیال ہے کہ جو لوگ اپنے گھر چھوڑ کر محفوظ مقامات پر منتقل ہوئے ہیں، ان میں سے زیادہ تر لڑائی ختم ہونے کے بعد واپس آجائیں گے۔ ادارے نے ان اعداد و شمار کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ چھ سو سے زیادہ کنبے حالیہ ہفتوں میں ہی کنڑ منتقل ہوئے ہیں۔ ادارے کے ایک ترجمان نے کہا کہ بے گھر ہوجانے والے افراد اگر سردی شروع ہونے سے قبل واپس نہیں لوٹ سکے تو یو این ایچ سی آر ان کی دیکھ بھال کا انتظام کرے گا۔ ترجمان نادر فرحاد نے خبر رساں ایجنسی رائٹرز کو بتایا کہ ’سرحد پار سکیورٹی کی صورتحال کے بارے میں کچھ کہہ پانا تو مشکل ہے لیکن ہم امید کرتے ہیں کہ حالات بہتر ہوجائیں گے اور لوگ اپنے گھروں کو لوٹ سکیں گے۔‘ ادارے کے مطابق جو لوگ بھاگ کر افغانستان گئے ہیں ان میں زیادہ تر پاکستانی ہیں لیکن کچھ ہزار افغان بھی ہیں جو پہلے سے پاکستان میں رہ رہے تھے۔ یو این ایچ سی آر نے حال ہی میں تقریباً چالیس لاکھ ڈالر کی امداد کا مطالبہ کیا تھا تاکہ موجودہ لڑائی اور حالیہ سیلاب سے متاثر ہونے والوں کی مدد کی جاسکے۔ | اسی بارے میں یو این، شہری ہلاکتوں پر تشویش23 September, 2008 | آس پاس مشترکہ فوج کی تجویز23 September, 2008 | آس پاس افغانستان: چار فوجی ہلاک17 September, 2008 | آس پاس ’مزید دس ہزار فوجی چاہئیں‘17 September, 2008 | آس پاس قندھار:چوکی پر حملہ، آٹھ ہلاک04 July, 2008 | آس پاس بی بی سی پشتو کے نمائندے کی تدفین09 June, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||