جگہ جگہ یادگاری تقریبات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے حملوں کی برسی کے موقع پر نیویارک میں گراؤنڈ زیرو پر تعزیاتی تقریب ہوئی اور ان لوگوں کے لواحقین نے ایک لمحے کی خاموشی اختیار کی جو ان حملوں میں ہلاک ہوئے تھے۔ گیارہ ستمبر کو نیویارک میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر، واشنگٹن میں پینٹاگن اور ریاست پینسلوینیا میں مسافر طیاروں کے ٹکرانے سے تقریباً تین ہزار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ واشنگٹن میں صدر بش اور نائب صدر ڈک چینی نے تعزیت تقریب میں شرکت کی۔ ان حملوں کے نتیجے میں امریکہ نے افغانستان اور عراق میں جنگیں شروع کیں جو کئی برس گزر جانےکے ختم ہونے کےقریب نظر نہیں آتیں۔ واشنگٹن کی تقریب میں سینکڑوں لوگوں نےشرکت کی جن میں سینئر سیاست دانوں، فوجی افسران اور سفارتکاروں کے علاوہ وہ باورچی، پلمبر اور اس نوعیت کے دوسرے فرائض انجام دینے والے وہ لوگ بھی شامل تھے جو وہائٹ ہاؤس میں کام کرتے ہیں۔ پنٹاگن میں ایک نئی یادگار حملوں میں ہلاک ہونے والوں کے نام منسوب کی گئی۔اس حملے میں ایک سو چوراسی لوگ ہلاک ہوئے تھے۔ صدر بش نے کہا کہ یہ یادگار امریکیوں کے کبھی نہ جھکنے کے جذبے کو خراج عقیدت پیش کرتا ہے۔ انہوں نے امریکی فوج کی بھی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس نے گزشہ سات برسوں میں امریکہ کو محفوظ رکھا ہے۔ امریکہ کے نائب وزیر دفاع گورڈن انگلینڈ نے کہا کہ’ آج ہم یہ عزم کرتے ہیں کہ یہاں جو کچھ ہوا تھا اسے ہم کبھی ہیں بھولیں گے اور یہ عزم کرتے ہیں کہ امریکہ میں ایسا دوبارہ نہیں ہونے دیں گے۔‘ واشنگٹن میں یہ یاد گار بائیس ملین ڈالر مالیت اور ایک اعشاریہ نو ایکڑ رقبے پر تعمیر کی گئی ہے۔ امریکہ کی رپبلیکن اور ڈیموکریٹ پارٹیوں کے صدارتی امیدواروں جان مکین اور باراک اوباما نے گراؤنڈ زیرو پر ہونے والے یادگاری تقریب میں حصہ لیا۔ ایک مشترکہ بیان میں دونوں جماعتوں کے امیدواروں کی طرف سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی انتخابی مہم کو چوبیس گھنٹے کے لیے معطل کرکے اس تقریب میں عام امریکیوں کی حیثیت سے شریک ہوں گے۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری ڈانا پرنیو نے بدھ کو کہا کہ ’صدر بش ہر روز صبح اٹھتے ہی اور رات کو سونے سے قبل گیارہ سمتبر کو یاد کرتے ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ ’گیارہ ستمبر کے موقع پر ہم ڈیموکریٹ رپبلکنز کی حیثیت میں نہیں بلکہ عام امریکیوں کی طرح یکجا ہیں۔‘ القاعدہ کی جانب سے جب یہ حملے کیے گیے تو جارج بش کو صدر کا عہدہ سنبھالے ہوئے ایک برس بھی پورا نہیں ہوا تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||