امریکیوں کی کہانی، انہیں کی زبانی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک مرتبہ پھر افغانستان کی راج دھانی کابل پہنچا ہوں۔ اس مرتبہ افغانستان میں آنے والی تبدیلیوں کا جائزہ لینے نہیں بلکہ ان کو دیکھنے جن کی وجہ سے بعض لوگوں کے مطابق افغانستان کا حال خراب ہے۔ جن کے آنے کا شاید لوگوں نے خیرمقدم کیا لیکن جن کی موجودگی یہاں جاری کشیدگی اور تناؤ کی وجہ ہے۔ اگرچہ دونوں ہی اس وقت ایک دوسرے کو کشیدگی اور تناؤ کی وجہ بتاتے ہیں لیکن میری مراد طالبان ہرگز نہیں بلکہ امریکی فوجی ہیں۔ ان سے ملنے اور ان کی کہانی ان کی زبانی سننے کا ارادہ ہے۔ اس گفتگو کا محور افغانستان کے طالبان سے زیادہ پاک افغان سرحد اور اس کی نگرانی ہوگی۔ اس احوال کے لیئے تو انتظار کرنا پڑے گا لیکن فل الحال تھوڑا قصہ ہو جائے اس دلکش شہر کابل کا۔ تین برس کے طویل عرصے کے بعد آنے کا فائدہ یہ ہے کہ تبدیلیاں نمایاں طور پر نظر آتی ہیں۔ خواجہ رواش کا بین الا قوامی ہوائی اڈہ ماضی کی نسبت زیادہ صاف، زیادہ منظم اور زیادہ بڑا معلوم ہوا۔ پرانے ٹرمنل کی بغل میں ایک نیا ٹرمنل بھی تقریباً تیار ہے جہاں طیارے سے سیڑھی کے ذریعے نہیں ٹنل کے ذریعے براہ راست ٹرمنل میں داخل ہوسکیں گے۔ ہوائی اڈے کے وسیع و عریض میدان میں روسی ساخت کے تباہ شدہ طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کا ملبہ بھی اب غائب ہے۔ تاہم روسی ساخت کے دنیا کے سب سے بڑے ہیلی کاپٹر اور چھوٹے بڑے طیارے اب بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔ آپ کا سامان جلد مل جاتا ہے اور آپ اس ٹھنڈی نم زدہ عمارت سے جلد باہر نکل آتے ہیں۔ اگر کوئی لینے نہ آئے تو ٹیکسی ڈرائیور اور منی چینجرز تیز دھار کی تلوار لیئے آپ کی جیب کاٹنے کو تیار کھڑے ملیں گے۔ وہیں پاکستانی روپے یا ڈالر افغانیوں میں تبدیل کروائیں اور وہیں کھڑے کھڑے آپ کو موبائل کا نیا کنکشن بھی مل جائے گا۔ کسی نے ترقی کی ہے یا نہیں موبائل فون کمپنیوں نے ضرور کی ہے۔ ہر جگہ دفاتر ہر جگہ اشتہار بازی۔ سڑک کناروں پر نوجوان موبائل فون کے کارڈ فروخت کر رہے ہیں۔ بازار آباد ہیں، رش زیادہ ہے اور نئی دوکانیں اور پلازے تعمیر ہو رہے ہیں۔ ماضی سے سڑکیں کافی بہتر ہیں اور گاڑیاں بھی بڑی بڑی ہیں۔ لیکن اس تمام ظاہری ترقی کے پیچھے ایک خوف بھی ہے۔ مسلح فوجی، گشت کرتی پولیس اور اہم عمارتوں کی بیرونی ’بلاسٹ پروف‘ دیواریں کچھ اور حال بیان کرتی ہیں۔ ہر غیرملکی کو آمد پر ایک شناختی کارڈ جاری کیا جاتا ہے جو اسے ہر وقت اپنے پاس رکھنا ہوتا ہے۔ کابل سے باہر جاتے ہوئے وزارت داخلہ میں اندارج کروانا ہوتا ہے۔ وغیر وغیرہ ایسے میں باہر سے آئے شخص کی آنکھیں شیشوں کے بڑے بڑے پلازوں سے چکاچوند تو ضرور ہوتی ہیں لیکن ان آنکھوں کے پس پردہ خوف اور غیریقینی کی صورتحال کو چھپانا اس وقت مشکل ہو جاتا ہے جب آپ کسی افغان شہری سے بات کریں۔ باقی یہ کل پاکستانی سفارت خانے نے کھانے پر مدعو کیا ہے۔ | اسی بارے میں ’افغانستان: فتح کی امید نہ رکھیں‘05 October, 2008 | آس پاس لڑائی میں’درجنوں طالبان ہلاک‘12 October, 2008 | آس پاس طالبان پروپیگنڈے سے نمٹنے کا منصوبہ10 October, 2008 | آس پاس طالبان سے بات کی جا سکتی ہے: گیٹس07 October, 2008 | آس پاس افغان پولیس سربراہ کو قتل کر دیا28 September, 2008 | آس پاس جنگ پاکستان آنے کا خطرہ: طارق علی 23 September, 2008 | آس پاس ’ضرورت پرکارروائی سےگریز نہیں‘19 September, 2008 | آس پاس امریکی جنرل کے سامنے کئی چیلنج17 September, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||