BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جنگ پاکستان آنے کا خطرہ: طارق علی

طارق علی
’دی ڈوئیل: پاکستان آن فلائیٹ پاتھ آف امریکن پاور‘ پاکستان اور امریکہ تعلقات کی تاریخ کا احاطہ کرتی ہے‘
پاکستانی نژاد دانشور اور مصنف طارق علی نے کہا ہے کہ افغانستان میں دہشتگردی کے نام پر لڑی جانے والی جنگ کا دائرہ پاکستان تک پھیل سکتا ہے اور اگر ایسا ہوا تو بقول ان کے پاکستانی فوج کے تقسیم ہونے کا خطرہ ہے جس سے پاکستان کے نیوکلیئر ہتھیار شدت پسندوں کے کنٹرول میں آ سکتے ہیں۔

طارق علی اختتام ہفتے کو نیویارک میں ’لِٹل پاکستان‘ کہلانے والے علاقے کونی آئيلینڈ ایوینیو بروکلین میں ایک مقامی ریستوران میں اپنی حال ہی میں شائع ہونیوالی کتاب ’دی ڈوئیل: پاکستان آن دی فلائٹ پاتھ آف امریکین پاور‘ کی رونمائي کی تقریب میں پاکستانیوں کے ایک اجتماع سے خطاب کر رہے تھے۔ اس اجتماع کا اہتمام ’پاکستان یو ایس فریڈم فورم‘ نامی تنظیم نے کیا تھا۔

ویتنام جنگ سے لے کر جنگ عراق کی مخالفت میں سرگرم اور بائيں بازو سے تعلق رکھنے ولے طارق علی نے امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں ہونیوالی جنگ اگر پاکستان میں پھیل گئي تو اس سے پاکستان کی فوج تقسیم ہو جائيگی۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت قبائیلی علاقوں میں فوجی کارروائي پر پاکستانی فوج میں غصہ پایا جاتا ہے اور یہ بھی اطلاعات ہیں کہ کئي پشتو بولنے والے فوجیوں نے اپنے لوگوں کے خلاف لڑنے سے انکار کر دیا ہے۔

زرداری پر تنقید
 وہ پاکستان کے چیف جسٹس افتخار چودھری کو اس لیے بحال نہیں کر رہے کہ انہیں خطرہ ہے کہ اس سے ان کی کرپشن کے کیس کھل جائيں گے اور پاکستان میں لاپتہ لوگوں کی گمشدگی پر بھی جسٹس افتخار چودھری باز پرس کریں گے
طارق علی
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی فوج افغانستان کی فوج کی طرح نہیں بلکہ بھارت اور ایران کی طرح جدید خطوط پر انتہائي منظم اور نیوکلائي ہتھیاروں سے مسلح ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر افغانستان سے، جہاں صدر کرزئي اپنی گرفت کھو رہے ہیں، جنگ نکل کر پاکستانی علاقے میں پھیل گئی تو اس سے نہ فقط پاکستانی فوج میں تقسیم ہوجانے کا خدشہ ہے بلکہ یہ بھی خدشہ ہے کہ نیوکلیائي ہتھیار شدت پسندوں کے ہاتھ میں آ جائيں گے۔

طارق علی نے پاکستان کے نو متخب صدر اور موجودہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کے چیف جسٹس افتخار چودھری کو اس لیے بحال نہیں کر رہے کہ انہیں خطرہ ہے کہ اس سے ان کی کرپشن کے کیس کھل جائيں گے اور پاکستان میں لاپتہ لوگوں کی گمشدگی پر بھی جسٹس افتخار چودھری باز پرس کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ کیونکہ یہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری تھے جنہوں نے پاکستان کی خفیہ اینجنیسوں کے سربراہوں کو لاپتہ لوگوں کی بازیابی میں ناکامی پر انہیں جیل بھیجنے کا کہا تھا۔

طارق علی نے اپنی کتاب ’دی ڈوئیل: پاکستان آن فلائیٹ پاتھ آف امریکن پاور‘ کے متعلق کہا کہ ان کی یہ کتاب پاکستان اور امریکہ تعلقات کی تاریخ اور موجودہ صورتحال کا احاطہ کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغرب اور امریکہ میں پاکستان کے اس غلط تصور کہ پاکستان میں داڑھی والے بم ہاتھ میں لیے پھرتے ہیں جیسے تصور کے خلاف غلط ثابت کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ اٹھارہ فروری کے انتخابات اور اس پہلے بھی پاکستان کے عوام نے مذہبی جماعتوں کو مسترد کردیا ہے- انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام مذہبی انتہا پسند نہیں۔

اس تقریب میں امریکی سیکیورٹی اہلکاروں پر مبینہ طور پر حملے میں نیویارک میں قید پاکستانی سائنسدان عافیہ صدیقی کی رہائي اور ان کے باقی دوگمشدہ بچوں کی بازیابی اور ان کے حال ہی میں ان کی بہن کے حوالے کردہ بچے کو ڈاکٹر عافیہ سے ملوانے کے مطالبات پر مبنی قراردادیں پیش کی گئيں۔

تقریب میں پاکستانیوں کے ایک بڑی تعداد کے علاوہ مقامی امریکی جنگ مخالف گروپوں کے کارکن اور ایرانی امریکی شہری بھی شریک تھے۔

اسی بارے میں
جنوبی ایشیا، کِدھر کو؟
12 November, 2006 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد