جنوبی ایشیا، کِدھر کو؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
متحدہ ہندوستان ایک سیاسی اکائی کے طور پر 1947 میں ختم ہوگیا تھا۔ 1971 میں بنگلہ دیش کے قیام سے اِس اکائی میں مزید ایک دراڑ پڑ گئی اور یہ پیشن گوئیاں بھی ہونے لگیں کہ ہندوستاں ابھی مزید پانچ حصّوں میں تقسیم ہوگا۔ اکیسویں صدی کے زمینی حقائق البتہ مختلف قسم کی سوچ کا مطالبہ کر رہے ہیں اور جنوبی ایشیا کے اس انتشار کو سمیٹ کر کم از کم معاشی اور سماجی سطح پر ہم آہنگی کو یقینی بنانا وقت کی اہم ضرورت بن گیا ہے۔ ساؤتھ ایشین فری میڈیا ایسوسی ایشن (سفما) اس سلسلے میں جو کوششیں کر رہی ہے اُن میں اس خطّے کے مسائل پر ماہرین کی آراء جمع کرنا اور انھیں کتابی سلسلے کی صورت دینا بھی شامل ہے۔ Whither South Asia اس سلسلے کی پہلی کتاب ہے جسے ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل امتیاز عالم نے خود مرتب کیا ہے اور اس میں شامل مواد چودہ ریسرچ گروپوں کی تحقیق و تفتیش کا نچوڑ ہے۔ کتاب کے پیش لفظ میں واضح کیا گیا ہے کہ مرتبین جنوبی ایشیا کو ایک جغرافیائی، اقتصادی، ثقافتی اور تاریخی وحدت کے طور پر دیکھتے ہیں اور قارئین پر بھی یہ امر واضح کرنا چاہتے ہیں۔ اپنے افتتاحی مضمون میں کتاب کے ایڈیٹر امتیاز عالم لکھتے ہیں کہ جنوبی ایشیا کے اس پرانے تصور کو اب ذہن سے جھٹک دینے کا وقت آن پہنچا ہے کہ یہ خطّہ باہم متصادم سیاسی اکائیوں کا ایک مجموعہ ہے اور بھان متی کے اس کنبے میں ہر اینٹ اور روڑا ایک دوسرے کی جان کا بیری ہے۔ کتاب کے مدیر کا کہنا ہے کہ دنیا میں چین کے بعد اقتصادی اور پیداواری سرگرمیوں کا سب سے بڑا مرکز اب جنوبی ایشیا ہی کو بننا ہے کیونکہ عالمی انسانی آبادی کا پانچواں حصّہ اس خطّے میں آباد ہے اور یہ علاقہ ہر طرح کے قدرتی وسائل سے مالا مال ہے، تاہم مصنوعی طور پر پیدا کی ہوئی باہمی منافرت، عسکری ساز و سامان ذحیرہ کرنے کا جنون، بے بنیاد علاقائی تنازعے اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والی عدم اعتماد کی فضا، وہ مشکلات ہیں جو جنوبی ایشیا کی راہِ ترقی میں دیوار بن کے کھڑی ہیں۔ امتیاز عالم اس خطّے کا موازنہ دیگر عالمی علاقوں سے کرتے ہوئے محسوس کرتے ہیں کہ جنوب مشرقی ایشیا، یورپ اور شمالی امریکہ کے ممالک کی علاقائی تنظیموں نے اپنے قیام کے فوراً بعد بہت سے عملی اور ٹھوس اقدامات کے ذریعے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا جبکہ جنوبی ایشیا کے ممالک کی علاقائی تنظیم سارک پچھلے اکیس برس میں ’نشستند و گفتند و برخاستند‘ سے آگے نہیں بڑھ سکی۔
کتاب کے مدیر کا کہنا ہے کہ عوامی سطح پر ان ممالک کے باہمی اختلافات کو ختم کرنا بہت آسان اور فطری محسوس ہوتاہے لیکن راستے میں نفرتوں کے سوداگر -- افسر شاہی کے کارندے – کھڑے ہیں اور جب تک دشمنی کے خاردار تاروں کو دوستی کے پُلوں میں تبدیل نہیں کیا جائے گا، بے قصور عوام غربت اور جہالت کی چکّی کے دو پاٹوں میں پستے رہیں گے۔ جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے پروفیسر ایس ڈی مُنی اپنے مضمون میں لکھتے ہیں کہ جنوبی ایشیا کی اصطلاح صرف پچاس برس پرانی ہے جبکہ برِصغیر پاک و ہند پانچ ہزار سال سے ایک تہذیبی اکائی کے طور پر موجود ہے اور وقتی اختلافات کو نظر انداز کر کے اس خطے کے لوگوں کو اپنی اجتماعی بقاء اور ترقی کےلیئے عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔ یہ امر کتاب کی افادیت میں اضافہ کرتا ہے کہ تمام مضمون نگار ایک ہی ڈگر پر نہیں سوچتے بلکہ اپنے عملی اور نظری اختلافات کا بھی کُھل کر اظہار کرتے ہیں مثلاً کتاب کے تیسرے مضمون نگار سنجے جوشی نے ’جنوبی ایشیا‘ کی اصطلاح کو چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ سارک کی انتظامیہ بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش، سری لنکا، نیپال، بھوٹان اور مالدیپ کے خطّے کو مجموعی طور پر ’جنوبی ایشیا‘ کا نام دینے پر مُصر ہے لیکن اس نے کبھی اس اِصطلاح کی تشریح و توضیح نہیں کی۔ مثال کے طور پر آج تک یہ واضح نہیں کیا گیا کہ اگر جغرافیائی طور پر مالدیپ جنوبی ایشیا میں شامل ہے تو برما (میانمر) کیوں نہیں۔ جغرافیے کی کچھ کتابوں اور کئی حکومتوں کے سیاسی نقشوں میں افغانستان بھی جنوبی ایشیا کا حصّہ ہے لیکن سارک کی تنظیم اسے تسلیم نہیں کرتی۔
پروفیسر سنجے جوشی کا نظریہ کچھ یوں ہے کہ جنوبی ایشیا ایک مصنوعی اصطلاح ہے جبکہ اصل میں اس سے مراد وہ خطّہ ہے جو کبھی ’برٹش انڈیا‘ تھا۔ انگریزوں نے اسے ایشیا میں اپنی سیاسی طاقت اور ثقافتی رسوخ کا سب سے بڑا اور مکمل مرکز بنانے کی کوشش کی تھی جو کہ پوری طرح کامیاب نہ ہو سکی۔ چنانچہ جنوبی ایشیا کی اصطلاح اسی نا مکمل مشن کو پورا کرنے کی ایک حسرت کا نام ہے۔ کتاب کے سبھی مضامین اس طرح کی منفی سوچ کے حامل نہیں ہیں۔ مثلاً بے نظیر بھٹو کا مضمون ’اے روڈ میپ فار ساؤتھ ایشیا‘ اِن الفاظ سے شروع ہوتا ہے، ’جزیرہ نما جنوبی ایشیا دنیا کے عین مرکز میں واقع ہے یعنی بحیرہِ ہند میں دو سمندروں بحرِاوقیانوس اور بحر الکاہل کو ہم آغوش کرتا ہے لیکن اس انتہائی اہم محل وقوع کے برعکس آج ایک نئی صدی بلکہ نئی ہزاری کے آغاز پر یہ خطّہ معاشی طور پہ قعرِ گمنامی میں پڑا ہوا ہے۔ اور یہی جنوبی ایشیا کا المیہ ہے‘۔ محترمہ نے اپنے مفصّل مضمون میں اس المیے کی ہزاروں برس پر پھیلی ہوئی تاریخی وجوہات بیان کی ہیں اور پھر اس کے حل کے لیئے نقطہ وار تجاویز بھی پیش کی ہیں۔ ان کے پیش کردہ روڈ میپ میں پہلا ہی پڑاؤ خطے کے ممالک میں حقیقی جمہوریت کی بحالی اور آزاد خیالی کے ساتھ ساتھ اختلافات کو برداشت کرنے اور تنوّع سے بہرہ ور ہونے کا جذبہ پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ کتاب میں آئی کے گجرال، ڈاکٹر اکمل حُسین، خالد احمد، ابو الاحسن، گوپال شِوا کوٹی، کے کے کٹیال، ڈاکٹر اے آر کمال، محترمہ ریتا منچندرا، سی راجہ موہن، پروفیسر رحمان صبحان، ڈاکٹر جے دیو یوان گوڑا اور فرانس کے ڈاکٹر ژان راساں کے بصیرت افروز مضامین بھی شامل ہیں جن میں جنوبی ایشیا کے جغرافیے، تاریخ، ثقافت، معاشیات اور بطور ایک اکائی کے اِس کے پھلنے پھولنے کے امکانات پر مختلف زاویوں سے روشنی ڈالی گئی ہے۔ | اسی بارے میں ٹرین ٹُو پاکستان: پچاس سالہ سفر15 August, 2006 | فن فنکار اردو داستان گوئی کی نئی زندگی 08 October, 2006 | انڈیا کرن دِسائی نے بُکر پرائز جیت لیا10 October, 2006 | فن فنکار فلم مغل اعظم: مکالموں پر مبنی کتاب17 October, 2006 | فن فنکار مختار مائی: کتاب کا انگریزی ایڈیشن شائع01 November, 2006 | آس پاس تالے اور حرفوں کا تال میل04 October, 2006 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||