اردو داستان گوئی کی نئی زندگی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کچھ برس پہلے دلی کے دو نوجوان محمود فاروقی اور دانش حسین کو ایک دھن سوار ہوئی کے وہ داستان گوئی کی روایت کو دوبارہ زندہ کریں گے۔ اس کے لیے انہوں نے دلی سے لکھنو کا سفر طے کرنے کی سوچی جہاں سے اس ہنر کا تعلق ہے۔ داستان گوئی روایتی طور پر قدیم اودھ کی تہذیب کا ایک اہم حصہ رہی ہے۔ داستان گوئی، کہانی بیان کرنے کا ایک مخصوص انداز ہے جس میں رزمیہ داستانوں کو ڈرامہ کے انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ کہانی سنانے والے کے پاس الفاظ کا سمندر ہوتا جس سے وہ کہانی کا مکمل منظر کھینچتا ہے اور ان کہانیوں میں سسپنس ہوتا ہے اور کہانی بیان کرنے والے کا انداز ایسا ہوتا ہے کہ سننے والا اس انتظار میں رہتا ہے کہ کہا نی میں آگے کیا ہونے والا ہے۔ داستان گوئی کی روایت قدیم ہندوستان میں بے حد مقبول تھی۔ اس کے علاوہ الجیریا، بوسنیا اور انڈونیشیا جیسے ممالک میں داستان گوئی تہذیب کا اہم حصہ تھی۔ اصل داستانیں فارسی زبان میں لکھی جاتی تھیں۔ لیکن تقریباً ایک صدی پہلے داستان گوئی کی روایت ختم ہوتی گئی اور دھیرے دھیرے ہندوستان میں داستان کہنے اور پڑھنے والوں کی آوازیں مدھم ہونے لگیں۔ سنہ 1880 میں داستانوں کا لکھنو شہر میں فارسی سے اردو میں ترجمہ کیا گیا۔ ان طویل داستانوں کے ترجمہ میں تقریبا 20 برس لگے۔ سب سے مشہور داستان، داستانِ امیر حمزہ خیال کی جاتی ہے۔ اس داستان کو ماضی کے معروف ناشر منشی نول کشور نے شائع کیا تھا۔یہ کہانی نو سو صفحات کی ہے۔ داستان گوئی بھلے ہی اودھ میں پیدا ہوئی ہو لیکن اس کو دوبارہ زندگی دلی شہر میں ملی۔ اس ہنر کو دوبارہ زندگي بخشنے والے داستان گو محمود فاروقی کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ داستانیں اپنے چچا اور معروف اردو ادیب اور نقاد شمس الرحمن فاروقی سے سنی تھیں۔ شمس الرحمن فاروقی نے داستان گوئی کے ہنر اور روایت پر ایک کتاب بھی لکھی ہے۔
محمود فاروقی کا کہنا ہے کہ ’داستانوں کو اسٹیج پر پیش کرنے سے بہت پہلے مجھے داستان گوئی میں مزاح، ڈرامہ اور کم الفاظ میں بہت کچھ کہنے کے ہنر نے بے حد متاثر کیا‘۔ محمود فاروقی کہتے ہیں کہ ’امیر حمزہ کی لمبی داستان اور ایک ہیرو ہونے کے تحت ان کی مختلف منفی کرداروں سے لڑائی افرا سیاب اور عمرو عیار کی کہانیوں نے مجھے بے حد متاثر کیا۔ جیسے جیسے میں بڑا ہوا ویسے ویسے مجھے لگا کہ اگر ان کہانیوں کو اسٹیج پر سنایا جائے تو لوگوں کو یہ طریقہ بہت پسند آئےگا۔ محمود فاروقی کو داستان گوئی کی روایت پر اس وقت تفصیل سے کام کرنے کا موقع ملا جب دلی کے ایک غیر سرکاری ادارے سرائے نے انہیں داستان گوئی پر کام کرنے کے لیے فیلوشپ دی۔ وہ کہتے ہیں ’گزشتہ برس دلی کے انڈیا انٹرنیشنل سینٹر میں میں نے داستان گوئی کے ہنر پر ایک لیکچر دیا تھا اور اس وقت مجھے اس آرٹ کو عام لوگوں کے بیچ لانے کا موقع ملا‘۔ محمود کو شروع میں فکر تھی کہ شاید ان لوگوں کو داستان گوئی میں کوئی مزا نہیں آئے گا جن کی مادری زبان اردو نہیں ہے لیکن ان کا یہ خیال درست ثابت نہیں ہوا۔ ان کی سنائی ہوئی داستان، اردو بولنے اور سمجھنے والوں کے علاوہ ان افراد کو بھی خوب پسند آئی جن کا اردو زبان سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔ اور یہی حال لکھنو شہر کی عوام کا بھی تھا جن کے سامنے محمود اور دانش نے قدیم اودھ کی داستان لوگوں کے سامنے پیش کی۔
لکھنو شہر کے محمد باغ میں واقع ڈانسنگ ہال داستان سننے والوں کی بھیڑ سے کھچاکھچا بھرا تھا۔ اور آج کا لکھنو ایک صدی پرانے لکھنو میں تبدیل ہوتا دکھ رہا تھا۔ دانش کا کہنا تھا ’ہمیں نہیں لگتا کہ داستان گوئی جیسی روایت کا پوری طرح سے زندہ ہونا ممکن ہے۔ انکا کہنا تھا کہ ’لیکن مجھے لگتا ہے کہ داستان گوئی کو دوبارہ زندہ کرکے ہم لوگوں کا تعارف ان کے ماضی سے کرا رہیں اور ان کے لیے اس روایت کی چاہت زندہ کر رہے ہیں جو اب ختم ہوچکی ہے۔ یہ ہمارے لیے ایک بڑی کامیابی ہے‘۔ لیکن کیا اس ہنر کو زندہ کرنے کے لیے ان کے پاس مالی ذرائع ہیں۔ دانش کا خیال ہے کہ انکے پاس اس ہنر کو عام لوگوں تک پہنچانے کے لیے کوئی مالی ذریعہ نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ ’ہمیں اپنا اور اس ہنر کے مستقبل کے بارے میں پتہ نہیں ہے۔ ہم داستان کو سمجھنے اور داستان بیان کرنے کے اپنے انداز کو اور بہتر طریقے سے سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم نئے نئے تجربات کرنا پسند کرتے ہیں‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||