BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 04 October, 2006, 10:58 GMT 15:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تالے اور حرفوں کا تال میل

بُو علی قلندر کا مزار
مراد پوری ہو جاتی ہے تو بند تالے کو کھول کر فقیروں کو کھانا کھلاتے ہیں
پانی پت کی ایک گنجان بستی میں صوفی بو علی شاہ قلندر کی درگاہ ہے۔ یہ علاقہ پچ رنگا اچار کے لیے بھی مشہور ہے۔

کئی قسموں کی کئی دکانوں سے گزر کر جب میں وہاں پہنچا تو مزار کے ارد گرد ڈھیروں الگ الگ قسم کے بند تالے دیکھ کر حیرت ہوئی۔

درگاہ کے ایک خادم نے بتایا ، ’یہ تالے ان عقیدت مندوں کے ہیں جو اپنی مرادوں کو ان میں بند کرکے جاتے ہیں اور جب قلندر بابا کی عنایت سے مراد پوری ہو جاتی ہے تو بند تالے کو کھول کر فقیروں کو کھانا کھلاتے ہیں‘۔

پانی پت والے انہیں تالے والے بابا بھی کہتے ہیں۔

تالے کے بارے میں مرزا غالب کا ایک شعر بھی ہے۔ اس زمانے میں تالے حرفوں کے حساب سے بنائے جاتے تھے۔ کون سا حرف کون سے دوسرے حرف سے مل کر تالا کھولے گا یہ راز صرف تالے والے کے ذہن میں ہی پوشیدہ ہوتا تھا۔

غالب کے زمانے میں اسے 'قفل ابجد' کہا جاتا تھا۔ قفل کا معنی تالا اور ابجد عربی، فارسی اور اردو میں را‏‏ئج حروف تحجی کو کہا جاتا ہے۔

مرزا غالب
مرزا نے تالے کے کھلنے کو جدا ہونے کے معنوں میں استعمال کیا ہے

غالب کا شعر یوں ہے:

تم سے ملنا ہے مرا صورت قفل ابجد
تھا لکھا بات کی بنتے ہی جدا ہو جانا

مرزا نے تالے کے کھلنے کو جدا ہونے کے معنوں میں استعمال کیا ہے لیکن اس درگاہ میں تالا اس وقت ہی کھلتا ہے جب مراد والے اور مراد میں ملاپ ہوتا ہے۔

اس درگاہ کے پھاٹک کی بائیں جانب ایک قبر ہے۔ اس کے سرہانے اردو میں لکھا ہے ۔ ’مولانا الطاف حسین حالی۔ حالی بوڑھے غالب کے جوان شاگرد تھے۔‘

یوں تو مرزا کے کئی شاگرد تھے ان میں انگریز، ہندو مسلمان جیسے کئی شمار تھے لیکن حالی کا نام اس لیے زیادہ مشہور ہوا کیونکہ وہ شاعر ہونے کے ساتھ تنقید نگار بھی تھے۔

غالب کی عظمت کی پہلی پہچان انہیں کی تنقید کا نتیجہ ہے۔ ان کی کتاب 'یادگار غالب' نے جس طرح غالب کے فن کی بلندیوں کا تعار‌ف کرایا اس سے اس کتاب کو کلاسک کا درجہ حاصل ہوا۔

 مولانا حالی کے دور میں بلبل کا ترانہ داغ اور مجروح سے منسوب تھا۔ ہمارے قریب کے ماضی میں یہ ترانہ اگر کسی ایک سے منسوب کیا جا سکتا ہے تو وہ نام صرف فیض کا ہوگا۔

حالی بہت پہلودار شخصیت تھے۔ انہون نے صرف تنقید ہی نہیں لکھی بلکہ اپنی شاعری کے ذریعے ان راہوں کی بھی تلاش کی جن کے بعد کے مسافروں میں اقبال، فیض احمد فیض اور جوش ملیح آبادی جیسے بڑے شاعر شامل ہیں۔

انہی حالی پانی پتی نے اپنے زمانے میں غالب کے بعد کی ادبی لحاظ سے مرتی ہوئی دلّی کا شہر آشوب لکھا ہے۔

تذکرہ دہلئ مرحوم کا اے دوست نہ چھیڑ
نہ سنا جاۓگا تجھ سے یہ فسانہ ہرگز

اسی درد بھرے مرثیے میں ایک اور شعر ہے:

داغ و مجروح کو سن لو کہ پھر اس گلشن میں
نہ سنے گا کوئی بلبل کا ترانہ ہرگز

جس دور میں یہ مرثیہ لکھا گیا تھا، یہ اس دلّی کی بات ہے جو انگریزوں کی چڑھائی اور آزادی کی لڑائی کے رہنما آخری مغل بادشاہ کی بے دست و پائی پر آنسو بہا رہی تھی اور اداسی کو بہلانے کے لیے نواب مرزا داغ اور میر مہدی مجروح کی غزلیں گنگنا رہی تھی۔

حالی اور یادگارِ غالب
 حالی کی کتاب 'یادگار غالب' نے غالب کے فن کی بلندیوں کا تعار‌ف کرایا

ان دونوں کا تعلق غالب سے تھا۔ داغ اپنے والد نواب شمس الدین کے واسطے سے مرزا کے قریبی رشتے داروں میں تھے۔ وہ غالب کے شطرنج کے بھی ساتھی تھے۔

داغ کی شاعری حسن پرستی اور دل گرفتگی سے پر ہے ۔ سیدھے سیدھے الفاظ میں جوان شوخیوں کا بیان ان کی پہچان ہے۔

دل گیا، تم نے لیا، ہم کیا کریں
جانے والی چیز کا غم کیا کریں

مجروح بھی عاشقانہ شاعر تھے مگر ان کا انداز بیاں داغ سے ذرا الگ تھا۔ وہ غالب کے ان چند شاگردوں میں سے تھے جن کے نام غالب کے کئی خط ہیں۔ ان کا بھی ایک شعر پیش ہے، ملاحظہ کیجۓ

غیروں کو بھلا سمجھے اورمجھکو برا جانا
سمجھے بھی تو کیا سمجھے جانا بھی تو کیا جانا

مولانا حالی کے دور میں بلبل کا ترانہ داغ اور مجروح سے منسوب تھا۔ ہمارے قریب کے ماضی میں یہ ترانہ اگر کسی ایک سے منسوب کیا جا سکتا ہے تو وہ نام صرف فیض کا ہوگا۔

 دکانیں تو سب نے ایک ساتھ لگائی تھیں، اب اس کو کیا کہا جائے۔ کوئی چل گئی تو یہ اس کی دین ہے جسے پروردگار دے۔
فیض احمد فیض

فیض کو حال سے ماضی بنے ایک زمانہ بیت چکا ہے، اس دوران صرف عالمی ریاست ہی تبدیل نہیں ہو‏ئی بلکہ انسانی سوچ بھی کافی تبدیل ہو چکی ہے۔

کوئی چھبیس سو برس پہلے مہاتما بدھ نے کہا تھا کہ تبدیلی ایک بڑی حقیقت ہے لیکن اس سے بڑی ایک اور حقیقت ہے کہ تبدیلی بھی تبدیل ہوتی ہے۔

وقت کے ساتھ بلبلیں بھی بدلتی ہیں اور ان کے ترانے بھی لیکن اس بننے بگڑنے کے باوجود فیض کے کلام اور ان کے احترام میں کوئی کمی نہیں آئی۔

اپنی زندگی میں جیسے وہ پڑھے اور سنے جاتے تھے آج بھی اسی طرح دھراۓ جاتے ہیں۔ ان کی شاعری کے اس کرشمے کا راز کیا ہے اس سوال کے جواب میں ہمیں بھارت کی تاریخ میں چھ سو سال پہلے جانا ہوگا۔

وہاں آج کے اترپردیش کے مگہر گاؤں میں ایک جولاہے کے جھونپڑی نما گھر میں چرخہ چلاتا ایک ایسا بنکر ملے گا جو ایک خدا کو کئی ناموں سے گاتا ہوا نظر آۓ گا۔

فیض احمد فیض
فیض احمد فیض نے وہی لکھا جو ان کا تجربہ تھا

کبھی وہ اسے رام کے نام سے گاتا ہے، کبھی خدا کہہ کر اسے بلاتا ہے۔ جب اس سے لفظوں کی طاقت کا مطلب پوچھوگے تو وہ اپنی بانی میں بتاۓ گا۔

کرنی بن کتھنی کہے
اگیانی کی ذات
جیوں کوکر بھوکت پھرے
سنی سنائی بات

کبیر کے تجربے کے جب تک چار لفظ نہیں جڑتے ہیں تب تک فن کا تالا نہیں کھلتا ہے۔

فیض احمد فیض نے وہی لکھا جو ان کا تجربہ تھا۔ اس تجربے کی روشنی نے نہ ان کی آواز کو نعرہ بنایا اور نہ ہی انہوں نے اپنے نظریے کا شور مچایا تھا۔ انہوں نے سماج کے شادی و غم کو پہلے اپنا بنایا اور پھر انہوں نے دوسروں کو سنایا۔

ممبئی کی ایک محفل میں فیض شریک تھے، فیض کے لیۓ سجائی گئی اس محفل میں امیتابھ بچن، راما نند ساگر اور دوسری فلمی ہستیوں کے ساتھ سردار جعفری، جذبی، جانثار اختر، مجروح سلطان پوری وغیرہ شریک تھے۔

یہ سب فیض کی شہرت، عظمت اور شعری ذہانت کی زد میں تھے۔ سب الگ الگ ٹکڑیوں میں بٹےتھے اور فیض ان کی گفتگو کا مرکز تھے۔

کوئی کہہ رہا تھا کہ فیض غلط زبان لکھتے ہیں، تو کوئی کہہ رہا تھا کہ انہیں یاسر عرفات کے جریدے 'لوٹس' نے شہرت بخشی ہے۔ فیض ان سب باتوں کو دور سے سن رہے تھے اور جام پر جام چڑھا رہے تھے اور سگریٹ پر سگریٹ سلگا رہے تھے۔

جب پڑھنے کے لیے بلایا گیا تو انھوں نے فرمایا کہ بھائی دکانیں تو سب نے ایک ساتھ لگائی تھیں، اب اس کو کیا کہا جائے۔ کوئی چل گئی تو یہ اس کی دین ہے جسے پروردگار دے۔

اسی بارے میں
ساتوں دن بھگوان کے۔۔
27 September, 2006 | انڈیا
’ملا گھر کا پتہ دیر سے ‘
22 September, 2006 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد