BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 01 November, 2006, 02:44 GMT 07:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مختار مائی: کتاب کا انگریزی ایڈیشن شائع

مختار مائی کی کتاب
’میں اپنی ساتھ ایک شال لائی تھی جو میں نے معافی کےلیے ان لوگوں کے پیروں پر ڈال دی۔ میں حفظ قرآن پڑھتی رہی، اور کتاب مقدس کو اپنے ہاتھ میں پکڑ کر رکھا۔ میں نے قران حفظ کیا ہوا ہے جو ناظرہ نہیں یاد حافظ پڑھی ہوں سینہ بہ سینہ۔ میں یہ مقدس اوراق ان سنگدل لوگوں سے زیادہ پڑھی ہوئی تھی جو اب مجھے حقارت سے گھور رہے تھے۔مستوئیوں کےلیے اب اپنی عزت پاک کرنے کا وقت آن پہنچا تھا۔ پنجاب، جسے پانچ دریائوں کا دیس کہتے ہیں وہ پاک سر زمین کے نام سے بھی جانے جاتی ہے۔ مگر ان میں سے اب کون پاک تھا؟‘

یہ اقتباسات مختار مائی کی کتاب ’ان دی نیم آف آنر‘ سے ہیں جس کے انگریزی اور ہسپانوی ایڈیشن امریکہ میں بدھ کے روز شائع ہوئے ہیں۔

کئی زبانوں میں شائع کی جانے والی مختار مائی کی اس کتاب کے دو ايڈیشن انگریزی اور ہسپانوی زبانوں میں اسی پبلشر سائمن اینڈ شوسٹر نے جاری کیے ہیں جس نے اس سے قبل پاکستان کے فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف کی کتاب ’ان دی لائن آف فائر‘ شائع کی تھی۔

 کتاب کے دو ايڈیشن انگریزی اور ہسپانوی زبانوں میں اسی پبلشر سائمن اینڈ شوسٹر نے جاری کیے ہیں جس نے اس سے قبل پاکستان کے فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف کی کتاب ’ان دی لائن آف فائر‘ شائع کی تھی

ایک سو بیانوے صفحات پر مشتمل مختار مائی کے امریکہ میں اس انگریزی ایڈیشن کی قیمت سولہ سے پچیس امریکی ڈالروں تک ہے۔

اصل فرانسیسی زبان میں ایک صحافی کے طرف سے مختار مائی کی آپ بیتی پر مبنی لکھی ہوئی یہ کتاب انگریزی کے علاوہ ہندی، جرمن، اور عبرانی سمیت کئی زبانوں میں ترجمہ ہوئی ہے اور ان میں چھپ چکی ہے- مختار مائی کی اس کتاب کا پیش لفظ ’نیویارک ٹائمز‘ کے مشہور کالم نگار نکولس ڈی کرسٹوف نے لکھا ہے۔

کتاب میں اپنی آپ بیتی سمیت مختار مائی نے پہلی بار کتابی صورت میں اپنے آپ پر ہونے والی اجتمائی آبروریزی کی بپتا یوں بیان کی ہے:

’میں وہاں تھی، یہ سچ تھا، لیکن وہ میں وہاں نہیں بھی رہی تھی: یہ میرا خوفزدہ جسم اور کانپتی ٹانگيں میری نہیں رہی تھیں- میں بیہوش ہوکر فرش پر گرنے والی تھی مگر مجھے اس کا موقع ہی نہیں ملا۔وہ مجھے ایسے گھسیٹ کر لے گۓ جیسے کسی بکری کو ذبح ہونے کے لیے قصائی کی طرف لایا جاتا ہے۔ مردوں کے بازئوں نے میرے بازئوں سے مجھے پکڑا ، وہ مجھے میرے کپڑوں، شال اور بالوں سے کھینچنے لگے۔

’قرآن کے صدقے مجھے جانے دو، خدا کے نام پر مجھے جانے دو‘ میں چیخی اور چلائي۔

’ميں ایک رات سے دوسری کی طرف چلی گئی، باہر کے اندھیرے سے اندر کے اندھیرے کی طرف لائي گئی جو ایک بند جگہ تھی جہاں میں ان پانچ آدمیوں کو چاند کی روشنی سے دیکھ سکتی تھی جو ایک چھوٹی سے کھڑکی سے چھن کر اندر آرہی تھی۔ چار دیواری اور دروازے پر مسلح گماشتے پھیرہ دے رہے تھے۔
فرار ناممکن تھا۔ کوئی دعا نا ممکن تھی۔‘

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد