طالبان سے بات کی جا سکتی ہے: گیٹس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وزیرِ دفاع رابرٹ گیٹس نے کہا ہے کہ وہ افغانستان میں تعینات برطانوی فوجی کمانڈر کے اس بیان کی حمایت کرتے ہیں کہ افغانستان کے مسئلے کے حل کے لیے طالبان سے بات چیت کرنا پڑے گی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ برطانوی کمانڈر کا یہ کہنا درست نہیں کہ افغانستان کی جنگ جیتی نہیں جا سکتی۔ افغان صوبے ہلمند میں برطانوی فوج کے کمانڈر بریگیڈیئر مارک کارلٹن سمتھ نے حال ہی میں ایک برطانوی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ برطانیہ کو افغانستان میں فیصلہ کن جیت کی امید نہیں رکھنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب بین الاقوامی فوج افغانستان سے واپس جائے گئی اس وقت بھی ملک میں شورش کی چنگاری سلگتی رہے گی۔ برطانوی کمانڈر کے بیان کے بعد افغانستان میں برسرِ پیکار اتحادی افواج کے کمانڈر بریگیڈیئر رچرڈ بلانشٹ نے بھی کہا ہے کہ افغانستان کا کوئی عسکری حل نہیں ہے جبکہ افغانستان میں اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندے کائی عیدی کا کہنا ہے کہ ’ہم سب جانتے ہیں کہ ہم یہاں عسکری لحاظ سے نہیں جیت سکتے اور یہاں فتح کے لیے سیاسی ذرائع استعمال کرنا ہوں گے‘۔ ان بیانات پر نیٹو میں شامل ممالک کے وزرائے دفاع سے ملاقات کے لیے بوڈا پسٹ جاتے ہوئے رابرٹ گیٹس نے دورانِ سفر صحافیوں کو بتایا کہ اگرچہ برطانوی کمانڈر کی جانب سے’فیصلہ کن عسکری فتح‘ کو ناممکن قرار دینا درست نہیں تاہم اس مسئلے کے پائیدار حل کے لیے ایسے طالبان سے بات چیت کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے جو افغان حکومت سے مل کر کام کرنے پر تیار ہوں۔ رابرٹ گیٹس کا کہنا تھا کہ ’اگرچہ ہمیں افغانستان میں مشکلات کا سامنا ہے لیکن شکست یا پھر مستقبل میں فتح کے مواقع میں کمی کے بارے میں سوچنے یقیناً کوئی وجہ نہیں ہے‘۔ طالبان سے رابطہ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ’جو ہم نے عراق میں میں دیکھا وہی افغانستان پر لاگو ہوتا ہے۔ اس مسئلے کے حل کا ایک حصہ افغان سکیورٹی فورس کو طاقتور بنانا ہے جبکہ دوسرا حصہ ان لوگوں سے مفاہمت کرنا ہے جو افغان حکومت کے ساتھ کام کرنے پر راضی ہیں‘۔ رابرٹ گیٹس کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ نیٹو ممالک پر زور دیں گے کہ وہ افغانستان میں مزید فوج بھیجیں۔ |
اسی بارے میں ’افغانستان میں فتح کی امید نہ رکھیں‘05 October, 2008 | آس پاس ’انخلاء کے فیصلے پر محفوظ راستہ‘30 September, 2008 | آس پاس ’لڑائی سے بچ کر افغانستان کا رخ‘29 September, 2008 | آس پاس امریکی جنرل کے سامنے کئی چیلنج17 September, 2008 | آس پاس ’مزید دس ہزار فوجی چاہئیں‘17 September, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||