طالبان پروپیگنڈے سے نمٹنے کا منصوبہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ برطانوی حکومت افغانستان میں طالبان کے پروپیگنڈے کا مقابلہ کرنے کے لیے نیا ’میڈیا پلان‘ تشکیل دے رہی ہے۔ حکام کے مطابق اس منصوبے کا مقصد پروپیگنڈا کے میدان میں طالبان کی اجارہ داری کا خاتمہ کرنا ہے۔ اس پروگرام کے تحت موبائل فونوں اور انٹرنیٹ کی مدد سے افغان عوام کو اس قابل بنایا جائے گا کہ وہ طالبان کی جانب سے پھیلائے جانے والے پیغامات کا جواب دے سکیں۔ اس منصوبے کے تحت غیر سرکاری تنظیمیں افغان عوام میں موبائل فون تقسیم کریں گی تاکہ وہ اپنی ذاتی ویڈیو ڈائری تشکیل دے سکیں۔ یاد رہے کہ افغانستان میں ساٹھ لاکھ کے قریب مغرب مخالف ویڈیوزگردش میں ہیں جن تک افغانستان کے قریباً پانچ لاکھ انٹرنیٹ صارفین کی رسائی بھی ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ میڈیا پلان ایک غیر حکومتی مشیر نے تیار کیا ہے اور اس کے تحت افغان عوام مختصر دورانیے کی سو فلمیں تیار کریں گے اور یہ کام آئندہ موسمِ گرما میں فلمی میلے سے قبل مکمل کر لیا جائے گا۔ بی بی سی کے نمائندہ برائے سکیورٹی امور فرینک گارڈنر کے مطابق امریکی اور برطانوی حکام کو شدت سے اس بات کا احساس ہو رہا ہے کہ افغانستان میں تعینات اتحادی افواج پروپیگنڈے کے میدان میں طالبان سے شکست کھا رہی ہیں اور حال ہی میں طالبان کی جانب سے فضائی حملوں میں شہری ہلاکتوں کی ویڈیوز کی تقسیم سے افغان آبادی میں اتحادی افواج کے لیے پائے جانے والے مخالفانہ جذبات مزید بھڑکے ہیں۔ | اسی بارے میں یو این، شہری ہلاکتوں پر تشویش23 September, 2008 | آس پاس ’جنگ القاعدہ کو کمزور نہ کر سکی‘28 September, 2008 | آس پاس امریکی جنرل کے سامنے کئی چیلنج17 September, 2008 | آس پاس شہریوں کی ہلاکتوں کا اعتراف09 October, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||