شہریوں کی ہلاکتوں کا اعتراف | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی فوج نے اعتراف کیا ہے کہ اس سال اگست کے مہینے میں افغانستان کے صوبے ہرات میں کیے جانے والے فضائی حملے میں تیس سے زیادہ عام شہری ہلاک ہوئے تھے۔ ہرات کے مقام عزیز آباد پر کیے گئے حملے کے بعد امریکی فوج کا کہنا تھا کہ اس کارروائی میں صرف پانچ سے سات شہری ہلاک ہوئے تھے، تاہم علاقے سے ملنے والی اطلاعات کے پیش نظر افعان حکام اور اقوام متحدہ نے اس کی تفتیش کے بعد کہا تھا کہ اس فضائی حملوں میں بچوں سمیت نوئے عام شہری مارے گئے تھے۔ امریکی فوج نے اب اعتراف کر لیا ہے کہ اس کے ابتدائی اندازے سے کہیں زیادہ شہری اس حملے میں مارے گئے تھے۔ امریکی فوج نے یہ اعتراف اس واقعے کی تفتیش مکمل کرنے کے بعد کیا ہے۔ فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کی تفتیش کے مطابق بائیس اگست کو کیے گئے اس فضائی حملے میں تینتیس افغان شہری مارے گئے تھے۔ فوج نے دعوی کیا ہے کہ اس حملے میں بائیس مزاحمت کار بھی ہلاک ہوئے تھے۔ افغان اور اقوام متحدہ کی طرف سے علیحدہ علیحدہ تفتیش کے بعد امریکی فوج بھی اس واقعہ کی تفتیش کرنے پر مجبور ہوئی تھی۔ اس واقعے کی ایک ویڈیو بھی سامنے آئی تھی جس میں مرنے والوں کی لاشوں کو فلمایا گیا تھا۔ اس میں کئی کم سن بچوں کی لاشیں بھی شامل تھیں۔ افغان حکومت اور اقوام متحدہ نے علاقے میں تفتیش کے بعد کہا تھا کہ اس فضائی حملے میں مرنے والوں کی تعداد نوے تھی۔ اب واقعے کے ڈیڑھ ماہ بعد امریکی فوج نے اعتراف کر لیا ہے کہ اس کا ابتدائی بیان غلط تھا۔ لیکن ساتھ تفتیشی ٹیم کے سربراہ جنرل مائکل کیلن کا یہ بھی کہنا ہے کہ اتحادی افواج نے جنگ کے قوانین کے دائرے میں یہ کارروائی کی تھی۔ عزیز آباد پر اس حملے میں شہری ہلاکتوں کے حوالے سے افغان حکومت نے امریکی فوج سے سخت احتجاج کیا تھا۔ | اسی بارے میں امریکی حملے پر نکتہ چینی23 August, 2008 | آس پاس ’حملے میں ساٹھ بچے ہلاک ہوئے‘26 August, 2008 | آس پاس ’سیاہ بیوہ‘ کے سائے میں28 September, 2008 | آس پاس افغانستان: چار فوجی ہلاک17 September, 2008 | آس پاس ’افغانستان: فتح کی امید نہ رکھیں‘05 October, 2008 | آس پاس ’انخلاء کے فیصلے پر محفوظ راستہ‘30 September, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||