’سیاہ بیوہ‘ کے سائے میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان اور پاکستان کے درمیان کی سرحد صرف خوبصورت ہی نہیں بلکہ زندگی بسر کے لیے کافی مشکل بھی۔ یہ سرحد لگ بھگ ایک سو پچاس برسوں سے کشیدگی اور تشدد کی جگہ بنی ہوئی ہے۔ اس سرحد کو، جسے ڈیورنڈ لائن کے نام سے جانا جاتا ہے، برطانوی حکمرانوں نے سن 1893 میں طے کیا تھا۔ اصولی طور پر افغانستان اس سرحد کو ابھی بھی ماننے سے انکار کرتا ہے لیکن عملی طور پر پاکستان اور افغانستان کے درمیان یہ ایک سرحد ہے۔ اگر آپ افغانستان کی جانب سے طورخم کے مقام سے درۂ خیبر کی جانب نظر ڈالیں جو کہ پاکستان میں جانے کا راستہ ہے تو آپ کو سمجھ میں آجائے گا کہ سرحد پار سفر کرنے والے گوریلوں اور ہتھیاروں کی آمد و رفت کو روکنا کتنا مشکل کام ہے۔
سرحد کی دونوں جانب واقع چیک پوانٹ پر تعینات پولیس کے اہلکار پوری کوشش کرتے ہیں کہ پیاز، چاول یا بجلی کے سامان سے بھری گاڑیوں میں ہتھیار یا دھماکہ خیز مواد نہ چھپائے گئے ہوں۔ لیکن یہ کام اتنا آسان نہیں ہے۔ کابل میں میں نے ایک ممکنہ پاکستانی خودکش بمبار سے بات چیت کی جس نے خود کو پولیس کے حوالے کردیا تھا کیونکہ اس کو لانے والے لوگوں نے اس سے جھوٹ بولا تھا۔ میں نے پوچھا کہ کیا پولیس نے اس گاڑی کی تلاشی لی تھی جس میں وہ اسلحے چھپاکر افغانستان لانے میں کامیاب ہوگیا؟ اس نے نفی میں سر ہلایا۔ کابل سے جلال آباد اور وہاں سے طورخم جانے والے سڑک کافی خطرناک بنتی جارہی ہے۔ ایک سال قبل جب میں اور میری ٹیم کے افراد اس راستے سے گزرے تھے تو پولیس نے چار مسلح محافظ مہیا کیے تھے۔ لیکن اس بار ہمارے ساتھ آٹھ جیپ اور اڑتالیس مسلح افراد تھے۔ چند دنوں کے بعد جب ہم نے جلال آباد سے پاکستان سرحد کے قریب تورا بورا کی پہاڑوں کی جانب سفر کیا تو افغان حکام نے اصرار کیا کہ ہم چودہ گاڑیوں پر مشتمل محافظوں کا ایک قافلہ لیکر جائیں۔ تورا بورا کی جانب جانے والی اس سڑک پر سب سے زیادہ خطرہ بارودی سرنگوں سے ہے۔ طالبان نے جن کا ان راستوں پر کنٹرول ہے ہمارے کارواں کو ضرور دیکھا ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی اندازہ لگا لیا ہوگا کہ ہم اسی راستے سے واپس بھی ہونگیں۔ اور شب کی تاریکی میں ہمارے راستے میں بارودی سرنگیں نصب کرنا بہت آسان کام ہے۔
نیچے تورا بورا کی پہاڑیوں میں جانے والی ایک گلی ہے جہاں سے سن 2002 میں اسامہ بن لادن فرار ہونے میں کامیاب رہے۔ میں نے پولیس کے اہلکار سے پوچھا کہ کیا میں وہاں جاسکتا ہوں؟ اس نے کہا: نہیں وہ نو مینس لینڈ ہے۔ نو مینس لینڈ دو سرحدوں کے درمیان وہ جگہ ہوتی ہے جس پر کسی کا کنٹرول نہیں ہوتا ہے۔ طالبان نے جنہیں اتحادی اور افغان افواج نے مختلف پہاڑیوں سے بھگا دیا ہے اب یہاں پناہ لی ہے۔ وقفے وقفے سے پولیس کے اہلکار تورا بورا پر فائرنگ کرتے ہیں تاکہ یہ بتایا جاسکے کہ یہاں پولیس موجود ہے۔ لیکن طالبان نے جوابی فائرنگ نہیں کی۔ شب کے وقت ہم کھلے آسمان کے اندر سوئے۔ پولیس والے پہرہ دیتے رہے۔ کبھی کبھی انہوں نے ایک دوسرے کو آواز بھی دی تاکہ یہ معلوم ہو کہ کسی نے ان کا گلا نہ کاٹ دیا ہو اور وہ موجود ہیں۔ تاہم یہاں دراندازی آسان ہے۔ سورج غروب ہونے کے بعد ایک وقت ایسا آیا جب ایک بڑا بھیڑیا چھلانگ لگاکر ہمارے سامنے آگیا۔ صبح کے وقت ہمارے کمانڈر نے فیصلہ کیا کہ ہم دوسرے راستے سے واپس جائیں گے۔ لیکن اسے بتایا گیا اس راستے پر بھی ایک امریکی کارروں کو نو روز قبل نشانہ بنایا گیا تھا۔ ہمارا کمانڈر پریشان ہوا۔ کمانڈر اور اس کے ساتھیوں نے نقشے کا مطالعہ کیا۔ اگر ہمارے کچھ دریاؤں کے سوکھے راستوں سے گزریں تو لگ بھگ تین گھنٹوں کی دشوار گزار کے بعد جلال آباد کی راہ میں ہونگیں۔ یہ سوچ کامیاب رہی۔ ہم سیاہ بیوہ کے سائے سے نکل گئے۔ ہم پر کوئی حملہ نہیں ہوا۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ ہمارے ساتھ اسی پولیس اہلکاروں کا ایک قافلہ تھا جو اے کے سینتالیس رائفلوں سے مسلح تھے۔ |
اسی بارے میں افغانستان کی پرخطر راہوں پر13 September, 2008 | آس پاس امریکی جنرل کے سامنے کئی چیلنج17 September, 2008 | آس پاس افغانستان: چار فوجی ہلاک17 September, 2008 | آس پاس یو این، شہری ہلاکتوں پر تشویش23 September, 2008 | آس پاس قبائلی علاقوں میں امریکہ کو کارروائی کا حق؟24 September, 2008 | آس پاس افغان پولیس سربراہ کو قتل کر دیا28 September, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||