BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 24 September, 2008, 14:45 GMT 19:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قبائلی علاقوں میں امریکہ کو کارروائی کا حق؟

امریکہ کی فضائی کارروائیوں پر قبائلی علاقوں میں بہت ناراضگی ہے۔

امریکہ کا دعوی ہےکہ افغانستان میں تعینات اس کی افواج کو نشانہ بنانے والے شدت پسندوں کو پاکستان کے قبائلی علاقوں میں محفوظ پناہ گاہیں حاصل ہیں اور یہ کہ وہ ’ہاٹ پرسیوٹ‘ ( تعاقب) کے اصول کے تحت طالبان کے خلاف پاکستان کی سرحدی حدود میں داخل ہوکر بھی کارروائی کرسکتا ہے۔

امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس کے مطابق اس ہاٹ پرسیوٹ کے اصول کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت قانونی جواز حاصل ہے۔

لیکن جس قانونی جواز کا رابرٹ گیٹس ذکر کر رہے ہیں وہ کافی حد تک ابہام کا شکار ہے۔

ہاٹ پرسیوٹ کی تاریخ
 ہاٹ پرسیوٹ کا اصول بنیادی طور پر کھلے سمندروں کے لیےوضع کیا گیا تھا جس کے تحت ایک ملک کی بحریہ اپنی حدود کی خلاف ورزی یا اس میں کوئی جرم کرنے والوں کا تعاقب کرتے ہوئے دوسرے ملک کی سمندری حدود میں داخل ہوسکتی تھی

اس کی وجہ یہ ہے کہ ہاٹ پرسیوٹ کا اصول بنیادی طور پر کھلے سمندروں کے لیےوضع کیا گیا تھا جس کے تحت ایک ملک کی بحریہ اپنی حدود کی خلاف ورزی یا اس میں کوئی جرم کرنے والوں کا تعاقب کرتے ہوئے دوسرے ملک کی سمندری حدود میں داخل ہوسکتی تھی۔

(یہ اختیار اانیس سو بیاسی کے یو این کنونشن کی شق نمبر ایک سو گیارہ اور انیس سو اٹھاون کے کنونشن کی شق نمبر تئیس میں درج ہے۔ یہ دونوں کنوینشن سمندری قوانین کے بارے میں ہیں۔)

بعد میں بری اور فضائی افواج بھی دشمنوں کے قلع قمع کے لیے اسی اصول کا سہارا لینے لگیں۔ لیکن ہاٹ پرسیوٹ کے حق کے ساتھ بہت سی پیچیدہ شرائط جڑی ہوئی ہیں۔

رابرٹ گیٹس اور حامد کرزئی دونوں قبائلی علاقوں میں کارروائی کی بات کر چکے ہیں۔

ملکوں کی جانب سے سرحد پار حملوں کی کئی تازہ مثالیں موجود ہیں۔ ترکی نے شمالی عراق میں کردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کرنے کے لیے گزشتہ برس فوجی کارروائی کی تھی۔ اس کے علاوہ کولمبیا نے ایکواڈور میں پناہ لینے والے ’فارک‘ باغیوں کو اور اسرائیل نے لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے اسی اصول کا سہارا لیا۔ اور اب ان کارروائیوں کو نظیر کے طور پر بھی پیش کیا جاتا ہے۔

امریکی حملوں کا جواز
 امریکہ نے حالیہ چند ہفتوں میں قبائلی علاقوں میں جو کارروائی کی ہے اس میں امریکی افواج طالبان کا تعاقب نہیں کر رہی تھیں بلکہ اس مفروضے پر حملے کیے گئے کہ جن املاک کو نشانہ بنایا گیا ان میں القاعدہ یا طالبان کےاہم رہنما موجود تھے

لیکن قانونی ماہرین اس سے اتفاق نہیں کرتے۔ بین الاقوامی تنظیم انٹرنیشنل کرائسس گروپ سے وابستہ نک گرونو کے مطابق ہاٹ پرسیوٹ کا اصول اس وقت استعمال ہوسکتا ہو جب’ واقعتاً کسی( دشمن یا مجرم) کا تعاقب کیا جا رہا ہو اور وہ کسی دوسرے ملک کی سرحد میں داخل ہو جائے۔‘

لیکن امریکہ نے حالیہ چند ہفتوں میں قبائلی علاقوں میں جو کارروائی کی ہے اس میں امریکی افواج طالبان کا تعاقب نہیں کر رہی تھیں بلکہ اس مفروضے پر حملے کیے گئے کہ جن املاک کو نشانہ بنایا گیا ان میں القاعدہ یا طالبان کےاہم رہنما موجود تھے۔

اس نوعیت کی کارروائی کی گنجائش اقوام متحدہ کے چارٹر میں آرٹیکل اکیاون کے تحت موجود ہے۔ یہ شق ملکوں کے دفاعی حقوق کے بارے میں ہے۔ لیکن اس کے ساتھ بھی کئی مشکل شرائط منسلک ہیں۔

مثال کے طوور پر ملکوں کو اپنے دفاع کا حق استعمال کرتے ہوئے سرحد پار کارروائی کرنے کا اختیار اسی صورت میں حاصل ہے کہ اسے ’فوری اور بے پناہ خطرہ لاحق ہو اور اس کے پاس اپنے دفاع کے لیے پہلے کارروائی کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہ ہو۔‘

تو پھر زمانہ امن میں سرحد پار کارروائی کا کیا جواز ہے یا ہاٹ پرسیوٹ کا سہارا لینے والے ملک کیا جواز پیش کرتے ہیں؟ بین الاقوامی قوانین کے تحت، اور گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد اقوام متحدہ کی ایک قرارداد ( نمبر تیرہ سو تہتر) کے مطابق ملکوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی سرحدوں کے اندر غیر ریاستی عوامل کو کوئی ایسی کارروائی نہ کرنے دیں جس سے کسی دوسرے ملک کو خطرہ لاحق ہو۔

امریکی فوجی کمانڈر مائک مولین نے پاکستان کی خود مختاری کے احترام کا یقین دلایا تھا۔

امریکہ کی کونسل فار فارین ریلیشنز سےبات کرتے ہوئے کیس ویسٹرن سکول آف لا کے مائکل پی سکارف نے اس کی وضاحت کچھ ان الفاظ میں کی: ’ فرض کیجیے کہ شدت پسند سرحد پار کرکے آتے ہیں، امریکیوں پر حملہ کرتے ہیں اور امریکی فوجی تعاقب کرتے ہوئے بین الاقوامی سرحد پار کرجاتے ہیں، تو شاید ہی کوئی شکایت کرے۔۔۔ لیکن اگر تعاقب نہ کیا جارہا ہو، اور پھر کسی دوسرے ملک کی سرحدوں میں داخل ہوجانا در اصل بین الاقوامی قوانین کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کرنے والی بات ہوگی۔‘ (مسٹر سکارف نے یہ بات شام اور عراق کے تناظر میں کہی تھی جہاں امریکہ کا الزام تھا کہ شدت پسندن شام سے عراق میں داخل ہو رہے تھے۔)

میری لینڈ سکول آف لا کے پیٹر ڈانشن نے بھی اسی ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہاٹ پرسیوٹ کا تصور دراصل سمندری قوانین کو توڑ مروڑ کر اپنے دفاع کے حق کے نام پر استعمال کرنے کی کوشش ہے۔‘

ماہرین کےمطابق ملکوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ’دہشت گردی کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کرنے والوں اور ان کی مدد کرنے والوں کو محفوظ پناہ گاہیں حاصل نہ ہونے دیں اور انہیں دوسرے ملکوں پر حملے کرنے سے روکیں۔ایسا نہ کرنے پر اقوام متحدہ ان کے خلاف پابندیاں عائد کرسکتی ہے۔‘

لیکن یہ کارروائی اسی صورت میں ہوسکتی ہے جب یہ ثابت کیا جاسکے کہ اس ملک کی حکومت کا ان غیر ریاستی عوامل پر ’موثر کنٹرول‘ ہے۔

اور بین الاقوامی قوانین کے تحت یہ ثابت کرنا بہت مشکل کام ہے۔

امریکی انٹیلیجنس
امریکی فضا میں، زمین پر پاکستان مضبوط
امریکی فوجیامریکہ ’تنہا‘ رہ گیا
پاکستان پر حملے، پالیسی کی پسپائی
’بچوں کا کیا ہوگا؟‘
مرنے والے سکیورٹی گارڈ کی بیوہ کا سوال
آخر پالیسی ہے کیا
دہشگردی کے خلاف حکومتی پالیسی ہے کیا؟
فوجمربوط پالیسی چاہیے
’قوم ایک ہی پالیسی پر کاربند نظر آئے‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد