ارمان صابر بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی |  |
 | | | شدت پسندوں کی مالی اور اسلحہ سے مدد وہی ممالک کررہے ہیں جو پاکستان کو مضبوط نہیں دیکھنا چاہتے: معین الدین حیدر |
پاکستان کے قبائلی اور شورش زدہ علاقوں میں دہشت گردی پر قابو پانے کے لئے سابق وزرائے داخلہ نے حکومت کو مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ تمام سیاسی، مذہبی جماعتوں، سول سوسائٹی کے ارکان اور زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد کو اعتماد میں لینے کے بعد ایک مربوط پالیسی بنانا ہوگی تاکہ پوری قوم یکجا ہوکر ایک ہی پالیسی پر کاربند نظر آئے جس کے بعد ہی دہشت گردی پر قابو پایا جاسکے گا۔ سات سال پہلے دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ کے اعلان کے بعد پاکستان بھی اس میں کود پڑا اور امریکہ کو اُس کی جنگ اس کے شانہ بشانہ لڑنے کا یقین دلایا۔ اس جنگ میں پاکستان خود بھی دہشت گردی کا شکار ہے اور آئے دن بم دھماکوں نے پورے ملک میں خوف کی فضاء پیدا کردی ہے۔ دہشت گردی پر کس طرح قابو پایا جاسکتا ہے اور آخر اس کا ممکنہ حل کیا ہے۔ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے سابق وزیرِ داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے کہا کہ سب سے پہلے تو حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنے تمام اتحادیوں کو اعتماد میں لے، اس کے بعد تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں، سول سوسائٹی کے نمائندوں، کو اعتماد میں لینے کے بعد گذشتہ پالیسی کا جائزہ لے اور اگر اس میں کچھ خامیاں ہیں تو سب کے مشورے سے شدت پسندی پر قابو پانے کے لئے ایک ایسی قابلِ عمل پالیسی ترتیب دی جائے جس کا مثبت نتیجہ نکل سکے۔
 | | | اگر حکومت مذاکرت یا جرگے کے ذریعے اس معاملے کا حل ڈھونڈنے کی کوشش کرنا چاہتی ہے تو وہ بھی کرے لیکن اس کے لیے کوئی واضح طریقۂ کار ہونا چاہیے |
آفتاب شیرپاؤ کے بقول اگر حکومت مذاکرت یا جرگے کے ذریعے اس معاملے کا حل ڈھونڈنے کی کوشش کرنا چاہتی ہے تو وہ بھی کرے لیکن اس کے لیے کوئی واضح طریقۂ کار ہونا چاہیے کہ مذاکرات یا جرگہ کن افراد سے کیا جائے گا، اور اس کے لئے شرائط کیا ہوں گی، یہ سب چیزیں پہلے سے طے کرنا پڑیں گی۔ سابق وزیرِ داخلہ فیصل صالح حیات نے دہشت گردی پر قابو پانے کے لئے قوم میں اتفاق پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پوری قوم مختلف معاملات پر تقسیم ہوچکی ہے اور سب سے پہلے قوم کو متحد کرنا ہوگا اور تمام سیاسی، مذہبی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کے مشورے کے ساتھ مربوط پالیسی تشکیل دینا ہوگی تاکہ مطلوبہ نتائج برآمد ہوسکیں۔ ان کے بقول دوسری جانب قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اعتماد کو فروغ دینا ہوگا، جب پوری قوم یکجا ہوکر اتفاقِ رائے سے بنائی گئی پالیسی پر کاربند ہوگی تو اس کا بہت ہی مثبت پیغام قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو جائے گا اور وہ پہلے سے بھی زیادہ تندہی اور جانفشانی کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں سرانجام دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ دو بڑے چیلنج اس وقت حکومت کو درپیش ہیں اور جب تک وہ اس سے عہدہ برا نہیں ہوگی تو میرا نہیں خیال کہ ہم شدت پسندی کو ختم کرنے کے حوالے سے کوئی جامع حکمتِ عملی کو آگے لے کر چل سکیں‘۔
 | | | دہشت گردی پر قابو پانے کے لئے قوم میں اتفاق پر زور دیا |
البتہ سابق وزیرِداخلہ معین الدین حیدر کا کہنا ہے کہ ’شدت پسندی کو طاقت کے ذریعے ہی کچلنا ہوگا‘۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان، سوات اور فاٹا میں عام لوگوں کی کہاں ہمت ہوسکتی ہے کہ وہ پاکستان کی پشہ ور فوج سے ٹکر لے سکیں، تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا کی کئی ایجنسیاں انتہا پسندوں کی مدد کررہی ہیں اور ان کو ہتھیار خریدنے، ٹارگٹ چننے، اور خودکش بمبار کو تیار کرنے کے لئے ہر طرح سے مالی امداد دے رہی ہیں۔ معین الدین حیدر نے کسی بھی ملک کا نام لیے بغیر کہا کہ شدت پسندوں کی مالی اور اسلحہ سے مدد وہی ممالک کررہے ہیں جو پاکستان کو مضبوط نہیں دیکھنا چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے لئے اس وقت دہشت گردی پر قابو پانا سب سے بڑا چیلنج ہے کیونکہ جب تک ملک میں امن قائم نہیں ہوگا اس وقت تک معیشت بھی ترقی نہیں کرسکے گی۔ |