BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستانی معیشت مستحکم سے منفی

کرنسی
معیشت کی منفی درجہ بندی سے بیرونی سرمایہ کاری مزید کم ہونے کا خدشہ ہے
ملکوں اور عالمی اداروں کی اقتصادی صورتحال پر نظر رکھنے والی بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے پاکستان کی معاشی کارکردگی پر عدم اطیمنان کا اظہار کیا ہے اور پاکستان کا معاشی درجہ مستحکم سے منفی کر دیا ہے۔

اقتصادی ماہرین عالمی ریٹنگ ایجنسی کے اس اقدام کو پاکستانی معیشت کے لیے پریشان کن قرار دے رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے امن و امان کی دگرگوں ہوتی صورتحال کے بعد معیشت کی منفی درجہ بندی سے بیرونی سرمایہ کاری مزید کم ہونے کا خدشہ ہے۔

درجہ بندی میں اس کمی کے بعد پاکستان کی معیشت ایشیا کی سب سے کم درجے والی معیشت بن گئی ہے جو سری لنکا سے بھی نیچے ہے۔

موڈیز کے سنگاپور میں واقع ایشیائی دفتر سے جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق پاکستانی معیشت کی درجہ بندی میں کمی کی فوری وجہ زرمبادلہ کے ذخائر اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت میں کمی ہے اور غیرملکی امداد اور معاشی استحکام کی کوششوں کے باوجود بہتری کے آثار نہیں ہیں۔

رپورٹ کے مطابق آصف علی زرداری کے صدر مملکت کے عہدے پر فائز ہونے سے کچھ سیاسی استحکام تو آئے گا لیکن اندرونی سیاسی کھنچاؤ کو دور کرنا آسان نہیں ہو گا۔

پاکستان کے لیے ریٹنگ ایجنسی کے تجزیہ کار آنندہ مترا کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے معاشی بہتری کے اقدامات پر ملک کی ابتر ہوتی سماجی صورتحال کا منفی اثر پڑے گا جس کی وجہ سے حکومت کے طے کردہ اہم معاشی اہداف حاصل نہ ہو سکنے کا اندیشہ ہے۔

پاکستان کی معیشت ایشیا کی سب سے کم درجے والی معیشت بن گئی ہے
موڈیز کے تجزیہ کار کے مطابق سیاسی پیچیدگیاں، مذہبی انتہا پسندی اور افراط زر کی بڑھتی شرح حکومت کی معاشی اصلاحات، ٹیکس جمع کرنے کی صلاحیت اور زرمبادلہ کے ذخائر پر بری طرح اثر انداز ہو سکتی ہے۔

اقتصادی ماہر ڈاکٹر فرخ سلیم کے مطابق منفی درجے کے باعث پاکستان میں سرمایہ کاری کرنا مہنگا ہو جائے گا جسکے باعث افراط زر کی شرح اور مہنگائی میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے۔

ڈاکٹر فرخ نے کہا ہے کہ ’دنیا بھر میں حکومتیں اپنی کریڈیٹ ریٹنگ بہتر بنانےکے لیے جانے کیا کیا پاپڑ بیلتی ہیں لیکن ہماری حکومت نے اس معاملے کو کبھی سنجیدگی سے نہیں لیا۔ یہی وجہ ہے کہ معاشی محاذ پر حکومت کوئی ٹھوس پالیسی نہیں دے پا رہی‘۔

کراچی بازارِ حصصپاکستان میں تنزلی
ایمرجنسی نے معاشی ترقی کا رخ بدل دیا
 ضلع کرک میں تیل اور گیس کے ذخائر ترقی مگر خطرات
سرحد میں ذخائر کوشدت پسندی سےممکنہ خطرہ
گندمترقی یا سراب
زرعی ملک میں زراعت پر زوال، صنعت میں ترقی
کراچیکراچی میں تشدد
سرمایہ کاری متاثر نہیں ہوگی
پیسے سے بھرا بیگاس سال کی معیشت
تجارتی خسارے کی وجہ سے قرض لینا ہو گا
معاشی ترقی کا واہمہ
’گیارہ ستمبرکے بعد کا ہنی مون ختم ہوچکاہے‘
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد