آصف فاروقی بی بی سی اردوڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
 | | | معیشت کی منفی درجہ بندی سے بیرونی سرمایہ کاری مزید کم ہونے کا خدشہ ہے |
ملکوں اور عالمی اداروں کی اقتصادی صورتحال پر نظر رکھنے والی بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے پاکستان کی معاشی کارکردگی پر عدم اطیمنان کا اظہار کیا ہے اور پاکستان کا معاشی درجہ مستحکم سے منفی کر دیا ہے۔ اقتصادی ماہرین عالمی ریٹنگ ایجنسی کے اس اقدام کو پاکستانی معیشت کے لیے پریشان کن قرار دے رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے امن و امان کی دگرگوں ہوتی صورتحال کے بعد معیشت کی منفی درجہ بندی سے بیرونی سرمایہ کاری مزید کم ہونے کا خدشہ ہے۔ درجہ بندی میں اس کمی کے بعد پاکستان کی معیشت ایشیا کی سب سے کم درجے والی معیشت بن گئی ہے جو سری لنکا سے بھی نیچے ہے۔ موڈیز کے سنگاپور میں واقع ایشیائی دفتر سے جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق پاکستانی معیشت کی درجہ بندی میں کمی کی فوری وجہ زرمبادلہ کے ذخائر اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت میں کمی ہے اور غیرملکی امداد اور معاشی استحکام کی کوششوں کے باوجود بہتری کے آثار نہیں ہیں۔ رپورٹ کے مطابق آصف علی زرداری کے صدر مملکت کے عہدے پر فائز ہونے سے کچھ سیاسی استحکام تو آئے گا لیکن اندرونی سیاسی کھنچاؤ کو دور کرنا آسان نہیں ہو گا۔ پاکستان کے لیے ریٹنگ ایجنسی کے تجزیہ کار آنندہ مترا کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے معاشی بہتری کے اقدامات پر ملک کی ابتر ہوتی سماجی صورتحال کا منفی اثر پڑے گا جس کی وجہ سے حکومت کے طے کردہ اہم معاشی اہداف حاصل نہ ہو سکنے کا اندیشہ ہے۔
 | | | پاکستان کی معیشت ایشیا کی سب سے کم درجے والی معیشت بن گئی ہے | موڈیز کے تجزیہ کار کے مطابق سیاسی پیچیدگیاں، مذہبی انتہا پسندی اور افراط زر کی بڑھتی شرح حکومت کی معاشی اصلاحات، ٹیکس جمع کرنے کی صلاحیت اور زرمبادلہ کے ذخائر پر بری طرح اثر انداز ہو سکتی ہے۔ اقتصادی ماہر ڈاکٹر فرخ سلیم کے مطابق منفی درجے کے باعث پاکستان میں سرمایہ کاری کرنا مہنگا ہو جائے گا جسکے باعث افراط زر کی شرح اور مہنگائی میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے۔ ڈاکٹر فرخ نے کہا ہے کہ ’دنیا بھر میں حکومتیں اپنی کریڈیٹ ریٹنگ بہتر بنانےکے لیے جانے کیا کیا پاپڑ بیلتی ہیں لیکن ہماری حکومت نے اس معاملے کو کبھی سنجیدگی سے نہیں لیا۔ یہی وجہ ہے کہ معاشی محاذ پر حکومت کوئی ٹھوس پالیسی نہیں دے پا رہی‘۔ |