BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 18 September, 2008, 22:58 GMT 03:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بش انتظامیہ کی سوچ پر افغان لابی حاوی‘

باجوڑ کے علاوہ جنوبی اور شمالی وزیرستان سے پاکستانی فوج نکل آئی ہے
امریکی صدر بُش کا یہ بیان بظاہر دہشتگردی کے خلاف جاری جنگ میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان پیدا ہونے والی تلخی کا نقطۂ آغاز بن گیا جب انہوں نے پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف میدانِ جنگ قرار دیتے ہوئے اس سے بھی عراق اور افغانستان کے صف میں شامل کر دیا تھا۔

تین ستمبر کو انگور اڈہ میں امریکی فوج کی زمینی کاروائی نے صدر بُش کے بیان کے مفہوم و معانی کو عملاً واضح کردیا اور یوں پاکستان کی منتخب حکومت اور فوج نے امریکہ کی بدلتی ہوئی حکمت عملی اور بدلتے تیور بھانپتے ہوئے اپنے لہجے میں قدرے تلخی پیدا کر لی۔

تین ستمبر کو امریکہ نے زمینی کاروائی کر کے کوئی پہلی مرتبہ پاکستان کے علاقائی خودمختاری پر کاری ضرب نہیں لگائی بلکہ یہ سلسلہ توقبائلی علاقوں میں تواتر کے ساتھ ہونے والے میزائل حملوں کی صورت میں گزشتہ کئی سالوں سے جاری و ساری ہے۔

شاید پاکستان کو فضائی حدود کی خلاف ورزی پر اعتراض نہیں بلکہ اس سے اس وقت اپنی زمینی خودمختاری کی زیادہ فکر لاحق ہوگئی ہے کیونکہ ماضی میں ہونے والے فضائی حملوں پر پاکستان کی جانب سے صرف احتجاج ہی سامنے آیا کرتا تھامگر سات سال کے بعد شاید پہلی مرتبہ فوج کے سابق سربراہ جنرل( ر) پرویز مشرف کے برعکس افواج پاکستان کے سربراہ نے امریکہ کو قدرے سخت بیان کی صورت میں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ’افواج پاکستان آئندہ ہونے والے کسی بھی حملے پر اپنے جوابی حملے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

 امریکہ کی جانب سے پاکستان کی سرزنش اور پھر تعریف ایسی ہے جیسے کسی یتیم کو تھپڑ مارنے بعد اس کے سر پر ہاتھ پھیر کر اسے دوبارہ خوش کرنے کی کوشش کی جائے۔
طالبان کمانڈر

امریکی کی جانب سے قبائلی علاقوں میں طالبان اور القاعدہ کے مبینہ ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے بیانات میں افغان صدر حامد کرزئی کے وہی الفاظ پوشیدہ ہیں جنہوں نے آج سے تقریباً ساڑھے تین سال قبل ہی کہا تھا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ’پاکستان کے قبائلی علاقوں میں موجود دہشت گردوں کے اصل مراکز کو تباہ کرنا ہوگا‘۔

لگتا ہے کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے نئی حکمت عملی وضع کرنے کے حوالے سے بُش انتظامیہ کی سوچ پر وہ لابی حاوی ہوگئی ہے جس کی سوچ و فکر افغان صدر حامد کرزئی اور ان کے حواریوں سے مماثلت رکھتی ہے۔

اس وقت نئی حکمت عملی وضع کرنے کے حوالے سے امریکہ کو افغان حکومت کے علاوہ کسی اور اتحادی کی بظاہر کوئی حمایت حاصل نہیں ہے۔ نیٹو نے امریکی سوچ کے ساتھ اختلاف کیا ہے اور برطانیہ کا جھکاؤ پاکستان کی طرف معلوم ہورہا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو القاعدہ اور طالبان کے خلاف جنگ اب اتحادیوں کے درمیان سفارتی جنگ میں تبدیل ہوگئی ہے۔

اتحادیوں کے ان اختلافات سے طالبان اور القاعدہ کا خوش ہونا ایک فطری امر ہے۔ان کی سوچ پڑھنے کے لیے میں نے کئی طالبان رہنماؤں اور کمانڈروں سے بات کی۔ایک کمانڈر سے پہلا جواب تو یہی ملا کہ ’امریکہ کی جانب سے پاکستان کی سرزنش اور پھر تعریف ایسی ہے جیسے کسی یتیم کو تھپڑ مارنے بعد اس کے سر پر ہاتھ پھیر کر اسے دوبارہ خوش کرنے کی کوشش کی جائے‘۔

انہیں یقین ہے کہ پاکستان اور امریکہ پھر سے شیر و شکر ہو جائیں گے کیونکہ ’پاکستان امریکی دباؤ کو تادیر برداشت نہیں کرسکتا اور اسے اقتصادی اور فوجی لحاظ سے امریکہ پر ہی انحصار کرنا پڑے گا‘۔

ایک اور طالب رہنماء ان اختلافات پر انتہائی پُرجوش نظر آئے۔’ہماری تو پاکستانی حکومت کے ساتھ جنگ اسی معاملے پر ہی ہے کہ امریکہ کی تابعداری چھوڑ دیں اور اگر ایسا ہوتا ہے تو ہم ہی پاکستانی سرحدوں کی حفاظت کریں گے‘۔

 دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے نئی حکمت عملی وضع کرنے کے حوالے سے بُش انتظامیہ کی سوچ پر وہ لابی حاوی ہوگئی ہے جس کی سوچ و فکر افغان صدر حامد کرزئی اور ان کے حواریوں سے مماثلت رکھتی ہے۔

انہیں تو یہ خوش فہمی بھی ہے کہ اگر پاکستان امریکہ کی حمایت ختم کر کے طالبان کو جدید اسلحہ فراہم کرے تو پھر امریکہ قبائلی علاقوں میں داخل ہونے کی جرات بھی نہیں کر سکے گا۔

ایک دوسرے کمانڈر کا کہنا ہے کہ ہم نے تو سانسیں روک رکھی ہیں کہ کب تک امریکہ اور پاکستان کا اتحاد ٹوٹتا ہے ’ ایک طرف تو ہم بےانتہا خوش ہیں مگر پھر پاکستان کی بے بسی دیکھ کر کسی معجزے کی رونما ہونے کی امید کھو بیٹھتے ہیں‘۔

طالبان کی امیدیں اور خوش فہمیاں اپنی جگہ لیکن اگر امریکہ نئی حکمت عملی اپنانے کی سوچ سے دستبردار ہو بھی جاتا ہے تو پھر بھی وہ پاکستان کو ایک ایسی صورتحال میں دھکیل دے گا جس سے نکلنا اس کے لیے مشکل ہوگا۔

وہ صورتحال یہ ہے کہ پاکستان کی جانب سے قبائلی علاقوں میں غیر ملکی جنگجؤوں اور طالبان کی موجودگی کے اعتراف کے بعد امریکہ صاف طور پر یہی کہہ سکتا ہے کہ اگر ہمیں کاروائی کی اجازت نہیں دی جاتی تو پھر پاکستانی فوج خود کاروائی کر کے قبائلی علاقوں سے دہشت گردوں اور ان کے مبینہ ٹھکانوں کا صفایا کر دے۔

مگر اس وقت حالت یہ ہے کہ اٹھارہ فروری کے انتخابات کے بعد طالبان سے خفیہ مذاکرات کے بعد باجوڑ کے علاوہ جنوبی اور شمالی وزیرستان سے پاکستانی فوج نکل آئی ہے اور اب وہاں پر اس کی موجودگی محض علامتی طور پر ہی ہے۔ فوج کو نئے سِرے سے اپنی حکمت عملی وضع کرنے کے بعد کارروائی کا آغاز کرنا ہوگا جس کے نتائج شاید منتخب حکومت کے لیے زیادہ اچھے نہیں ہوں گے۔

وزیرستان صورتحال
علاقے میں غیرملکیوں کی موجودگی حقیقت ہے۔
وزیرستان ’نقصان کا ازالہ‘
وزیرستان میں نقصان کے اندازے کے لیے کمیٹی
گھروں کو واپسی
وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والوں کی واپسی
بیت اللہ محسودبیت اللہ محسود
’بے نظیر قتل میں ملوث نہیں ہوں‘
وزیرستان آپریشن
’قبائلی علاقوں میں 400 ہلاک ہزاروں بےگھر‘
شدت پسندحامی یا مخالف
کیا ملا نذیر حکومت کے خلاف تیاری کر رہے ہیں
طالبان کا وزیرستان
ہارون کے کیمرے سے خصوصی تصاویر
اسی بارے میں
القاعدہ کے اہم رہنما ہلاک
31 January, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد