BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 24 September, 2008, 01:44 GMT 06:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’سرحدیں عبور کرنے کا حق ہے‘
رابرٹ گیٹس
رابرٹ گیٹس نے سینٹ کی آرمڈ کمیٹی کے سوالات کا جواب دیا
امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نےکہا ہے کہ دہشتگردوں کا پیچھا کرتے ہوئے سرحد عبور کرنا یو این منشور کے خلاف نہیں۔

وزیر دفاع نے کہا کہ امریکی فوجی اپنی حفاظت میں پاکستان کے اندر دہشگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا حق رکھتے ہیں لیکن دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ضروری ہے پاکستان میں اس اپنی مرضی سے شامل رہے۔

پاکستان کے صدر آصف زرداری نے ایک روز قبل این بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ امریکی فوجیوں کا پاکستانی سرحدوں کے اندر آنا اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی ہے۔

رابرٹ گیٹس نے کہا کہ شدت پسندوں کے خلاف کاروائیوں کے لیے پاکستان سے تعاون مزید بڑھانا چاہیے کیونکہ ان کی کاروائیوں سے پاکستان اور امریکہ کے وجود کو خطرہ ہے۔

امریکہ کے وزیر دفاع نے کہا ہے کہ اگلے سال موسم بہار سے پہلے افغانستان میں مزید فوج نہیں بھیجی جا سکتی۔

گزشتہ ہفتے افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر نے مطالبہ کیا تھا کہ دس ہزار مزید فوجی افغانستان بھیجے جائیں ـ مسٹر گیٹس کا کہنا تھا کہ افغانستان میں جاری لڑائی کے لیےصرف امریکی کمک بڑھانے پر انحصار نہیں کرنا چاہیے بلکہ اس کے لیے افغانستان کی اپنی فوج کو مزید مستحکم کیا جانا چاہئے اور اسلامی شدت پسندوں کے خلاف کاروائیوں کے لیے پاکستان سے تعاون مزید بڑھانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سرحد کے اندر بھی صورت حال ایسی ہی ہے جیسے عراق اور افغانستان میں ہے اس لیےاگر پاکستانی فوج کی طرف سے بھی کارروائی کی جائے تو اس کو پر زور ہونا چاہیے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس علاقے کی اقتصادی ترقی پر توجہ دینی چاہیِے۔ـ
رابرٹ گیٹس نے کہا کہ اگر امریکہ کو ا س وقت کہیں سے خطرہ ہے تو وہ پاکستان کے قبائلی علاقوں سے ہے ـ اس کے علاوہ انھوں نے کہا کہ پاکستان کی صورت حال افغانستان کی جنگ پر اثر انداز ہو رہی ہے۔

امریکی فوجیوں کو پنچایا جانے والا چالیس فیصد تیل اور اسی فیصد دوسرا سامان پاکستان کے راستے ہی افغانستان پہنچتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی وایس چیرمین آف جائنٹ چیف آف سٹاف جیمس کارٹ رائٹ نے بتایا کہ ہم پچھلے تین ہفتے سے متبادل راستہ ڈھونڈنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد