افغانستان کو تیل کی سپلائی بحال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے شمال مغربی علاقے میں ٹرک آپریٹرز نے کہا ہے کہ پاکستانی حکام نے پاک افغان کراسنگ پوائنٹ سے افغانستان تیل کی ترسیل کی اجازت دے دی ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان نے جمعہ کو افغانستان میں لڑنے والی اتحادی فوجوں کے لیے جانے والے تیل کی سپلائی کے روٹ کو بلاک کر دیا تھا اور ٹرک روک دیے گئے تھے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہوا کہ پاک افغان سرحد پر قائم اس اہم کراسنگ پوائنٹ کو کیوں بلاک کیا گیا تھا۔ لیکن ٹرک آپریٹرز نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اب حکام نے تیل کی ترسیل کی اجازت دے دی ہے۔ پاکستان کے نجی ٹی وی ڈان کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیرِ دفاع احمد مختار نے کہا کہ تیل ٹینکروں کو پاک افغان سرحد پر طورخم کراسنگ پوائنٹ پر روکا گیا ہے۔ اس سے قبل آنے والی اطلاعات کے مطابق بارڈر کو طالبان کی طرف سے تیل لے کر جانے والے ٹینکروں کے قافلے پر حملوں کی دھمکی کے بعد بند کیا گیا تھا۔ نیٹو کی سربراہی میں لڑنے والی فوج کے ترجمان نے کہا کہ ان کے پاس ایسی کوئی اطلاع نہیں ہے کہ ٹینکروں کو روکا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق بلوچستان کے علاقے چمن میں دوسرے کراسنگ پوائنٹ سے ترسیل بدستور اور معمول کے مطابق جنوبی افغانستان جا رہی ہے۔ | اسی بارے میں آئل ٹینکرز کی تباہی، سات گرفتار24 March, 2008 | پاکستان طورخم: تیل کے ٹینکرز پر حملے21 May, 2007 | پاکستان ننگرہار پر حملہ ہم نے کیا، طالبان14 June, 2008 | پاکستان ’بلوچستان میں آپریشن نہیں ہو رہا‘02 August, 2008 | پاکستان چمن: پاک نیٹو مشترکہ اجلاس27 July, 2007 | پاکستان پاک افغان گڈز ٹرانسپورٹر ہڑتال30 April, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||