پاک افغان گڈز ٹرانسپورٹر ہڑتال | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان اور افغانستان کے مشترکہ گڈز ٹرانسپورٹروں کی جانب سے شروع کی گئی ہڑتال چوتھے روز میں داخل ہوگئی ہے جس کی وجہ سے افغانستان کے بیشتر علاقوں میں روزمرہ اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کی اطلاعات ہیں۔ دوسری طرف ٹرانسپورٹروں نے دھمکی دی ہے کہ اگر ان کے مطالبات فوری طورپر تسلیم نہیں کیے گئے تو جمعہ سے اتحادی افواج کو تیل کی سپلائی بھی بند کردی جائیگی۔ گزشتہ جمعہ کو پاکستان اور افغانستان کے گڈز ٹرانسپورٹروں نے غیرمعینہ مدت تک ہڑتال کا اعلان کیا تھا جس کے بعد سے پاکستان سے افغانستان سامان لے جانے والی گاڑیوں کی آمد و رفت بند ہے۔ مشترکہ ٹرانسپورٹروں کے صدر شاکر آفریدی نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان سے طورخم کے راستے افغاستان جانے والے ٹرک ڈرائیوروں کو تنگ کیا جاتا ہے اور ان سے طورخم سے کابل تک جگہ جگہ ٹیکس اور رشوت کے نام پر بھاری رقومات وصول کی جاتی ہیں۔ ان کا کہناتھا کہ طورخم اور جلال آباد کے درمیان سڑک پر درجنوں چیک پوسٹیں قائم ہیں جس پر مقامی کمانڈر سامان لے جانے والی گاڑیوں سے محصولات کے نام پر غیرقانونی ٹیکس وصول کرتے ہیں جس سے ان سے نقصان ہورہا ہے۔
پاکستان سے طور خم کے راستے سامان سے بھری ہوئی گاڑیاں روزانہ سینکڑوں کی تعداد میں افغانستان جاتی ہیں جن میں خوراکی مواد اور ضرورت کی دیگر اشیاء ہوتی ہیں جو افغاستان کے مختلف علاقوں میں پہنچائی جاتی ہیں۔ تاہم گزشتہ چار دنوں سے گاڑیوں کی آمد و رفت بند ہونے کی وجہ سے افغانستان کے مختلف علاقوں میں روزمرہ کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کی اطلاعات ہیں۔ کابل میں بی بی سی عربی سروس کے نامہ نگار کفایت اللہ نبی خیل نے بتایا کہ پاکستان سے ان ٹرکوں کے بندش کے باعث کابل اور دیگر علاقوں میں کئی چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کابل میں پہلے ہی مہنگائی تھی جبکہ قیمتوں میں اضافے کی اس نئی لہر سے لوگوں کے مشکلات میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان دوطرفہ تجارت کی غرض سے روزانہ سینکڑوں ٹرک چلتے ہیں جن میں بڑی تعداد میں وہ ٹرک شامل ہیں جو پاکستان کے کراچی پورٹ سے افغانستان میں تعینات اتحادی افواج کے لیے روزانہ استعمال کی اشیاء پہنچاتے ہیں۔ افغانستان میں تعمیر نو کے عمل کے شروع ہونے کے بعد پاکستان اور افغانستان کے درمیان دو طرفہ تجارت میں کئی گناہ اضافہ ہواہے۔ |
اسی بارے میں خشک سالی سے مرتے افغان بچے22 November, 2006 | آس پاس افغانستان: ناامیدی میں اضافہ07 December, 2006 | آس پاس افیون کی کھیتی کا ریڈیو اشتہار بند 25 April, 2007 | آس پاس ’قبائلی علاقوں میں جاری عدم تحفظ‘ 23 February, 2007 | آس پاس ’امیر ممالک امداد دوگنا کریں‘06 December, 2004 | آس پاس ’پاکستان ہمیں غلام بنانا چاہتا ہے‘14 December, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||