چوری شدہ افغان سِکے برآمد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں حکام نے کہا ہے کہ انہوں نے گزشتہ روز چوری ہونے والے لاکھوں ڈالر مالیت کے افغان سِکے برآمد کر لیے ہیں۔ پاکستان میں ایک افغان سفارتکار نے کہا کہ انہیں بتایا گیا ہے کہ چوری شدہ سکے برآمد کر لیے گئے ہیں۔ افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے پاکستان سے لاکھوں ڈالر مالیت کی کرنسی کے سکے چوری ہونی کی شکایت کی تھی۔ سفارت کاروں کے مطابق کراچی سے چلنے والے دو ٹرالر جن میں تیس ٹن افغانی سکے لدے ہوئے تھے، جب پاکستان افغان سرحد تورخم پر پہنچے تو ان میں صرف نو ٹن سکے تھےجبکہ اکیس ٹن غائب ہو چکے تھے۔ افغان صدر حامد کرزئی نے جمعہ کو پاکستان کے صدر پرویز مشرف سے ٹیلیفون پر چوری ہونے والی افغان کرنسی کو برآمد کرنے میں مدد دینے کے لیے کہا تھا۔ جرمنی میں تیار ہونے والی افغانی کرنسی پاکستان کے راستے افغانستان لے جائی جا رہی تھی۔ پاکستان میں افغان سفارت کاروں نے بتایا ہے کہ کرنسی چوری کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ اس سے پہلے بھی پاکستان کے راستے افغانستان کو جانے والی چیزیں چوری ہو جاتی ہیں۔ سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ چور سر بمہر ٹریلروں کی سیلوں کو توڑ کر کرنسی چوری کر لیتے ہیں اور بعد میں جعلی سیلیں لگا دی جاتی ہیں۔ افغانستان کے امور کے ماہر رحیم اللہ یوسف زئی کے مطابق مسئلہ صرف افغان کرنسی کا نہیں ہے بلکہ افغانستان جانے والے کنٹینروں کی مہریں توڑنے اور چیزیں نکال کر پشاور کے بازاروں میں فروخت کرنے کا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||