BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 16 September, 2008, 13:25 GMT 18:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’امید ہے اب حملے نہیں ہوں گے‘
آصف زرداری
برطانوی اہلکار کہتے ہیں کہ صدرِ پاکستان نجی دورے پر برطانیہ آئے ہیں۔
پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے منگل کو برطانوی وزیرِ اعظم گورڈن براؤن سے ملاقات کی جس میں افغان سرحد سے متصل قبائلی علاقوں کی صورتِ حال پر غور کیا گیا۔

برطانوی وزیرِ اعظم نے لندن میں ڈاؤننگ سٹریٹ میں آصف زرداری کا استقبال کیا۔ اس ملاقات کے بارے میں برطانوی اہلکار کچھ کہنے سے گریزاں ہیں اور اس پر اکتفا کرتے ہیں کہ صدرِ پاکستان نجی دورے پر برطانیہ آئے ہیں۔

ملاقات کے بعد 10 ڈاؤننگ سٹریٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے آصف زرداری نے کہا: ’امید ہے کہ پاکستان میں اب امریکی حملے نہیں ہوں گے۔‘

ایک مشترکہ اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے پاک افغان سرحد کے علاقے میں انتہا پسندی کی صورتِ حال پر بات چیت کی اور نوٹ کیا کہ اس سے نہ صرف پاکستان بلکہ افغانسان میں برطانوی فوجیوں پر بھی برا اثر پڑ رہا ہے۔

بیان کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے عوام اس انتہا پسندی سے بہت متاثر ہوئے ہیں اور یہ کہ پاکستان اور افغانستان کی حکومتوں کو انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے کے لیے کوششوں کی سربراہی کرنا ہوں گی۔

’اس سلسے میں برطانوی وزیرِ اعظم نے افغان صدر حامد کرزئی اور پاکستان کے صدر آصف زرداری کے درمیان فوری ملاقات اور دونوں حکومتوں کے مابین بہتر تعاون کے امکانات کا خیر مقدم کیا‘۔

دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ خطے میں ایک مضبوط اور مستحکم جمہوریت امن کے فروغ کے لیے ضروری ہے ۔وزیرِ اعظم گورڈن براؤن نے اس حوالے سے برطانوی امداد کی ضرورت پر زور دیا۔

آصف زرداری اور گورڈن براؤن کے درمیان مذاکرات ایسے وقت ہوئے ہیں جب ’طالبان پاکستان سے افغانستان میں حملوں میں تیزی لا رہے ہیں‘۔

خبررساں اداروں کے مطابق اس مسئلے پر اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان اختلافات کی بھی خبریں ہیں۔گزشتہ دو ہفتوں میں پاکستان میں امریکی فوج نے پانچ مرتبہ حملہ کیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پاکستان میں اہلکاروں کا کہنا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے اپنی ملاقات میں قبائلی علاقوں میں القاعدہ اور طالبان کے ساتھ جھڑپوں پر بات چیت کرنا تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد