BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 06 September, 2008, 06:30 GMT 11:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زرداری بھاری اکثریت سے صدر منتخب

بختاور اور آصفہ
پاکستان کے نو منتخب صدر آصف زرداری اپنی بیٹیوں آصفہ اور بختاور کے ہمراہ

پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک سربراہ آصف علی زرداری بھاری اکثریت سے پاکستان کے بارہویں صدر منتخب ہو گئے ہیں۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ نتائج کے مطابق آصف زرداری نے چار سو اکیاسی، مسلم لیگ(ن) کے جسٹس (ر) سعید الزماں صدیقی نے ایک سو ترپّن جبکہ مسلم لیگ(ق) کے امیدوار سید مشاہد حسین نے چوالیس ووٹ حاصل کیے۔

آصف زرداری نے جیت کے بعد عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنے مختصر خطاب میں کہا کہ ’میں محترمہ بینظیر بھٹو کے وہ الفاظ دہراؤں گا کہ جمہوریت بہترین انتقام ہے‘۔ انہوں نے چاروں صوبوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ’جب جمہوریت بولتی ہے تو سب سنتے ہیں‘۔

نامہ نگار ذیشان ظفر کے مطابق اتوار کی رات چیف الیکشن کمشنر قاضی محمد فاروق نے صدارتی انتخاب کے حتمی سرکاری نتائج کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ آصف علی زرداری کو قومی اسمبلی اور سینیٹ سے دو سو اکیاسی ، پنجاب اسمبلی سے بائیس ، سندھ اسمبلی سے تریسٹھ ، سرحد اسمبلی سے چھپن جبکہ بلوچستان اسمبلی سے انسٹھ ووٹ ملے ہیں ۔

News image
میں محترمہ بینظیر بھٹو کے وہ الفاظ دہراؤں گا کہ جمہوریت بہترین انتقام ہے۔ جب جمہوریت بولتی ہے تو سب سنتے ہیں۔
آصف زرداری

مسلم لیگ نواز کے امیدوار جسٹس ریٹائرڈ سعید الزمان صدیقی کو قومی اسمبلی اور سینیٹ سے ایک سو گیارہ ، سندھ اسمبلی سے صفر ، سرحد سے پانچ ، بلوچستان سے دو اور پنجاب سے اسمبلی سے پینتیس ووٹ ملے۔

مسلم لیگ قاف کے صدارتی امیدوار مشاہد حسین سید کو قومی اسمبلی اور سینیٹ سے چونتیس ، پنجاب اسمبلی سے چھ ، سرحد اور بلوچستان اسمبلی سے دو دو ووٹ ملے جبکہ وہ سندھ اسمبلی سے کوئی ووٹ حاصل نہیں کر سکے۔

سرکاری اعلان کے مطابق کل پچیس الیکٹورل ووٹ ضائع ہوئے جن میں قومی اسمبلی اور سینٹ کے دس ، پنجاب اسمبلی کے دس ، سندھ اسمبلی کا ایک ووٹ ، سرحد کے چار ووٹ شامل ہیں جبکہ بلوچستان اسمبلی کا کوئی ووٹ ضائع نہیں ہوا۔

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ سندھ میں درست قرار دیے جانے والے تمام ووٹ آصف زرداری کو ہی ملے اور ان کے مخالف کوئی ووٹ حاصل نہ کر سکے۔

پارلیمان کے دونوں ایوانوں کی مشترکہ پولنگ قومی اسمبلی کے ہال میں ہوئی۔ چیف الیکشن کمشنر قاضی محمد فاروق نے جو ریٹرننگ افسر بھی ہیں مقررہ وقت صبح دس بجے سے چند منٹ کی تاخیر کے بعد کارروائی شروع کی اور اراکین کو قوائد سے آگاہ کیا۔

آصف زرداری کے انتخاب پر ایوانِ صدر کے باہر آتش بازی

انہوں نے بتایا کہ عام طور پر صدارتی انتخاب میں خفیہ رائے شماری کے لیے دو بوتھ قائم کیے جاتے ہیں لیکن اس بار ماہ رمضان کی وجہ سے تین بوتھ قائم کیے گئے۔

چیف الیکشن کمشنر نے سب سے پہلے مسلم لیگ (ق) کے سنیٹر عبدالغفار قریشی کا نام پکارا لیکن وہ اس وقت ایوان میں نہیں تھے اور پہلا ووٹ مسلم لیگ (ن) کے سنیٹر اقبال ظفر جھگڑا نے ڈالا۔

قائم مقام صدر محمد میاں سومرو نے، جو سینیٹ کے چیئرمین بھی ہیں، اپنا ووٹ ڈالا۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی ایوان میں موجود رہے۔صدارتی انتخاب کے موقع پر سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے اور پارلیمان کی عمارت کے اردگرد اور اندر پولیس کے ساتھ رینجرز بھی تعینات رہے۔ شاہراہ دستور کا ایک حصہ عام ٹریفک کے لیے بند کیا گیا۔

قبل ازیں پاکستان پیپلز پارٹی اور اتحادی جماعتوں کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس وزیراعظم کی صدارت میں ہوا۔ جس میں پہلی بار متحدہ قومی موومنٹ بھی شریک ہوئی جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کے صدر اسفند یار ولی خان، جے یو آئی، آزاد اراکین اور فاٹا کے بعض اراکین بھی شریک ہوئے۔

مسلم لیگ (ق) سے تعلق رکھنے والے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ جان محمد جمالی اپنی جماعت کے اجلاس میں جانے کے بجائے پیپلز پارٹی کے اجلاس میں شریک ہوئے۔

پی پی پی کی فرزانہ راجہ

ادھر مسلم لیگ (ق) کے فارورڈ بلاک کا علیحدہ اجلاس ہوا جس میں ریاض فتیانہ، کشمالہ طارق اور نصر اللہ بجارانی سمیت دو درجن کے قریب اراکین شریک ہوئے۔ ریاض فتیانہ نے کہا تھا کہ ان کےگروپ میں پچیس اراکین شامل ہیں اور انہوں نے آصف علی زرداری کو ووٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

ان کے مطابق جب وزیراعظم پنجاب کا ہے تو صدر چھوٹے صوبے کا ہونا چاہیے اور ان کی یہ بات پارٹی کی قیادت نے نہیں مانی اس لیے وہ بھی سید مشاہد حسین کو ووٹ دینے کے بارے میں پارٹی کی بات نہیں مانتے۔

صدارتی الیکشن کے موقع پر پارلیمان کے آس پاس آصف علی زرداری کی بڑی بڑی تصاویر اور بینر لگائے گئے ہیں، جن پر انہیں پیشگی مبارکباد دی گئی ہے۔

ادھر مظفر آباد میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی نے مسٹر آصف علی زرداری کے حق میں ایک قرارداد کثرت رائے سے منظور کی ہے۔پیپلز پارٹی کے مخالف حکمران جماعت مسلم کانفرنس کے اراکین نے بھی اس قرارداد کی حمایت کی۔

کشمیر کی قانون ساز اسمبلی پاکستان کے صدر کے انتخابی حلقے کا حصہ نہیں ہے۔ تاہم حزب مخالف اور حکمران جماعت کا کہنا ہے کہ یہ قرارداد اخلاقی حمایت دینے کے لیے منظور کی گئی ہے۔

اسی بارے میں
آصف علی زرداری کون؟
06 September, 2008 | پاکستان
’آصف سب کو ساتھ لیکر چلیں‘
06 September, 2008 | پاکستان
صدراتی انتخاب، کاغذات جمع
26 August, 2008 | پاکستان
صدر کا انتخاب چھ ستمبر کو
22 August, 2008 | پاکستان
’صدرآصف زردی ‘ مہم شروع
21 August, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد