اعجاز مہر بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
 | | | بختاور اور آصفہ کی آنکھیں نم ہوگئیں |
پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں ووٹنگ مکمل ہونے کے بعد ابھی نتیجہ نہیں آیا تھا کہ ایوان میں ’جیئے بھٹو‘، ’زندہ ہے بھٹو زندہ ہے‘، ’زندہ ہے بی بی زندہ ہے‘ کے نعرے گونجنا شروع ہوگئے۔ اس پر سید خورشید شاہ اور دیگر کو کئی بار مداخلت کرنا پڑی اور وہ گیلریوں میں بیٹھے مہمانوں اور ایوان میں اپنے اراکین کو خاموش رہنے کی اپیل کرتے رہے۔ ان نعروں میں شدت اس وقت آئی جب چیف الیکشن کمشنر نے آصف علی زرداری کی جیت کا اعلان کیا اور نعروں کی وجہ سے دیگر امیدواروں کو ملنے والے ووٹوں کا اعلان کرنے میں رکاوٹ پیدا ہوئی۔ گیلریوں میں آصف علی زرداری کی دونوں صاحبزادیاں بختاور اور آصفہ موجود رہیں ۔ بختاور نے اپنی مرحومہ والدہ بینظیر بھٹو کی تصویر اٹھا رکھی تھی اور ٹی وی کیمروں کے توجہ کا مرکز بنی رہیں۔ رکن اسمبلی فرزانہ راجہ اور بعض دیگر خواتین بختاور اور آصفہ سے بغلگیر ہو کر رو پڑیں۔ ایک موقع پر بختاور اور آصفہ کی آنکھیں بھی نم نظر آئیں لیکن وہ ساتھ ساتھ ’زندہ ہے بی بی زندہ ہے‘ کے نعروں کا جواب دینے کے لیے اپنی نشستوں سے اٹھ کر ہاتھ ہلا کر جواب دیتی رہیں اور خود بھی نعرے لگاتی رہیں۔ بختاور اور آصفہ کو سخت حفاظتی انتظامات میں گاڑیوں کے ایک قافلے میں اسمبلی لایا گیا اور اس موقع پر اسمبلی کے اندر اور آس پاس پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری تعینات کی گئی۔ شاہراہ دستور کا ایک حصہ عام ٹریفک کے لیے بند کیا گیا۔ پارلیمان کے باہر کچھ مقامات پر سید مشاہد حسین کی تصاویر بھی نظر آئیں لیکن بڑی تعداد میں آصف علی زرداری کی قدآور تصاویر اور بینر لگے نظر آئے۔ پیپلز پارٹی کے پرچم والے سائن بورڈ اور بینرز پر آصف زرداری کو صدر منتخب ہونے کی پیشگی مبارکبادیں لکھی تھیں۔ صدارتی انتخاب کا نتیجہ آنے کے ساتھ ہی پارلیمان ہاؤس کے باہر پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے جہاں خوشی میں نعرے لگائے وہاں رقص بھی کرتے رہے۔قومی اسمبلی اور سینیٹ کی پولنگ کے دوران وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی ایوان میں موجود رہے اور اپنے حامی اور مخالفین سے گلے ملتے رہے۔ |