’صدرآصف زردی ‘ مہم شروع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گورنر پنجاب اور پیپلز پارٹی کی صوبائی پارلیمانی پارٹی نے آصف زرداری کو پاکستان کی صدارت کے لیے موزوں ترین امیدوار قراردیتے ہوئے ان سے اپیل کی ہے کہ یہ عہدہ وہ خود سنبھال لیں۔ پیپلز پارٹی پنجاب کے عہدیداروں اور پارٹی کے اراکین صوبائی اسمبلی کا ایک مشترکہ اجلاس لاہور کے گورنر ہاؤس میں ہوا۔اس اجلاس میں پیپلز پارٹی لاہور کے عہدیداروں نے بھی شرکت کی۔ اجلاس کے بعد گورنر پنجاب سلمان تاثیر اور پیپلز پارٹی کے سینئیر صوبائی وزیر راجہ ریاض نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ اجلاس میں ایک متفقہ قرارداد منظور کی گئی ہے جس میں پارٹی کی سنیٹرل ورکنگ کمیٹی سے سفارش کی گئی ہے کہ وہ بھی آصف زرداری کو صدارت کے لیے نامزد کردے۔ راجہ ریاض نے کہا کہ ایک بھی رکن نے اس قرارداد کی مخالفت نہیں کی۔ پیپلز پارٹی کی سینٹرل ورکنگ کمیٹی کا اجلاس جمعہ کو اسلام آباد میں ہو رہا ہے اور اس خصوصی اجلاس میں صدر کے عہدے کےلیے امیدواروں کے نام فائنل کیے جانے ہیں۔ گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے کہا کہ پیپلز پارٹی پاکستان کی سب سے بڑی جماعت اور چاروں صوبوں میں اس کی نمائندگی ہے اس لیے صدارت اس کا حق ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ توقع رکھتے ہیں کہ ان کی اتحادی جماعتیں بھی آصف زرداری کو صدر بنانے کے فیصلہ کی حمایت کریں گی۔ انہوں نے کہا صدارت کا عہدہ خالی ہونے کے تیس دن کے اندر نئے صدر کا انتخاب ہونا ہوتا ہے اور پیپلز پارٹی پنجاب کی جانب سے یہ فیصلہ ہوچکا ہے کہ آصف زرداری پیپلزپارٹی کے امیدوار ہوں گے۔ گورنر پنجاب نے ایم کیوایم کے سربراہ الطاف حسین کی آصف زرداری کو صدر بنانے کی تجویز کا حوالہ دیا اور کہا کہ ’چاہے اس سے پہلے اعلان ہوا یا نہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ آصف زرداری کو صدر بنانے کے بارے میں باتیں ہوچکی ہیں اور آپ دیکھیں گے کہ آئندہ چند دونوں کے اندر ملک کی دوسری پارٹیاں بھی اس فیصلہ کی حمائت کا اعلان کریں گی۔‘ انہوں نے کہا کہ ’اگر کوئی پارٹی اپنا امیدوار لانا چاہے گی تو یہ ان کا جمہوری حق ہوگا۔‘ پریس کانفرنس کےدوران سلمان تاثیر سے سوال کیا گیا کہ خود ان کے گورنر ہونے پر اتحادی جماعت مسلم لیگ نون اور دیگر کو اعتراض ہے تو انہوں نے کہا کہ وہ پرویز مشرف کے نہیں بلکہ پیپلز پارٹی کےنمائندے ہیں۔ پپپلز پارٹی نے انہیں نامزد کیا تھا اور پرویز مشرف نے بطور صدر محض سمری پر دستخط کیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پیپلز پارٹی کی قیادت نےفیصلہ کیا تو وہ استعفی دینے میں تاخیر نہیں کریں گے لیکن کسی ’ایرے غیرے‘ کے کہنے پر مستعفی نہیں ہوں گے۔ واضح رہے کہ ججوں کی بحالی،پرویز مشرف کے مواخذے،گورنر پنجاب کی تبدیلی اور نئے صدر کے انتخاب ایسے معاملات ہیں جن پر ملک کی دوبڑی حکمران اتحادی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ مسلم لیگ نون کے رہنما احسن اقبال کہہ چکے ہیں کہ انہیں آصف زرداری کو صدر بنانے کے کسی فیصلے کےبارے میں پیپلز پارٹی نے آگاہ نہیں کیا ہے۔ مسلم لیگ نون کے صدر اور وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف نے ایک روز پہلے ہی میڈیا کو بتایا تھا کہ ان کیجماعت نے مختلف شخصیات کے نام صدر کے عہدے کے لیے پیپلز پارٹی کو تجویز کیے ہیں۔ انہوں نے جسٹس ریٹائرڈ فخر الدین جی ابراہیم،جسٹس ریٹائرڈ سعیدالزمان صدیقی اور عطاءاللہ مینگل کے نام میڈیا کو بتائے تھے۔ | اسی بارے میں صدر پیپلز پارٹی سےہو: اعتزاز18 August, 2008 | پاکستان ’صدارتی امیدوار پیپلز پارٹی سے‘18 August, 2008 | پاکستان پیپلز پارٹی نیا فاروق لغاری نہیں چاہتی19 August, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||