BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 19 August, 2008, 13:18 GMT 18:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پیپلز پارٹی نیا فاروق لغاری نہیں چاہتی

فریال تالپور
تالپور کے ڈرائیور اور خانساماں ایوان صدر جانے کی تیاریوں میں مصروف ہیں
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پیر کے روز اپنے والد اور پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے اس بیان کو دہرایا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ملک کے نئے صدر کا تعلق پیپلزپارٹی سے ہوگا۔

آصف زرداری نے پہلی بار دو ماہ قبل بینظیر بھٹو کی سالگرہ کے بعد نوابشاہ میں میڈیا سےاپنی گفتگو میں کہا تھا کہ نیا صدر سندھ دھرتی سے ہوگا۔ اس سے قبل انہوں نے لاہور میں کہا تھا کہ ایوان صدر میں گورنر پنجاب سلمان تاثیر جیسا کوئی جیالا صدر ہوگا۔

پرویز مشرف کے مستعفی ہونے کے بعد حکمران اتحاد کے رہنماؤں کی مشاورت اسلام آباد میں جاری ہے جس میں اطلاعات کے مطابق ججوں کی بحالی کے ساتھ ساتھ ملک کے نئے صدر کے نام پر بھی بحث کی جا رہی ہے۔

اسلام آباد کی سرگرمیوں سے دور سندھ کے شہروں اور صحراؤں میں عوامی بحث یہ کی جا رہی ہے کہ نیا صدر سندھ سے ہی کیوں ہوگا؟ پاکستان کے سیاسی ماضی میں ایوان صدر کا تعلق سندھ سے دور کے رشتہ داروں جیسا ہی رہا ہے۔

ایوان صدر کے ڈسے ہوئے وزیراعظم اسلام آباد کو سیاسی کوفہ سمجھتے ہیں۔ بینظیر بھٹو کے ایک جلسے میں شعر پڑھا گیا تھا کہ’اسلام آباد کے کوفے میں سندھ مدینے سے آئی ہوں۔‘

اسلام آباد، راولپنڈی اور ایوان صدر کے ڈسے ہوئے اکثر سیاستدانوں کا تعلق سندہ سے رہا ہے شاید اسی لیے ایوان صدر میں نئے چہرے کے داخل ہونے کو وزیراعظم کے انتخاب سے بھی زیادہ عوامی دلچسپی سے دیکھا جا رہا ہے۔

اٹھارہ فروری کے انتخابات کے بعد جب اقتداری کرسیوں کی تقسیم کی گئی تھی تو آصف علی زرداری کو اپنی پارٹی کےاندر بھی ایک تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا کہ انہوں نے اس تقسیم میں اپنے آبائی صوبہ سندھ کو پیچھے رکھ دیا ہے۔

وزیراعظم اور وفاقی وزارتوں کےحساب نکال کر آصف پر تنقید کی گئی تھی کہ انہوں نے سندھ کو نظرانداز کر دیا ہے۔ اس وقت آصف کے پاس صرف ایک ہی جواب تھا کہ انہوں نے سندہ کی ایک خاتون کو پہلی بار قومی اسمبلی کا سپیکر متنخب کروایا ہے۔

اگر ڈومیسائل کے حساب سے دیکھا جائے تو مواخذے کی کارروائی سے چند گھنٹے پہلے مستعفی ہونے والے صدر پرویز مشرف کا تعلق بھی صوبہ سندھ سے ہے مگر ان پر اقتدار پر قبضہ کرنے اور آمریت کی چھاپ لگی ہوئی ہے۔ جبکہ قائم مقام صدر محمد میاں سومرو کا تعلق بھی جیکب آباد سندھ سے ہے مگر عارضی ہیں ۔

سیاسی تجزیہ نگاروں کےمطابق ستر کی دہائی میں بنگال کی علیحدگی کے بعد باقی ماندہ ملک کو سنبھالنے کے لیے پاکستان پیپلزپارٹی کے بانی چیئرمین ذولفقار علی بھٹو کو نیا صدر مقرر کیا گیا تھا۔ مگر وہ بھی منتخب صدر نہیں تھے۔

اگر نئے صدر کا تعلق سندھ سے ہوگا جیسے پیپلزپارٹی کے سربراہان کہہ چکے ہیں تو وہ ملک کا پہلا منتخب صدر ہوگا یا ہوگی۔

پیپلزپارٹی کے تمام رہنماء نئے صدر کے نام پر عجیب مسکراہٹ کے ساتھ خاموش ہیں جیسے وہ نام تو جانتے ہیں مگر کسی دوسرے کی زبان سے سننا چاہتے ہوں۔

پیپلزپارٹی کے دو صوبائی وزراء جن میں ایک خاتون بھی شامل ہیں اور تین رکن قومی اسمبلی سے بی بی سی نے رابطہ کیا مگر تمام رہنماؤں نے اپنے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط رکھی پھر کھل کر بات کی۔

ایک خاتون صوبائی وزیر نے کہا ’ایوان صدر میں ادی فریال‘ بیٹھے گی اور کون ہوگا۔‘ سندھی زبان میں بہن کو ادی کہتے ہیں اور آصف زرداری کی بہن فریال تالپور کو پارٹی کے تمام رہنماء احترام سےادی فریال کہتے ہیں۔

پیپلزپارٹی کے ایک رکن قومی اسمبلی نے کہا کہ لاڑکانہ بینظیر کا حلقہ اتنا عام بھی نہیں کہ اسے نظرانداز کردیا جائے۔اگر وزیر اعظم نہیں تو صدر تو وہاں سے ہوگا۔ انہوں نے فریال تالپور کی طرف اشارہ کیا جو لاڑکانہ سے بینظیر بھٹو کے آبائی حلقے سے بلا مقابلہ کامیاب ہوئی ہیں۔

آفتاب شعبان میرانی
آفتاب شعبان میرانی بھی میدان میں ہیں مگر پی پی رہنماء کے مطابق فیصلہ میرانی کےحق میں نہیں ہوگا

سندھ سے ایک اور رکن قومی اسمبلی کے مطابق سندھ سے صدارت کے لیے دو امیدواروں کا انٹرویو ہوگا۔ فریال تالپور کے ساتھ آفتاب شعبان میرانی بھی میدان میں ہیں مگر پی پی رہنماء کے مطابق فیصلہ میرانی کےحق میں نہیں ہوگا۔

انہوں نے پارٹی کے فیصلوں کی اندرونی منطق سمجھاتے ہوئے کہا کہ سندھ میں بینظیر بھٹو کی پارٹی اسٹیبلشمنٹ تین بندوں پر مشتمل ہے۔ جن میں سے ایک سید قائم علی شاہ کو انہوں وزیر اعلٰی بنا دیا ہے، دوسرے علی نواز شاہ کو صوبائی وزیر بنایا ہے اور آفتاب شعبان کو کسی دوسری جگہ ایڈجیسٹ کردیں گے۔

پیپلز پارٹی کے اندرونی حلقوں میں یہ اطلاعات گردش کر رہی ہیں کہ فریال تالپور کی صورت میں بینظیر بھٹو کے بچے ایوان صدر پہنچ جائیں گے، کیونکہ وہ ان کی قانونی وارث ہیں اور اسی وجہ سے تینوں بچوں کو دبئی سے اسلام آباد طلب کیا گیا ہے۔

ایوان صدر میں لاڑکانہ سےمنتخب خاتون اگر نئے صدر کی حیثیت میں داخل ہوتی ہیں تو سندھ میں آصف زرداری پر کی گئی تنقید میں کمی ضرور ہوگی۔ مگر پاکستان کے سیاسی جنگل میں جاری دنگل کچھ نیا بھی ہوسکتا ہے ۔

آصف علی زرداری کی اشاروں کنایوں کی باتوں کو اکثر تجزیہ نگار سنجیدگی سے نہیں لیتے کیونکہ بینظیر بھٹو کی حالیہ سالگرہ کےموقع پر انہوں نے نوڈیرو ہاؤس میں لائیو کی گئی پریس کانفرنس میں ایک صحافی کے نئے صدر کےحوالے سے کیے گئے سوال کو مذاق میں اچھالتے ہوئے اس رپورٹر کو کہا تھا نئے صدر کی شکل آپ کی شکل سے ملتی جلتی ہے۔ جب وہ رپورٹر ہنس پڑے تو آصف نے کہا وہ ہنستے بھی آپ کی طرح ہیں تو رپورٹر نے فوراً کہا سر پھر میرے ہمشکل سے پہلے مجھے ہی صدر کیوں نہیں بنا لیتے۔

پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ آصف زرداری جانتے ہیں کہ نیا صدر جو بھی ہو مگر وہ نیا فاروق لغاری ایوان صدر نہیں بھیجیں گے۔

آصف زرداری کا سیاسی فیصلہ کیا ہو گا مگر سندھ سے تمام لوگ بشمول فریال تالپور کے ڈرائیور اور خانساماں ایوان صدر جانے کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔

آئینِ پاکستانآئین کیا کہتا ہے
صدر کا مواخذہ کن وجوہات پر ہو سکتا ہے
زرداری کا انٹرویو
زرداری ایوان صدر سے تصادم کے راستے پر؟
بش اور مشرفمشرف کی حمایت
صدر مشرف کا کردار جاری رہے گا: جارج بُش
مشرفاقتدار کے ایوانوں میں
ایوان صدر اور پارلیمان میں احتیاط کا راج
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد