صدر کے انتخاب میں ووٹ کا حق کس کو؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدارتی انتخاب کا الیکٹورل کالج پارلیمنٹ یعنی قومی اسمبلی اور سینیٹ کے علاوہ چاروں صوبائی اسمبلیوں کے کل گیارہ سو ستر ارکان پر مشتمل ہوتا ہے لیکن ان میں سے ہر رکن کا ایک ووٹ شمار نہیں کیا جاتا۔ آئین میں درج طریقہ کار کے مطابق صدارتی انتخاب کے لیے سب سے چھوٹی اسمبلی یعنی بلوچستان کی صوبائی اسمبلی کی مناسبت سے ہر صوبائی اسمبلی کے پینسٹھ ووٹ شمار ہوتے ہیں جبکہ سینیٹ اور قومی اسمبلی کے ہر رکن کا ایک ووٹ گنا جائے گا۔ اس طرح مجموعی ووٹوں کی تعداد سات سو دو بنتی ہے۔ ان میں اس اکثریتی ووٹ حاصل کرنے والا امیدوار ملک کا صدر منتخب ہو گا۔ نئے صدر کے انتخاب کے لیے ووٹنگ قومی اسمبلی اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں صبح دس سے شام تین بجے تک ہوگی۔اسلام آباد کے پارلیمنٹ ہاؤس میں پرزائیڈنگ افسر چیف الیکشن کمشنر قاضی محمد فاروق ہوں گے جبکہ چاروں صوبائی اسمبلیوں کے پرزائیڈنگ افسران متعلقہ صوبے کے ہائی کورٹ کے چیف جسٹسز ہوں گے۔ آئین میں درج طریقے کے مطابق پریزائڈنگ آفیسر ہر رکن کو اسکی متعلقہ اسمبلی ہال کے اندر ایک بیلٹ پیپر فراہم کرے گا جس میں تینوں امیدواروں کے نام چھپے ہوں گے۔ ہر رکن خفیہ طریقے سے اپنے پسندیدا امیدوار کے نام کے سامنے نشان لگا کر اسکے حق میں اپنا ووٹ دے گا۔ یہ بیلٹ پیپر پریزائڈنگ آفیسر کے سامنے پڑے ہوئے بیلٹ بکس میں ڈالا جائے گا۔ پولنگ کا مقررہ وقت ختم ہونے کے بعد ہر پریزائڈنگ افسر انتخاب لڑنے والے امیدواروں یا انکے نمائندوں کے سامنے بیلٹ بکس کھولے گا اور اس میں موجود ووٹ ان افراد کے سامنے گنے جائیں گے۔ ووٹوں کی اس گنتی سے چیف الیکشن کمشنر کو آگاہ کیاجائے گا۔ چیف الیکشن کمشنر چاروں صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ اور قومی اسمبلی کے ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد انہیں اکٹھا کریں گے اور زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے کو منتخب قرار دیں گے۔ اگر دو یا زیادہ امیدوار ایک جتنے ووٹ حاصل کریں تو فیصلہ قرعہ اندازی کے ذریعے ہو گا۔ چیف الیکشن کمشنر گنتی مکمل ہونے کے بعد منتخب امیدوار کے نام کا اسی وقت قومی اسمبلی میں اعلان کریں گے اور اس سے وفاقی حکومت کو بھی آگاہ کریں گے جو ان نتائج کا سرکاری اعلان کرے گی۔ نو منتخب صدر سے ملک کے چیف جسٹس آئین میں درج حلف لیں گے۔ |
اسی بارے میں سیاسی جوڑ توڑ عروج پر پہنچ گیا05 September, 2008 | پاکستان صدارتی انتخاب اور سیاسی جوار بھاٹا05 September, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||