صدارتی انتخاب اور سیاسی جوار بھاٹا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سربراہ مملکت کے لیے انتخاب کا مرحلہ آن پہنچا۔ گیارہ برس بعد یہ پہلا صدارتی انتخاب ہے جس میں کوئی وردی پوش جنرل حصہ نہیں لے رہا۔ اطلاعات کے مطابق پیپلز پارٹی کے امیدوار آصف علی زرداری کو صدر کے انتخابی ادارے میں واضح اکثریت حاصل ہے۔ تاہم اس دوران ذرائع ابلاغ میں آصف زرداری کی بطور صدر موزونیت پر بحث شروع ہو گئی ہے۔ کردار کشی کی اس مہم کا پاکستان میں سیاسی عمل اور سیاسی مکالمے کے ارتقا سے گہرا تعلق ہے۔ آئینی اور سیاسی اعتبار سے آصف زرداری کے انتخاب پر انگلی اٹھانا مشکل ہے۔ آصف زرداری ملک کی سب سے بڑی جماعت کے غیر متنازع رہنما ہے جسے پارلیمنٹ میں تمام سطحوں پر نمائندگی حاصل ہے۔ ماضی میں اُن پر درجنوں مقدمات بنائے گئے اور اُنھوں نے قریب گیارہ برس قید بھی کاٹی لیکن اُن پر کوئی الزام ثابت نہیں ہو سکا۔ سیاسی حلقوں میں ایسے مقدمات کو سیاسی انتقام شمار کیا جاتا ہے۔ 2004ءمیں جب انہیں رہا کیا گیا تھا تو اُس وقت کے وزیر اعلیٰ سندھ ارباب غلام رحیم نے دعویٰ کیا تھا کہ اگر حکومت چاہتی تو آصف زرداری پر بکری چوری کا مقدمہ ڈال کر اُنہیں مزید قید رکھا جا سکتا تھا۔ اصل قصہ آصف زرداری کی قانونی اہلیت اور شخصی موزونیت کا نہیں ہے۔ فوجی آمریت کے بعد نو زائیدہ جمہوری عمل کے دوران ہیئت مقتدرہ اور سیاسی قیادت میں تعلقات نازک مرحلے سے گزر رہے ہیں۔
دوسری طرف سیاسی قوتوں میں پرانی کش مکش کے آثار پھر سے سر اُٹھا رہے ہیں۔ میاں نواز شریف کی سیاست توقع کے عین مطابق تیزی سے دائیں بازو کی طرف بڑھ رہی ہے۔ پاکستان میں ہیئت مقتدرہ صدر اور وزیر اعظم کے اختیارات میں توازن کے نام پر پارلیمانی جمہوریت کا دھڑن تختہ کرتی چلی آئی ہے۔ آصف زرداری نے وزیر اعظم کی بجائے صدر بننے کا فیصلہ کیا ہے تو حقیقی پارلیمانی جمہوریت کے مخالف حلقے میں ہلچل قابلِ فہم ہے۔ بظاہر آصف زرداری پر لیکن دراصل جمہوری تجربے پر اِس چاند ماری کے سرخیل کالم نویسوں کے فکری پس منظر سے واضح ہے کہ اِس مہم کے پس پردہ کون عناصر ہیں۔ ایک انگریزی اخبار کے تجزیہ نگار نے تو فوج کو کھلم کھلا مداخلت کی دعوت دی ہے۔ موصوف کا دعویٰ یہ ہے کہ سیاسی اصطبل میں بہت سی گندگی ہے جسے صاف کرنا بد دیانت اور نااہل سیاست دانوں کے بس کا روگ نہیں چنانچہ فوج اِس مرتبہ اپنی بندوقوں کو قوم کی خدمت کے لیے بروئے کار لائے۔ پاکستان کے شہری گذشتہ پچاس برس سے بندوقوں کو قوم کی خدمت کرتے دیکھ رہے ہیں۔ اس تبصرے سے دوسرے روز ایک سینئر اردو صحافی نے اسی انگریزی تجزیے کا حرف بحرف ترجمہ پیش کرتے ہوئے اس کی واضح تائید کی۔ اگر آئین میں گمبھیرملکی مسائل کا کوئی حل نہیں اور سیاسی قیادت قومی مسائل حل کرنے کی صلاحیت سے عاری ہے تو پھر ہنگامی بنیادوں پر عارضی مدت کے لیے فوج کو بلاوا کیوں؟ مناسب ہو گا کہ آئین کو لپیٹ کر فوج کومستقل طور پر حکومت سونپ دی جائے۔ اگر فوج نے مسائل حل کرنا ہیں تو پھر جمہوری عمل کا جھنجھٹ ہی کیوں پالا جائے؟ البتہ یاد رہے کہ فوجی حکومت کے ہر تجربے سے پاکستان کا وفاق کمزور ہوا ہے۔ صحافی موصوف نے ملک کو درپیش مذہبی بغاوت کا ذکر کیے بغیر مطالبہ کیا ہے کہ ملکی اور غیر ملکی قوتوں کے ساتھ تمام مفاہمت ختم کر دی جائے۔ آصف زرداری نے معروضی حقائق کے ساتھ سیاسی مفاہمتوں کی نوعیت بدلنے کی بات کی تھی۔ اِس پر قرآن، حدیث اور تاریخ کھنگالتے ہوئے بدعہدی کے طعنے دیے گئے۔ زرداری نے ایک بنیادی سیاسی اصول یعنی طویل مدتی نصب العین اور فوری حکمتِ عملی کے توازن کا ذکر کیا تھا۔ سیاست طویل مدتی مقاصد کو قابل تفہیم فوری اقدامات کی لغت میں ڈھالنے کا نام ہے۔ معروضی حقائق کا ادراک کرتے ہوئے پیچیدہ معاشی، ثقافتی اور آئینی قوتوں میں توازن قائم رکھنے کا عمل ہے۔ سیاسی رہنماوں کی شخصی خصوصیات کا کردار اپنی جگہ، لیکن یہ سمجھنا کہ کوئی ایک عامل تمام واقعات کو ہمیشہ اپنی مرضی کے تابع رکھ سکتا ہے، سادہ لوحی ہے۔ کسی سیاسی رہنما کے لیے اقتدار کی خواہش رکھنا ناجائز نہیں۔ آئینی جواز، قانونی احتساب اور عوامی جواب دہی پر مبنی اقتدار قومی ترقی کی ضمانت دیتا ہے۔ آمریت ان نزاکتوں سے بے نیاز ہوتی ہے۔ پاکستان کو سنگین معاشی اور معاشرتی بحرانوں کا سامنا ہے۔ وفاق کے تار و پود کمزور پڑ رہے ہیں۔ مذہب کے نام پر ریاست کو یرغمالی بنانے کے در پے عناصر روزبروز طاقت پکڑ رہے ہیں۔ عوام کے معیارِ زندگی کو بلند کرنے کا چیلنج بھی درپیش ہے۔ شاید یہی وقت ہے کہ پاکستان کے باشندے قوم کی تعمیر کو ایک اہم، پیچیدہ، طویل اور بنیادی ذمہ داری کے طور پر قبول کریں۔ اِس کے لیے سیاسی بصیرت اور موزوں حکمت عملی کے ساتھ اپنی تحدیدات اور امکانات کی درست تفہیم درکار ہے۔ اگر آصف زرداری قانونی طور پر صدربننے کے اہل ہیں اور آئین کے مطابق انہیں اِس منصب کے لیے منتخب کیا جاتا ہے تو اُن کی بلاوجہ کردار کشی کی بجائے اُن کے ہاتھ مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم نے نصف صدی تک نہایت ذہین، تربیت یافتہ اور مدبّر فوجی حکمرانوں کے ہاتھوں زَک اُٹھائی ہے۔ اب سیاسی قیادت کو موقع دینا چاہیے کہ وہ جمہوری معاشرے کی بنیادیں مضبوط کر سکے۔ | اسی بارے میں صدراتی انتخاب، کاغذات جمع26 August, 2008 | پاکستان ’صدر کا کردار علامتی ہونا چاہیے‘25 August, 2008 | پاکستان آصف زرداری صدر بننے پر رضامند23 August, 2008 | پاکستان صدر کا انتخاب چھ ستمبر کو22 August, 2008 | پاکستان ’صدرآصف زردی ‘ مہم شروع21 August, 2008 | پاکستان ’صدر کے خطاب کی تیاریاں مکمل‘ 18 August, 2008 | پاکستان صدر مشرف کے خطاب کا متن18 August, 2008 | پاکستان صدر کا خطاب شروع، کارکردگی کا دفاع18 August, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||